’اب ہم اس جگہ اپنا سفارتخانہ کھولیں گے ‘ فلسطین کے معاملے پر طیب اردوگان نے کھل کر امریکا اور اسرائیل کو للکار دیا، دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل کی آواز بن گیا

’اب ہم اس جگہ اپنا سفارتخانہ کھولیں گے ‘ فلسطین کے معاملے پر طیب اردوگان نے ...
’اب ہم اس جگہ اپنا سفارتخانہ کھولیں گے ‘ فلسطین کے معاملے پر طیب اردوگان نے کھل کر امریکا اور اسرائیل کو للکار دیا، دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل کی آواز بن گیا

  



انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے پر محض بیان بازی تو بہت ہوئی ہے لیکن عملی قدم صرف ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے پہلے تو تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور اب یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ ترکی مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے وہاں اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔ترک صدر نے کارامان صوبے میں اپنی پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”انشاءاللہ وہ وقت قریب ہے جب اللہ کے حکم سے ہم اپنا سفارتخانہ وہاں ( مشرقی یروشلم میں ) کھولیں گے۔ “ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یروشلم میں ترکی کا قونصلیٹ جنرل پہلے ہی واقع ہے جس کی نمائندگی ایک سفیر کرتا ہے۔ 

واضح رہے کہ اسرائیل پہلے ہی یروشلم شہر کو اپنا دارلحکومت قرار دے چکا ہے اور ایسے میںیہ سوال اہم بھی ہے اور تشویشناک بھی کہ ترکی مشرقی یروشلم میں اپنا سفارتخانہ کیسے کھولے گا ، جہاں اسرائیل پہلے سے قابض ہے۔ فلسطین مشرقی یروشلم کو اپنا دارلحکومت قرار دیتا ہے لیکن 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے زمانے سے ہی یروشلم کا یہ حصہ بھی اسرائیل کے قبضہ میں ہے ۔ اس وقت دیگر ممالک کی طرح ترکی کا سفارتخانہ بھی اسرائیل کے موجودہ دارلحکومت تل ابیب میں واقع ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...