شعبدہ باز ایک ولی کامل کوقبرستان لے گیا اور کہا ’’ میں سو سالہ مُردہ کو زندہ کردیتا ہوں ‘‘ اسکے پکارنے پر جب قبر سے آواز آگئی تو ولی کامل نے جواب میں وہ کام کردکھایا کہ مُردہ قبر سے باہرہی نکل آیااور ایسا انکشاف کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی

شعبدہ باز ایک ولی کامل کوقبرستان لے گیا اور کہا ’’ میں سو سالہ مُردہ کو زندہ ...
 شعبدہ باز ایک ولی کامل کوقبرستان لے گیا اور کہا ’’ میں سو سالہ مُردہ کو زندہ کردیتا ہوں ‘‘ اسکے پکارنے پر جب قبر سے آواز آگئی تو ولی کامل نے جواب میں وہ کام کردکھایا کہ مُردہ قبر سے باہرہی نکل آیااور ایسا انکشاف کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی

  



علوم مخفی اور جنات و موکلان کے ذریعے شیطانی اعمال کرنے والے جہاں کمزور عقیدہ مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں وہاں وہ اللہ کے حقیقی بندوں کے بارے بھی بہتان قائم کرتے اور انکی شہرت کو داغدار کرتے ہیں۔ایسے شعبدہ بازوں نے ولی اللہ اورشعبدہ باز میں فرق کو الجھا رکھا ہے۔ حضرت علی عثمان ہجویری داتا گنج بخشؒ فرماتے تھے کہ کامل بزرگ وہ ہے جو اللہ اور رسول اللہﷺ کی اتباع کرے،عقلوں کو مسخر کرنے والے پر ایمان نہیں رکھنا چاہئے اگرچہ وہ ہواؤں میں بھی کیوں نہ اڑ کر دکھاتا ہو۔بلاشبہ اللہ کے اولیا عظام نے کبھی ایسی کرامت یا خوارق کا اظہار نہیں کیا جس کا مقصد عقلوں کو مسخر کرنا ہوتا تھا ،وہ انسانیت کی خدمت اور ایمان کاملہ کے ظہور کے لئے اللہ کے اذن سے ایسے کمال دکھا دیتے تھے۔خزینۃ الاصفیہ میں لاہور کے ایک بزرگ کامل کا ذکر کیا گیا ہے جو بد عقیدہ اور مشرکانہ عقائید والوں کی اصلاح کیا کرتے تھے۔یہ مشائخ قادریہ کے شیخ عبداللہ شاہ بلوچ قادری لاہوریؒ تھے جو بڑے عظیم المرتبت تھے۔ صاحب علم و فضل تھے۔ زہد و تقویٰ اور عبادت وریاضت میں ممتاز الوقت تھے۔آپؒ نے کئی گمراہ عاملوں کو راہ راست دکھائی۔بیان کیا جاتا ہے کہ ، ایک شخص نے عملیات کے ذریعے ایک جنّ کو مسخرکر رکھا تھا اور اسے کسی پرانی قبر کے نیچے چھپا کر اس سے جو چاہتا کہلواتا۔ اس چیز نے اسے عوام میں صاحب کرامت مشہور کر رکھا تھا اور اکثر جہلاء اس کے دام فریب میں گرفتار ہوجاتے ۔ ایک روز وہ آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا’’ اگر آپ کو دعوائے فقر ہے تو مجھے کوئی کرامت دکھائیے۔ نہیں تو میں دکھاتا ہوں، پھرآپ کو میرا مرید ہو جانا پڑے گا۔ میں مردہ صد سالہ کو زندہ کرکے گویا کرتا ہوں اور یہ کرامت مجھ سے کئی مرتبہ ظہورمیں آچکی ہے۔ میرے ساتھ آئیے میں آپ کو اسکا مشاہدہ کراتا ہوں‘‘

وہ آپؒ کو میانی قبرستان میں لے گیا اور کہا’’ بتائیے کس مردہ کو زندہ کروں‘‘ آپ نے ایک قبرکا نشان دیا۔ اس نے قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا ’’یٰسین اندر سے ندا آئی۔ والقرآن الحکیم‘‘

کہنے لگا’’ دیکھئے مردہ زندہ ہوگیا ہے اب آپ اس سے جو چاہیں پوچھیں یہ آپ کی ہر بات کا جواب دے گا‘‘

آپ نے قبر پر پاؤں مار کر فرمایا’’ جو شخص اس قبر کے اندر چھپا ہوا ہے وہ باہر آجائے‘‘ اسی وقت ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکا قبرسے باہر آگیا۔ آپ نے پوچھا’’ تو کون ہے‘‘

اس نے کہا’’ میں جن ہوں اورکئی سالوں سے اس شخص کی قیدمیں ہوں۔ اس کے حکم سے قبر کے اندر جا کر سوالوں کا جواب دیتا ہوں‘‘

آپؒ نے فرمایا’’ میں تجھے اللہ کے حکم سے آزاد کراتاہوں اور اس شخص کے عمل تسخیر کو باطل کرتا ہوں‘‘جنّ اسی وقت غائب ہوگیا۔ آپ ؒ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور وہ شعبدہ باز تائب ہو کر آپؒ کے حلقہ ارادت میں آگیا۔

مزید : روشن کرنیں


loading...