دبئی میں اِس غیر ملکی ملازم کا بٹوا چوری ہو گیا، لیکن پھر اُس کے بعد کیا ہوا؟ ایسی آفت ٹوٹ پڑی کہ کوئی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتا کہ اتنے سے نقصان کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے

دبئی میں اِس غیر ملکی ملازم کا بٹوا چوری ہو گیا، لیکن پھر اُس کے بعد کیا ہوا؟ ...
دبئی میں اِس غیر ملکی ملازم کا بٹوا چوری ہو گیا، لیکن پھر اُس کے بعد کیا ہوا؟ ایسی آفت ٹوٹ پڑی کہ کوئی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتا کہ اتنے سے نقصان کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے

  



دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک)بٹوا چوری ہونا اگرچہ ہر کسی کے لئے پریشان کن واقعہ ثابت ہوتا ہے لیکن متحدہ عرب امارات میں مقیم اس غیر ملکی کے لئے تو بٹوہ کھونا تو ایسا تباہ کن ثابت ہوا کہ بیچارے کی زندگی ایک ڈراﺅنا خواب بن کر رہ گئی ہے۔ بٹوہ کیا چوری ہوا اس کی تو زندگی بھر کی پونجی اور حتٰی کہ شناخت بھی چھن گئی ہے اور گزشتہ چار ماہ سے زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔

گلف نیوز کے مطابق چار اگست کی رات محمد فاروق نامی اس بدقسمت شخص کو ایک ایس ایم ایس موصول ہوا کہ ان کے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم نکالی گئی ہے۔ پھر انہیں یکے بعد دیگر ے کئی ایس ایم ایس موصول ہونے لگے اور کچھ ہی وقت میں ان کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے 19 ہزار درہم نکلوائے جا چکے تھے۔ یہ تمام رقم محض چند منٹ کے دوران نکلوا لی گئی تھی ۔

’مسلمانوں کے ہاتھ سے مکہ بھی نکل جائے گا اگر۔۔۔‘طیب اردگان نے تہلکہ خیز اعلان کر دیا، پوری مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

محمد فاروق نے دیکھا کہ ان کا پرس کہیں بھی نہیں تھا۔ جب تک کہ وہ پولیس کو اپنے پرس کی گمشدگی کی خبر کرتے تب تک نقصان ہو چکا تھا ۔ فاروق کا کہنا ہے کہ وہ شام 7 بجے محیسنہ کے علاقے میں خریداری کیلئے گیا تھا اور غالباً وہاں سے واپسی کے دوران ان کی جیب سے پرس نکال لیا گیا تھا۔ ان سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ اپنے پرس میں کارڈ تو رکھا تھا لیکن ساتھ اس کا اے ٹی ایم پن بھی رکھا ہوا تھا۔

وہ خبر آگئی جس کا ڈر تھا، اسرائیلی فوج نے ایران کے اہم ترین اثاثے پر حملہ کر دیا اور پھر۔۔۔

صرف ہزاروں درہم کا نقصان ہی نہیں برداشت کرنا پڑا بلکہ اگلی صبح مزید مصائب ان کے منتظر تھے ۔ انہیں موبائل فون کمپنی کی جانب سے میسج موصول ہوا کہ ان کے نام پر 5 پوسٹ پیڈ سم کارڈ اور 37 سو درہم کا سمارٹ فون خریدا گیا ہے ۔ محمد فاروق کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 ماہ سے ان کی زندگی ایک عذاب بن چکی ہے کیونکہ بھاری مالی نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے اور ہر وقت یہ خدشہ بھی لاحق رہتا ہے کہ ان کے نام پر کیا جانے والا کوئی فراڈ یا جرم ان کیلئے مزید مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔وہ اپنی اماراتی آئی ڈی ، ڈرائیونگ لائسنس ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ ، فری زون ایکسیپٹ کارڈ ، دو ڈیبٹ کارڈ اور چار کریڈٹ کارڈ ، جن کی مجموعی مالیت 50 ہزار تھی ، کھو چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس