خیبر پختونخوا تعلیمی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں سرفہرست

خیبر پختونخوا تعلیمی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں سرفہرست

  



پشاور (سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت کی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اصلاحات اور کارکردگی کا اعتراف الف اعلان کے پانچویں ملک گیر اضلاع کی سطح پر سروے میں خیبر پختونخوا بازی لے گیاجس کا باقاعدہ اعلان گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں ملک کے10ٹاپ اضلاع میں8اضلاع خیبر پختونخو کے ہیں جبکہ پورے ملک کی سطح پر ہری پور نمبر۔ون پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ سکولوں میں صاف پانی کی فراہمی میں10 ٹاپ اضلاع میں خیبر پختونخوا کے 5اضلاع شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ٹائیلٹس اور باؤنڈری وال کی فراہمی میں10ٹاپ اضلاع میں6اضلاع خیبر پختونخوا کے ہیں۔ مڈل سکولوں کی انفراسٹرکچر کی فراہمی میں ملاکنڈ ملک بھر میں ٹاپ پوزیشن پر ہے جبکہ صوابی دوسرے نمبر پر ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں78660سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کیلئے22.7ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کی۔150 پلے گرؤنڈز تعمیر کئے،10ہزار سکولوں میں کھیلوں کیلئے جگہ فراہم کی،14لاکھ طلباء و طالبات کیلئے فرنیچر کی سہولت مہیا کی گئی۔ اسی طرح سکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کیلئے40ہزار اساتذہ کی بھرتی کی گئی جبکہ17ہزار مزید اساتذہ کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ مزید برآں83ہزار اساتذہ کو انگریزی مضامین پر دسترس حاصل کرنے کیلئے خصوصی تربیت دی گئی۔سکولوں میں آئی ٹی لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا گیاتاکہ سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کو جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار کیا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے کہا کہ ساڑھے چار سال کی انتھک محنت سے پاکستان تحریک انصاف حکومت تعلیمی شعبے کے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں پورے ملک میں سرفہرست رہا ہے جو ایک اعزاز کی بات ہے۔ تاہم ہماری کوشش ہے کہ تعلیمی معیار میں بھی سرکاری سکولوں کا معیار بلند کیا جائے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین تفاوت دور کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کارکردگی میں بہتری کی اصل وجہ تمام شعبوں بالخصوص تعلیمی شعبے سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہے۔ بھرتیوں، تقرریوں اور تعیناتیوں کے عمل میں شفافیت لائی گی۔ بائیومیڑک نظام متعارف کرانے کی وجہ سے اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی گئی۔ لڑکیوں کی تعلیم حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ تعلیمی بجٹ کا 70فیصد حصہ لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مختص کیا گیا ہے جبکہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلباء وطالبات کو سکالرشپ بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اچھی کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کیلئے نقد انعامات بھی دیے جا رہے ہیں۔تقریب میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک ، وزیر تعلیم پنجاب رانا مشہود، ایم این اے شازیہ مری، سینیٹر عائشہ فاروق، ماہرمعاشیات ڈاکٹر نعیم الحق اور قومی و بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...