عشرسے انکار،زراعت کی تباہی کا بڑا سبب

عشرسے انکار،زراعت کی تباہی کا بڑا سبب
عشرسے انکار،زراعت کی تباہی کا بڑا سبب

  



پچھلے کچھ عرصے کسانوں پر آنے والی مشکلات اور شعبہ زراعت کی تباہی پر بحث دیکھنے میں آرہی ھے۔ زراعت کے زوال کے باعث عام آدمی کی زندگی بھی متاثر ہوچکی ھے۔بہت سے لوگ اسکی مختلف وضاحتیں پیش کرتے ہیں لیکن میرے حساب سے اس مسئلے کی بڑی وجہ صرف ایک ھے۔۔۔۔۔۔۔عشر کی عدم ادائیگی۔

سب سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ عشر کیا ھے۔

عشر کے لغوی معنی ھیں دسواں حصہ۔ لیکن اصطلاح میں عشرسے مراد پیداوار کی زکوٰۃ جو بعض زمینوں میں پیداوار کا دسواں حصہ ھوتی ھے اور بعض زمینوں میں پیداوار کا بیسواں حصہ۔

عشر زمین کی زکوٰۃ ھے۔ جس طرح زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ھے عشر کی زکوٰۃ زمیں سے حاصل ھونے والی پیداوار کو پاک کرتی ھے۔ عشر پیداوار اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کو غریبوں،ناداروں اور ضرورت مندوں کے حقوق سے پاک کرتی ھے اور ان کی کفالت اور پیداوار میں برکت کا باعث ھے۔شاید عشر کا ادا نہ کرنا ھی ھماری زراعت کی تباھی کا باعث ھے۔

قرآن پاک کا ارشاد ھے۔

"ایمان والو! راہ خدا میں بہتر حصہ خرچ کرو۔اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو ھم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ھے۔" (البقرہ:267)

ایک اور جگہ ارشاد ھے:

"اور اللہ کا حق ادا کرو،جس دن تم فصل کاٹو۔" (الانعام:141)

رسول پاک ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:

جو زمین بارش یا چشمے کے پانی سے سیراب ھوتی ھے یا قدرتی نالوں کا پانی سیراب کرتا ھو اس میں عشر واجب ھے اور جو زمین کنوئیں(وغیرہ) سے پانی کھینچ کے سیراب ھو اس پر نصف عشر واجب ھے‘‘

اس لحاظ سے عشر کی تقسیم یوں بنتی ہے’’جو زمین بارش یا چشمے کے پانی سے سیراب ھوتی ھے یا قدرتی نالوں کا پانی سیراب کرتا ھویا دریا کے نزدیک ھونے سے نم اور سیراب رھتی ھو اس میں دسواں حصہ عشر واجب ھے اور جو زمین کنوئیں(وغیرہ) سے پانی کھینچ کے سیراب ھو اور مصنوعی زرائع آبپاشی سے سیراب ھو اس پر بیسواں حصہ عشر واجب ھے۔‘‘

عشر خدا کا حق ھے اور غلَہ یا پھل جب قابل استعمال ھو جائیں تو پہلے عشر نکال لیا جائے پھر وہ پیداوار استعمال میں لایا جائے۔ عشر نکالے بغیر استعمال جائز نہیں ورنہ عشر کا صحیح حصہ ادا نہ ھوگا۔

اب بات آتی ھے زراعت کی موجودہ حالت پر۔۔ جب خدا کا حق ھی ادا نا ھوگا تو پیداوار میں برکت کہاں سے آئے گی؟ غریب عوام جن کو اپنی مجبوریوں کی بنا پر زکوٰۃ و خیرات پر گزارا کرنا پڑتا ھے انکا کیا ھوگا؟ شاید انکی دعاؤں کا نا ملنا بھی ھماری نا برکتی کا باعث ھو۔

کبھی پیاز تو کبھی ٹماٹر یا کبھی چینی شاید عذاب الہی کا باعث ھیں۔ اور عشر کی ادائیگی ھمیں اس بحران سے نکال سکتی ھے۔ بحثیت مسلم ھمیں خود اس پر غور کرنا چاھیے کیونکہ یہ ھمارے ایمان کا حصہ ھے۔

پرانے لوگ فصل آتے ھی پہلا کام عشر ادا کرنے کا کرتے تھے شاید اسی وجہ سے میں انکی خوراک میں دیسی یا خالص اشیاء اور انکی فصلوں میں ایک توازن نظر آتا تھا۔ بہت کم کسی کی فصل کا ایسا نقصان اور تباہی دیکھنے میں آتی تھی۔ اور بہت کم لوگ اپنی تکلیفوں کا رونا روتے نظر آتے تھے مگر صرف چند لوگ۔۔۔ الغرض ھماری مجموعی پیداوار میں اضافہ ھوا ھے مگر برکت شاید ھم سے کوسوں دور جا چکی ھے۔

عشر ادا نہ کرکے عذاب الہی کو بلاوا دینا، اور اسلامی احکام عشر کو کسی قابل نہ سمجھنا اور اس سے پہلو تہی کرنا۔ ان سب جرائم کے بعد بھی ھم لوگ سوچ سکتے ھیں کہ زراعت میں بہتری آئے گی؟ ھم پہ عذاب تنگدستی نہی آئے گا؟آج ھماری فصلوں،صحت، معیشت سے ھمارا حال ظاھر ھے۔۔ بیشک اس تباہی کی اور بھی وجوہات ہیں مگر عشر کا ادا نا ھونا بھی اس وبال کا باعث ھے۔۔

(بلاگر پلانٹ پیتھالوجی اور مائکروبیالوجی میں ایم فل کررہے ہیں،ملک میں کسا ن بیٹھک کے نام سے زرعی شعور بیدار کررہے ہیں۔ان سے رابطہ اس پیج پر کیا جاسکتا ہے ۔

//www.facebook.com/HumKashtkaar/

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