فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 304

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 304
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 304

  



شام کو ڈھاکا کے ایک بہت بڑے سنیما گھر میں یہ پروگرام پیش کیا گیا تو مہنگے ٹکٹوں کے باوجود ہال کے اندر لوگ کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے جنہیں ٹکٹ نہ مل سکا وہ ہال کے باہر والے باغ میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ منتظمین نے ان شائقین کے لئے سنیما کے باہر لاؤڈ اسپیکر نصب کرا دیے تھے تاکہ دور دور تک کے لوگ موسیقی اور نغمات سُن سکیں۔ اسٹیج پر رتن کمار اور اعجاز نے آ کر حاضرین سے خطاب کیا۔ پھر نیلو نے رقص پیش کئے اورآخر میں میڈم نورجہاں نے آواز کا جادو جگایا۔حاضرین پر تو جیسے سحر سا طاری ہو گیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ میڈم کا گانا ختم ہی نہ ہو مگر رات کو ساڑھے نو بجے کے قریب یہ پروگرام ختم کر دیا گیا۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 303 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سنیما ہال میں اے حمید صاحب بھی موجود تھے۔ کچھ دیر وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے ’’آفاقی۔ گورنر ہاؤس میں آج کچھ غیرملکی مہمانوں کے اعزاز میں ڈنر ہے۔ گورنر صاحب کی درخواست ہے کہ اعجاز‘ میڈم نورجہاں اس میں ضرور شرکت کریں۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہم میڈم سے دریافت کر کے آپ کو بتائیں گے۔‘‘

ہوٹل جاتے ہوئے راستے میں ہم نے نورجہاں تک یہ دعوت نامہ پہنچا دیا۔ وہ بولیں ’’میں وہاں کیسے جا سکتی ہوں۔ آپ کو یاد نہیں۔ میں نے آج ہوٹل کے اسٹاف والوں کوگانا سنانے کا وعدہ کیا ہے۔‘‘

ہمیں واقعی یاد نہیں رہا تھا۔ ہوٹل پہنچ کر ہم نے یہ پیغام حمید صاحب تک پہنچا دیا۔

حمید صاحب بولے ’’آفاقی۔ یہ گورنر کی دعوت ہے۔ دوسرا اپاِئنٹ منٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’حمید صاحب ہم میڈم کو جانتے ہیں۔ وہ یہ اپائنٹ منٹ کسی کی خاطر بھی منسوخ نہیں کریں گی۔‘‘

’’معلوم توہو ان کا اپائنٹ منٹ کس کے ساتھ ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’ہوٹل کے اسٹاف کے ساتھ۔‘‘

حمید صاحب پہلے تو حیران ہو کر ہمارا چہرہ دیکھنے لگے۔ پھر ہنس پڑے۔ ’’یار کیسی باتیں کرتے ہو۔ وہاں غیرملکی آئے ہوئے ہیں۔ گورنر نے بذات خود دعوت دی ہے اور نورجہاں کے انتظار میں ابھی سب بھوکے بیٹھے ہیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’آپ خود ہی میڈم سے بات کر لیجئے‘‘۔

حمید صاحب کو اپنی قوتِ گفتار پر بہت ناز تھا۔ فوراً میڈم کے پاس چلے گئے۔

میڈم نے ان کی ساری گفتگو سننے کے بعد فرمایا ’’مگر بھائی جان۔ میں نے ہوٹل کے اسٹاف سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ وہ کل رات سے انتظار کر رہے ہیں‘‘۔

حمید صاحب نے کہا ’’ میڈم یہ وعدہ آپ کل بھی پورا کر سکتی ہیں‘‘۔

میڈم مسکرائیں ’’ حمید صاحب‘ یہ آپ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ وہ غریب لوگ ہیں ۔ اس لئے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘‘۔

حمید صاحب سٹپٹا گئے ’’ ارے نہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے‘‘۔

