شق نمبر 248کے تحت قومی اسمبلی فاٹا کء معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی : صلا ح الدین

شق نمبر 248کے تحت قومی اسمبلی فاٹا کء معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی : صلا ح ...

  



جمرود ( نمائندہ خصوصی)آئین کے شق نمبر 248 کے تحت قومی اسمبلی فاٹا کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی ہم فاٹا کے اصلاحات کے مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی ایف سی آر کے حامی ہیں لیکن قبائلی عوام فاٹا کو ایک الگ صوبے کی صورت میں دیکھنا چاہتی ہیں اور اس کے لئے ہر گز تیار نہیں ہیں کہ فاٹا کے پی کے میں ضم ہو جائے کیونکہ ہماری آبادی اتنی ہے کہ ہم اپنے لئے ایک الگ صوبہ بنا سکتے ہیں اور یہ ہمارا حق بھی ہے ان خیالات کا اظہار ملک صلاح الدین اپنے دیگر ساتھیوں غازی خان اور زیور جان نے جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں 23دسمبر کواسلام آباد میں ہونیوالے عظیم الشان جلسے میں فاٹا بھر کے تمام قبائیلی بھرپور شرکت کرینگے، مولانا فضل الرحمان اس جلسے کے دوران فاٹا کے مستقبل کے حوالے اہم اعلانات بھی کرینگے۔فاٹا میں سب سے پہلے امن و امان کو یقینی بنایا جائے، ٹی ڈی پیز بحالی کا کام تیز کیا جائے، تباہ شدہ مکانات کا منصفانہ سروے کرکے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، نوجوانوں کو روزگار دی جائے، تعلیمی و صحت کے مراکز تعمیر کی جائے، ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جائے اور پھر قبائیلی عوام سے فاٹا کے مستقبل کے حوالے رائے لے کر اصلاحات لائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ائین کے شق نمبر 248کے تحت قومی اسمبلی کو فاٹا کے امور کے حوالے سے مداخلت نہیں کرسکتی یہ اختیار صرف صدر مملکت کے پاس ہے لیکن اس میں بھی قبائیلی عوام کی رائے لینا شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ جب فاٹا کے اصلاحات ہو رہے ہیں تو ہمیں حکومت نے نظر انداز کر دیا ہے جو فاٹا کے لوگوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے۔

Ba

مزید : پشاورصفحہ آخر