”میں پاکستان نہیں جاتا کیوں کہ میں اسے جائز ملک نہیں سمجھتا بلکہ یہ تو بدمعاشوں کا ایک۔۔۔۔“ خود کو امن کا سفیر کہنے والا یہ مغربی مولوی کیا زہر اگلنے لگا؟ جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آجائے گا

”میں پاکستان نہیں جاتا کیوں کہ میں اسے جائز ملک نہیں سمجھتا بلکہ یہ تو ...
”میں پاکستان نہیں جاتا کیوں کہ میں اسے جائز ملک نہیں سمجھتا بلکہ یہ تو بدمعاشوں کا ایک۔۔۔۔“ خود کو امن کا سفیر کہنے والا یہ مغربی مولوی کیا زہر اگلنے لگا؟ جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آجائے گا

  



سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مغربی ممالک اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے جہاں میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہیں وہیں کئی نام نہاد مسلم سکالر ز کا سہارا بھی لیتے ہیں، انہی سہاروں میں ایک نام امام توحیدی کا ہے جو خود کو ”امن کا امام“ کہتا ہے۔ گذشتہ روز کوئٹہ کے چرچ میں ہونے والے حملے کے بعد جہاں پوری پاکستانی قوم سوگوار ہے وہیں امام توحیدی بھی اپنا منجن بیچنے کے لئے منظر عام پر آگیا ہے۔

”میں سینما میں فلم دیکھ رہی تھی کہ اچانک پیچھے سے ایک شخص آیا اور اس نے۔۔۔“ اداکارہ سونم کپور نے ایسا شرمناک واقعہ سنا دیا کہ سب کو دکھی کردیا

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پر یکے بعد دیگر پانچ ٹوئٹس کے ذریعے نام نہاد امام توحیدی نے پاکستان کے خلاف زہر اگلا ہے، امن کے امام کہلانے والے اس مولوی نے پاکستان کو دہشت گردوں کے لئے جنت اور بدمعاشوں کا ملک قرار دیا ہے۔ نام نہاد مولوی کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کو دورہ نہیں کروں گا کیوں کہ میں اسے جائز ملک نہیں سمجھتا بلکہ یہاں مذہب کے نام ٹھگوں کا ایک گروہ چلا رہا ہے ، جہاں پر مذہبی اقلیتوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور انہیں ذبح کیا جا رہا ہے۔ یہ دہشت گردوں کی ایک جنت ہے، اس ملک کی خونی اور تاریک تاریخ ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں مغربی مولوی کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کی ایک جنت ہے ، جہاں پر خطرناک اسلام پسند برسر اقتدار ہیں اور ان کے سامنے مذہبی اقلتیوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا اور یہاں پر مسلم دہشت گردوں سے اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے۔

مغربی ممالک کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام کو بس پشت ڈالتے ہوئے امن کے نام نہاد سفیر نے ایک اور ٹوئٹ کیا جس میں حکومت پاکستان کے خلاف زہر اگلا گیا، مغربی مولوی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں معصوم بچوں کو صرف اس لئے قتل کیا گیا کیوں کہ وہ مسیحی تھے، مسیحیوں کو کرسمس کے موقع پر قتل کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پاکستان کی اسلامی حکومت نے مسیحی برادری کے تحفظ کے لئے کبھی بھی کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے۔

مغرب کے وظیفہ خور مولوی کو پاکستانی حکومت سے شکایات تو ہیں مگر انہیں القدس میں مسلمان بچوں کے بہتے ہوئے خون سے کوئی سروکار نہیں ، اپنے ایک زہریلے ٹوئٹ میں نام نہاد امن کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اسرائیل ایک ہی وقت میں قائم ہوئے، مسلم ممالک کو یہودیوں کی زمین پر قائم اسرائیل سے تو شکایت ہے مگر بھارت سے علیحدہ ہونے والے پاکستان کے بارے میں وہ بات نہیں کرتے۔ القاعدہ اور اس کے اتحادی پاکستان کی آزادی سے بہت سے زیادہ خوش ہیں کیوں کہ ایک آزاد مسلم ملک کے قیام سے انہیں خطے میں اسلامی ریاست قائم کرنے کا موقع مل جائے گا۔

امام توحیدی کا مزید کہنا تھا کہ میرا مقصد امن اورصرف امن پھیلانا ہے مگر کرپٹ لوگوں کی مذمت اور ان پر تنقید کرنے کو میں اپنا فرض سمجھتا ہوں ، اگر میں ایسا نہیں کروں گا یہ لوگ بغیر تنقید کے ہیں لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔

اے بی سی نیوز کے مطابق قم کی المصطفیٰ یونیورسٹی نے اس نام نہاد مغربی مولوی کو جعلی امام قرار دیا ہے ، یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ امام توحید ی نے اپنی دینی تعلیم مکمل نہیں کی ہوئی اور انہیں تبلیغ کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جاسکتی لیکن یہ امر قابل افسوس ہے کہ وہ اسلام کے نام پر مذہب کو بدنام کرر ہا ہے۔ 

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...