قائد کے مزار پر دل کی باتیں

قائد کے مزار پر دل کی باتیں
قائد کے مزار پر دل کی باتیں

  



ہم لوگ بابا قوم قائداعظم محمد علی جناح کو ہرتئیس مارچ، چودہ اگست، گیارہ ستمبر اور پچیس دسمبر کو دھوم دھام سے یاد کرتے ہیں مگر اب کراچی کے شہریوں سمیت بہت سے پاکستانی لوگوں نے اپنی ویک اینڈ پر قائد اعظم کے مزار پر جانا شروع کردیا ہے۔ جس کے پاس قائد اعظم کی تصویر والا نوٹ ہے وہ بھی تیس روپے دیکر بابا قوم کے مزار کے اندر داخل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مزار کے مین گیٹ کی فیس ہے۔ سو ہم نے وہ نوٹ دے کر بابا کے مزار کے مین گیٹ کے اندر داخل ہوگئے ۔ادھر ساتھ ہی کینٹین موجود تھا جس پہ ہر چیز ڈبل قیمت پہ دستیاب تھی۔ اچھا وقت ہم نے مزار کے ارد گرد گھوم پھر کرگزار دیئے۔

ویسے ہم بابا قوم کے مزار پہ کئی مرتبہ گئے لیکن چودہ اگست کو ایک میلہ سا لگتا ہے جس میں ملک کے اعلٰی قائدین بابا کے مزار پہ آتے ہیں۔ ان قائدین میں مقامی ایم، پی اے، ایم ،این کے ساتھ وزیراعظم پاکستان ، صدر پاکستان گورنر اور وزیر اعلٰی اپنی اپنی باری میں بابا قوم کے مزار پہ پھول چڑھا کے واپس اپنے کرسی پہ براجمان ہوجاتے ہیں۔یہ ان کی کرسی کا تقاضا ہے ۔جب یہ کرسی پر نہیں ہوتے تو شاید ہی مزار پر جاتے ہیں۔

اس روز ہم مزار قائد پہ تھے کہ اچانک سیکیورٹی سخت ہوگئی۔ ابھی ہم جوتوں کے ٹوکن لیکر اوپر مزار کی طرف جا ہی رہے تھے کہ ہمیں پیچھے جانے کا حکم ملا ۔ سینکڑوں لوگ کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ۔یہ دیکھ کر ہم بابائے قوم کے میوزیم کی طرف چل پڑے ۔قائداعظم محمد علی جناح کے میوزیم میں داخل ہونے کی فیس بھی اچھی خاصی ہے۔ میوزیم میں قائداعظم کے استعمال کی تمام چیزیں شیشے میں بند رکھی ہوئی تھیں۔بابائے قوم کی کار بھی کھڑی نظر آئی، تصویر کھینچنے پہ ہمیں خوب ڈانٹ بھی پڑی۔ ایک کونے میں چھوٹے سے لفظوں میں لکھا تھا یہاں تصویر کھینچنے پہ پابندی ہے۔اس میوزیم میں جگہ جگہ بابائے قوم کی تاریخ لکھی ہوئی تھی ۔

میوزیم سے نکل کر ہم نے کینٹین سے کچھ کھانے کی چیزیں خرید لیں اور ان کو کھانے کی بعد کچھ خالی شاپر ڈسٹ بن میں ڈال دئےے۔ میں نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو مجھے کئی کاغذوں کے خالی ریپرز نظر آئے ۔کچھ مایوسی ہوئی ۔قائد کے پاس آکر بھی انہیں قائد کا سبق یاد نہیں رہتا۔آگے بڑھا جہاں پہ ایک جھری شدہ چہرہ اپنی بیگم کو بابائے قوم کایہ فرمان سنا رہا تھا “مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟ مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے پہلے ہی وضاحت کیساتھ بیان کردیا تھا۔ الحمدللہ قرآن پاک ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اورقیامت تک موجود رہے گا۔ آج ترقی یافتہ پاکستان کا نعرہ لگانے والے قائد کے پاکستان اور ان کے راہنما اصولوں کو بھول گئے ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے الگ خودمختار ریاست قائم کرنے کے لئے انتھک جدوجہد کی تھی۔اور ہمیں آزاد ریاست دے گئے “یہ باتیں سن کے میں شرمندہ ہوگیا ۔میں نے اس جھری شدہ چہرہ سے کوئی بھی سوال نہ کیا اور مزار کے اندر داخل ہوگیا۔ میں سوچنے لگا” میرے پیارے پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔ ہم اسکو کمتر کیوں بنا رہے ہیں؟“قائد کے مزار جاکر کم از کم اس بات کا اعادہ تو کرتے رہنا چاہئے کہ ہم اپنے ملک کو باوقار بنا کر رہیں گے۔ دعا ہے کہ پاکستان کو اللہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ان شاءاللہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ پاکستان پائندہ باد

۔۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