میڈم نور جہاں نے اس کے جواب میں جو کچھ کہا وہ ہمیں آج بھی یاد ہے۔

انہوں نے کہا ’’ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل رات کوئی اور بہت اہم آدمی مجھے دعوت نہیں دے گا۔اس کی خاطر مجھے کل پھر اپنا وعدہ توڑنا پڑے گا۔ نہیں۔ میں معافی چاہتی ہوں۔ گورنر صاحب سے آپ شکریے کے ساتھ میری جانب سے معذرت کر لیجئے‘‘۔

حمید صاحب کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے جواب میں کیا کہیں۔ انہوں نے فون پر گورنر ہاؤس رابطہ کر کے یہ پیغام پہنچا دیا۔ جواب میں گورنر صاحب کے ملٹری سیکرٹری نے کہا ’’ گورنر صاحب بذات خود میڈم نور جہاں سے بات کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

میڈم نے ٹیلی فون پر یہی جواب گورنر صاحب کو بھی دیا۔ وہ بے چارے ہکّا بکّا رہ گئے مگر پھر انہوں نے اصرار نہیں کیا۔

حمید صاحب کا کچھ سال پہلے کراچی میں انتقال ہوا ہے وہ اس واقعے کے گواہ تھے۔ اعجاز تو خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔

میڈم نور جہاں کے کردار کا یہ انوکھا پہلو تھا جو ہمارے سامنے آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک من موجی اور مضطرب فن کارہ تھیں۔ وہ اپنے خیالات کی رو کے مطابق فیصلے کرنے کی عادی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار وہ عقل و ذہن کے مشورے نامنظور کر کے دل کے فیصلے قبول کر لیتی تھیں۔

سمر داس پروگرام کی کامیابی اور مقبولیت سے بہت خوش تھے۔ ان کے بارے میں اسٹیج پر اعلان کیا گیا تھا کہ وہ میڈم نور جہاں کی سنگت میں ہارمونیم بجائیں گے اور حاضرین نے اس کا بہت خوشی اور گرم جوشی سے استقبال کیا تھا۔

ہوٹل پہنچ کر انہوں نے پروگرام کی کامیابی پر میڈم کو بہت مبارکباد دی اور پھر رخصت کی اجازت چاہی۔

نور جہاں نے کہا ’’ ارے نہیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ نے اتنی مہربانی کی ہے اور اس پروگرام کی کامیابی میں آپ کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ آپ ہمارے ساتھ کھانا کھائے بغیر نہیں جائیں گے‘‘۔

انہوں نے معذرت چاہی تو میڈم نے کہا’’دراصل ابھی ہمیں ایک اور پروگرام بھی کرنا ہے‘‘۔

’’ ایک اور پروگرام؟‘‘۔ وہ حیران رہ گئے۔

’’ جی ہوٹل کے اسٹاف اور ان کے گھر والوں کے لئے۔ میں نے کل ان سے وعدہ کیا تھا‘‘۔

سمرداس حیرت سے میڈم نور جہاں کا منہ دیکھتے رہ گئے ۔پھر کہا تو عقیدت میں ڈوبی ہوئی آواز میں اتنا کہا ’’میڈم آپ بہت مہان ہیں۔ بہت بڑی آرٹسٹ ہیں‘‘۔

سمرداس کو اپنی بیوی کی علالت کے باعث فوراً گھر پہنچنا تھا مگر میڈم کی فرمائش پر رک گئے۔ خیر الکبیر صاحب‘ ان کی بیگم‘ نذیر احمد صاحب اور ان کی بیگم بھی موجود تھے۔ ہم سب لوگوں نے کچھ دیر بعد ڈائننگ ہال کا رخ کیا‘ معلوم ہوا کہ نیلو اور رتن کمار وغیرہ ڈنر کھا کر اپنے کمروں میں جا چکے ہیں۔

