سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ۔ ۔ ۔ پہلی قسط

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ۔ ۔ ۔ پہلی قسط
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ۔ ۔ ۔ پہلی قسط

  



ہر زمانے میں ایک آدھ ایسا بھی ہوتا ہے جس کے ابروئے سیاست کی ایک شکن تاریخ عالم میں زلزلے ڈال دیتی ہے۔ خرقبیل کا دمشق ، بنی امیہ کا دمشق اور بادشاہوں کے بادشاہ صلاح الدین کا دمشق ایسا ہی ایک شہر تھا ۔ اسی جلیل المرتبت شہر کو روما کے شہر یار قیصر جولیان نے ’’چشم مشرق ‘‘ کہا تھا ۔ یونان نے ’’سب سے حسین شہر ‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ عربوں نے ’’عروسِ کائنات ‘‘ کی خلعت پہنائی تھی اور اسی کے سر پر ’’ باغ عالم ‘‘ کا تاج رکھا تھا ۔

اِسی دمشق کی اندرونی شہر پناہ اس کے سامنے تھی جس میں سیاہ اور زرد رنگ کے مدور، مکعب اور مثلث پتھر اس طرح جڑے ہوئے تھے جیسے کالے مخمل پر پکھراج ٹانک دیئے گئے ہوں اور اس کا خچر ’’باب الفتح‘‘ سے داخل ہونے والے ہجوم میں بہہ گیا۔

وہ لگام کھینچے ،سانس روکے آدمیوں کے اس سمندر میں تنکے کی طرح لرز رہا تھا جس کی موج موج میں دنیا کے ہر رنگ، ہر قوم اور ہر مذہب کے ماننے والے موجود تھے۔ ان میں تاجر تھے جو روئے زمین کی نعمتوں کو دمشق کا بازار دکھلانے لائے تھے۔ طالب علم تھے جو مدرسہ ایوبی کے جید عالموں کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے آئے تھے۔ سپاہی تھے جو ’’فاتحوں کے فاتح ‘‘سے اپنی تلواروں کے جوہر کی داد لینے آئے تھے ۔سفیر تھے جو ملکوں ملکوں کے بادشاہوں کا نذرانہ عقیدت لائے تھے اور سیاح تھے جو اپنے عہد کی تاریخ کے سب سے بڑے مرکز کو سلام کرنے آئے تھے ۔

اب بنی امیہ کی عظیم الشان مسجد کاروبکار سامنے تھا۔ وہ اس کا جاہ و جلال دیکھتا ہوا اس کی پشت کے بازار میں آگیا اور ایک چیختے چلاتے حمام کے سامنے اپنا خچر روک لیا۔ ایک غلام نے لپک کر اس کے ہاتھ سے لگام جھپٹ لی اور وہ سرخ پتھر کے منقش چبوترے کے قالین پر پھیلے ہوئے مالک حمام کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ شاید وہ اسے بیالیس برس بعد پہچان لے لیکن مالک کے سپاٹ چہرے اور خالی آنکھوں کو دیکھ کر وہ اندر گھس گیا۔ نہاد ھو کر جب ذرا جی ٹھکانے ہوا تو اس نے چاہا کہ اس کمبخت فضیل سے دھول دھیا کرے اور بیالیس برس قبل کے ان واقعات کو زندہ کرے جو ہزاروں من یادوں کے نیچے دبے پڑے تھے لیکن اپنی خفیہ سفارت کی نزاکت کا خیال کر کے باز رہا اور ناف تک پھیلی ہوئی آبنوس کی صلیب پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ کر سیڑھیاں اترا اور شہتوت کی چھاؤں میں بیٹھے نارگیلی پیتے ہوئے غلام سے لگام لے کر خچر پر سوار ہو گیا۔

حد نگاہ تک سبز مخمل و سنجاب کے ہزار ہاتھان کھلے پڑے تھے۔ ان پر جگہ جگہ رنگین پھولوں کے اصفہانی قالین بچھے تھے۔ان پر چلنے کی لذت کا احساس خچر کے علاوہ اس کو بھی ہو رہا تھا۔ کھجوروں کے فلک بوس درختوں کے جھنڈے نکلتے ہی قصر سلطانی کاروکار نظر آیا جس کے سب سے بلند محراب کے کلس پر وہ زر د پرچم لہرا رہا تھا جس کے سائے نے مشرق و مغرب کے بڑے بڑے مغرور شہنشاہوں کو سرنگوں دیکھا تھا۔

وہ ایک جھٹکے کے ساتھ سواری سے پھانڈ پڑا۔ ایک ہزار ترکمانوں کا ذاتی محافظ رسالہ سنہرے سازویراق سے آراستہ ، سفید عربی گھوڑوں پر سوار سفید حریر کے کفتان اور زرد طربوش پہنے، طلائی کمر بندوں میں مرصع قبضوں کی ہلالی تلواریں اور خنجر لگائے کاندھوں پر زرد بیرقیں اٹھائے کھڑا تھا۔۔۔ دور داہنے بازو کے سامنے سجے ہوئے کوتل گھوڑوں کا ہجوم تھا۔

