چین نے ہزاروں مسلمانوں کو پکڑ لیا، لیکن کس الزام میں؟ جان کر ہر مسلمان افسردہ ہو جائے

چین نے ہزاروں مسلمانوں کو پکڑ لیا، لیکن کس الزام میں؟ جان کر ہر مسلمان افسردہ ...
چین نے ہزاروں مسلمانوں کو پکڑ لیا، لیکن کس الزام میں؟ جان کر ہر مسلمان افسردہ ہو جائے

  



بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) یہ چند ماہ قبل کی بات ہے کہ چینی صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والاایک یغور مسلمان طالبعلم مصر سے واپس آیا لیکن اپنے گھر نہیں پہنچا۔ گھر والے اس کے پراسرار طور پر لا پتہ ہو جانے پر بہت پریشان ہوئے اور سارے گاﺅں نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کہیں سے بھی اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں ۔ 

یہ اس طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ سنکیانگ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے صوبے میں ایسے ہزاروں واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس لاپتہ نوجوان کے دوستوں کا بھی یہی خیال ہے کہ وہ ان ہزاروں یغور مسلمانوں میں شامل ہو گیا ہے جنہیں حکومت نے خاموشی سے اٹھا کر غائب کر دیا ہے ۔

صوبہ سنکیانگ کے یغور مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے حکومت نے وکیشنل ٹریننگ کے نام پر ایک پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو زبردستی فنی تربیت کے نام پر اٹھا لیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ قیدی کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔

دی انڈی پینڈنٹ کے مطابق یغور مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی تازہ ترین کیمپین کی قیادت شین کوانگواﺅ نامی چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رہنما کر رہے ہیں ، جنہیں 2016 ءمیں سنکیانگ کی صورتحال ٹھیک کرنے کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔ شین یغور مسلمانوں کو شدت پسند اور امن کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں ان کے خلا ف سخت ترین اقدامات کر رہے ہیں ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سخت اقدامات شدت پسندی کے خاتمے کی بجائے الٹا اس کی جڑیں مزید گہری کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا چینی حکام کو یغور مسلمانوں سے نمٹنے کی اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔

مزید : بین الاقوامی