’بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ درست ہے کیونکہ۔۔۔‘ سعودی عرب کی انتہائی معروف شخصیت نے ایسی بات کہہ دی کہ دنیا بھر کے مسلمان حیرت سے ایک دوسرے کے منہ تکنے لگے

’بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ ...
’بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ درست ہے کیونکہ۔۔۔‘ سعودی عرب کی انتہائی معروف شخصیت نے ایسی بات کہہ دی کہ دنیا بھر کے مسلمان حیرت سے ایک دوسرے کے منہ تکنے لگے

  



جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کیے جانے پر پوری دنیا میں امریکا کی مزمت کی جا رہی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ امریکی صدر کے فیصلے کی حمایت میں بیان اس اسلامی ملک سے سامنے آگیا ہے کہ جان کر کوئی یقین ہی نہ کر پائے۔ 

نیوز ویب سائٹ ’العربی‘ کے مطابق یہ حیرتناک بیان جدہ کے ’مڈ ل ایسٹ سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ لیگل سٹڈیز‘ کے سربراہ عبدالحمید حکیم کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یروشلم شہر پر اسرائیل کے تاریخی حق کو اب عرب ممالک کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ” یہ فیصلہ ایک مثبت جھٹکے کے طور پر سامنے آئے گا جو مذاکرات کے گرد جمع ہونے والے ساکت پانی کو ہٹانے کے کام آئے گا۔ ہم عربوں کو دوسرے فریق کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہو گا اور یہ سمجھنا ہو گا کہ اس کے مطالبات کیا ہیں تاکہ ہم امن مذاکرات میں کامیابی حاصل کر سکیں۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ ” ہمیں یہ ماننا پڑے گا اور سمجھنا ہو گا کہ یروشلم یہودیوں کیلئے ایک مذہبی علامت ہے اور یہ ان کیلئے اتنا ہی مقدس ہے جیسا کہ مسلمانوں کیلئے مکہ اور مدینہ ہے ۔ عرب ذہنیت کو خود کو جمال عبدالناصر کے ورثے سے آزاد کروانا ہو گا اور شیعہ ، سنی کے جھگڑے سے بھی نکلنا ہو گا، جس کا بیج صرف سیاسی مفادات کیلئے بویا گیا تھا۔“ یاد رہے کہ اس سے پہلے سعودی حکومت امریکی صدر کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور غیر ذمہ درانہ قرار دے چکی ہے۔

مزید : عرب دنیا


loading...