ڈائننگ ہال میں پہنچے تو وہاں کا نقشبہ ہی بدلا ہوا تھا۔ ہال کے صرف ایک گوشے میں کھانے کی ایک میز لگی ہوئی تھی۔ باقی تمام جگہ سے کھانے کی میزیں ہٹا دی گئی تھیں۔ اسٹیج کیلئے ایک جگہ چھوڑ دی گئی تھی جس پر قالین بچھے ہوئے تھے اور طبلہ ‘ ہارمونیم وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ سارے ہال میں اسٹیج کے رُخ پر سینکڑوں کرسیاں بچھا دی گئی تھیں۔ میڈم اس انتظام سے بہت خوش ہوئیں۔ کھانا آج گزشتہ روز سے بھی زیادہ لذیذ تھا۔ پکانے والوں نے اپنی ہنر مندی کے ساتھ ساتھ اس میں پیار اور عقیدت کی آمیزش بھی کر دی تھی۔ شاید اس لئے اس کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ کئی بیرے سروس کیلئے حاضر تھے اور دوڑ دوڑ کر باورچی خانے سے تازہ تازہ روٹیاں لے کر آ رہے تھے۔ کھانے کے بعد میڈم نے ایک بار پھر پکانے والوں کی بہت تعریف اور حوصلہ افزائی کی۔ چیف باورچی صاحب کو بلا کر خاص طور پر ان کی تعریف کی گئی۔ مارے خوشی کے الفاظ اس کے منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔

’’ میڈم جی۔ آپ بہت بڑی آرٹسٹ ہیں۔ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ نے ہمارا پکایا ہوا کھانا پسند کیا ہے‘‘۔

میڈم نے جواب دیا۔ ’’ آپ خود بھی بہت بڑے آرٹسٹ ہیں بابا جی۔ آپ نے بہت ا چھّا کھانا پکایا ہے۔ ہم نے بڑی بڑی جگہوں پر کھانا کھایا ہے مگر ایسا مزیدار کھانا کہیں نہیں کھایا‘‘۔ تشکّر اور خوشی سے بابا جی کی آواز بھرا گئی۔’’ ہم نے آج بڑے پیار سے دل لگا کر پکایا ہے میڈم‘‘۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد میڈم نے اسٹیج کا رُخ کیا جہاں ساز سجے ہوئے تھے۔ قیمتی قالینوں پر گاؤ تکیے اور کُشن بھی رکھے ہوئے تھے‘ دو مائیکرو فون بھی تھے۔ فرشی نشست کا بندوبست کیا گیا تھا۔

میڈم کو یہ سب کچھ بہت اچھّا لگا لیکن جب وہ اسٹیج تک پہنچیں تو د یکھا کہ اچانک چاروں طرف سے خوش لباس لوگ ہال میں داخل ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہال کی ساری کُرسیاں پُر ہو گئیں۔

بات یہ ہوئی کہ ہوٹل کی انتظامیہ نے اپنے خصوصی جاننے والوں کو اس پروگرام میں مدعو کر لیا تھا۔ خوش پوش‘ خوش حال مرد‘ قیمتی زرق برق ساڑھیوں‘ میک اپ اور زیورات میں لدی ہوئی بیگمات، مسکراتی ہوئی میڈم کی جانب دیکھ رہی تھیں اور خود ان کی زبانی‘ ان کے سامنے بیٹھ کر ان کے نغمات سننے کی زندگی بھر کی حسرت پوری کرنے کی امیدوار تھیں۔

میڈم کے چہرے پر غُصّے کے آثار نموار ہو گئے۔ انہوں نے پوچھا ’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘

مینجر نے آگے بڑھ کر لجاجت سے کہا ’’ یہ شہر کے معزز اور ممتاز لوگوں کی فیملیز ہیں میڈم‘‘۔

’’ یہاں انہیں کس نے بلایا ہے؟‘‘۔ میڈم نے ناراضگی سے پوچھا۔

’’ جی ۔۔۔جی۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔۔‘‘۔ مینجر گڑبڑا گیا۔

میڈم کا موڈ ایک دم بگڑ چکا تھا۔

’’ آپ نے کس سے پوچھ کر انہیں یہاں بلایا ہے۔ میں نے تو ہوٹل کے اسٹاف کو گانا سنانے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ تو مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے۔ مہربانی فرما کر آپ سب سے کہئے کہ یہاں سے چلے جائیں‘‘۔

’’جی؟‘‘ مینجر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ ’’ مگر میڈم۔۔۔‘‘۔