دفعتاً ایک سوار گھوڑا اڑا کر اس کے سامنے آگیا۔ اس نے سینے پر صلیب بنائی اور گریبان سے ملک العادل کا پروانہ راہ داری نکال کر سوار کے حوالے کر دیا۔وہ اسے وہیں روک کر واپس ہو گیا۔ قراقوش (افسررسالہ ) کی جنبش لہر کے بعد اسے بڑھنے کی اجازت نصیب ہوئی۔ محراب کے سامنے سنگِ سیاہ کی چوکی پر بیٹھ کر وہ اس بلند آہنی دروازے کو دیکھنے لگا جس پر سونے کے پانی کی بیلیں بنی تھیں اور چاندی کے پھول چڑھے تھے۔ پھر لمبے چوڑے سیاہ فام سوڈانی غلاموں کا دستہ اسے اپنے گھیرے میں لے کر چلا جو سرخ جانگیہ اور نیلے پھل والی تلواریں پہنے تھے ۔

چوڑی روش پر سرخ پتھر جڑے تھے جس کے دونوں طرف دمشق کے مشہور عالم گلابوں کی جھاڑیاں کھڑی تھیں۔ہر طرف سبزہ بچھا تھا۔ کہیں کہیں کھجوروں کے درخت ، ترنج کے جھنڈ، خوبانی کے گروہ اور تاریخ کے غول سوئے ادب کھڑے ہوئے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ایک طرف کوشکوں میں شکاری چیتوں کی قطار زرد چشم پوش پہنے ریشمی رسیوں میں بندھی کھڑی تھی۔ دوسر طرف مر مریں دالانوں میں خاصے کے سپاہی زرد کرتیاں اور سیاہ جامے پہنے کاندھوں پر خاردار گرزدھرے کمر میں چوڑے چوڑے تیغے باندھے کھڑے تھے۔ ان کے سامنے سبزے پر سنہرے عقابوں اور بازوں اور شکر وں کے جوڑے ٹہل رہے تھے۔

یکایک ایک طرف سے سپاہیوں کی قطار طلوع ہوئی۔ اس نے غلاموں کو واپس کر دیا۔ اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان کے زرد جبوں کی آستینوں ، گریبانوں اور دامنوں پر چاندی کے تاروں کا کام تھا۔ چینی اطلس کے زرد عماموں پر شتر مرغ کے پر لگے تھے ۔ کمر میں بالشت بالشت بھرچوڑی سونے کی پیٹیاں تھیں۔اور موٹے موٹے سیاہ ہاتھوں میں چاندی کا وہ ’’عصا ‘‘ پکڑے ہوئے تھے جن کے سروں پر سونے کے ہلال جڑے تھے۔ سامنے نیزے کے برابر اونچا اسی گز لمبا اور پچاس گز چوڑا سنگِ سیاہ کا چمکیلا چبوترہ تھا جس کے چاروں طرف خوشبودار پانی کی نہر کی گوٹ لگی تھی چبوترے پر سنگ مر مر کا وسیع حوض تھا۔ جس کے حاشیے پر چینی کنیزوں کی سبک ٹانگوں کی طرح زرد پتھر کے ترشے ہوئے ستون نصب تھے۔ ان پر سونے کی مہین قلمکاری جگمگارہی تھی جیسے ٹانگوں پر روئیں چمک رہے ہوں۔ ان ستونوں پر قبہ رکھا ہوا تھا گویا ہوا میں معلق ہو۔ قبے کے چاروں طرف سنگ مر مر کی جالیوں سے مزین شہ نشینیں تھیں جو سنگ سیاہ کے چبوترے کے آئینے میں اپنی آرایش دیکھ رہی تھیں۔ حوض میں قیمتی پتھروں کی سی رنگ برنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ اس کے قلب میں سونے کا بھاری فوارہ متانت سے اڑ رہا تھا ۔ ہر ستون کے سامنے ایک خاص بردار ننگی تلوار علم کئے مطلا و مسبحع مجسموں کے مانند جما ہوا تھا ۔ قبے پر جانے والے زینے کے کھلے ہوئے چاندی کے دروازے پر کیفا کا مشہور ارتقی فرمانروا نور الدین زرد کفتان اور طربوش پہنے کمر میں صرف ایک جڑاؤ خنجر لگائے حاجب بنا کھڑا تھا ۔ پادری نے زمین کو چھوتا ہوا سلام کیا۔ حاجب بارگاہ نے ابرد کو جنبش دی۔ پادری آہستہ آہستہ کا شافی مخمل سے منڈھی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ آخری سیڑھی پر مسلح غلاموں نے پادری کا بازو پکڑ لیا اورکفاکا بیش قیمت پر دہ ہٹا کر داخل کر دیا۔اندر ایک نئی دنیا اسکی منتظر تھی،حیرت و استعجاب کا جہان پھیلا کھڑا تھا۔

جاری ہے

مزید : فاتح بیت المقدس