’’ یہ میرے مہمان نہیں ہیں اور نہ ہی میں نے انہیں بلایا ہے‘‘۔

پھر وہ حیران و پریشان کرسی نشینوں سے براہ راست مخاطب ہو کر بولیں ’’دیکھئے مجھے افسوس ہے کہ آپ کو غلط بتایا گیا ہے۔ آپ لوگ مہربانی فرما کر ہال خالی کر دیں پلیز‘‘۔

چند لمحے تو خاموشی رہی پھر سب لوگ سمجھ گئے کہ میڈم نور جہاں جو کہہ رہی ہیں اسے منوا کر بھی رہیں گی۔ غُصّے اور شرمندگی سے ڈھاکا کی ہائی سوسائٹی کے خاندانوں کے رنگ اڑ گئے مگر میڈم نور جہاں کی بات مانے بغیر چارہ نہ تھا۔ ایک ایک کر کے تمام مہمان ہال سے رخصت ہو گئے اور تمام کرسیاں خالی ہو گئیں تو میڈم نے بلند آواز سے کہا ’’اسٹاف کے لوگ کہاں ہیں؟‘‘

بر آمدوں اور راہداریوں میں چھپے بیٹھے ہوئے عملے کے لوگ سامنے آ گئے۔ ان میں باورچی‘ بیرے‘ صفائی کرنے والے‘ چوکیدار‘ سکیورٹی والے ٹیلی فون آپریٹر سبھی شامل تھے۔ چیف باورچی سب میں پیش پیش نظر آرہے تھے۔

’’ آپ لوگ کرسیوں پر بیٹھئے اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا لیجئے‘‘۔

میڈم کو پہلے ہی علم تھا کہ ہوٹل اسٹاف کے گھر والے بھی اسی احاطے میں واقع کوارٹرز میں رہتے ہیں۔

کچھ دیر بعد ہال کی تمام کرسیاں بھر گئیں۔ ہال کی بیرونی بڑی کھڑکیاں کھول دی گئی تھیں۔ جن عورتوں اور بچّوں کو کرسیوں پر جگہ نہ مل سکی وہ کھڑکیوں میں کھڑے ہو گئے۔ ہر ایک کا چہرہ خوشی اور فخر سے دمک رہا تھا۔ زرق برق لباسوں کی جگہ اب پرانے اور سادہ لباسوں نے لے لی تھی مگر ہال کی رونق اور روشنی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔

میڈم نے قالین پر جگہ سنبھالی۔ ہم لوگ بھی گاؤ تکیوں سے ٹیک لگا کر قالینوں پر بیٹھ گئے۔ سازندوں نے اپنے اپنے ساز سنبھالے۔ سمرداس نے ہارمونیم کے سُر چھیڑے اور انگریزی میں مجھ سے کہا ’’مسٹر ٰآفاقی۔ ایسی عورت دنیا میں کوئی اور نہیں ہو گی۔ مجھے پورا یقین ہے ’’شی از ریئلی گریٹ‘‘۔

میڈم نور جہاں اس روز بہت اچھّے موڈ میں تھیں۔ اس سے پہلے وہ کبھی اسٹیج پر گانے کیلئے نہیں گئی تھیں مگر ان کی پہلی پرفارمنس ہی بے حد کامیاب رہی تھی۔ مسٹر خیر الکبیر اور نذیر احمد نے بعد میں ہمیں بتایا کہ میڈم نور جہاں کی بنفس نفیس اسٹیج پر گانے کی اطلاع پا کر کلکتہ اور ہندوستان کے دوسرے شہروں کے لوگ بھی بطور خاص ڈھاکہ پہنچے تھے اور تو اور چند حضرات تو بمبئی سے بھی ڈھاکہ پہنچ گئے تھے۔ ڈھاکہ ریڈیو سے میڈم کے گانے کا پروگرام نشر کیا جا رہا تھا جو مشرقی پاکستان کے علاوہ مغربی بنگال کے سامعین نے بھی اسی قدر دلچسپی اور انہماک سے سنا تھا۔

جاری ہے

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...