کشمیر، بابری مسجد…… ہندوستان کا شرمناک کردار

کشمیر، بابری مسجد…… ہندوستان کا شرمناک کردار
کشمیر، بابری مسجد…… ہندوستان کا شرمناک کردار

  



1947ء میں انگریز کی ناجائز حکمرانی کے خلاف برصغیر میں جاری تحریک، جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت دوآزاد مملکتوں کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے, انگریز کی حکمرانی ختم ہوگئی۔ تحریک آزادی کا حق تھا کہ تمام اختتامی امورکوانصاف اورطے شدہ اصولوں کے مطابق حل کرلیاجاتا، لیکن انگریز کے پردازوں اور ہندو برہمنوں نے ناانصافی اور جبر سے ناجائز قبضے کا راستہ اختیار کیا۔ سازش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی ریاست جو پاکستان کا حصہ تھی، اِسے فوجی مداخلت کے ذریعے متنازع خطہ بنادیا۔72سال سے بھارت نے ہر حربہ استعمال کیا، جموں و کشمیر کے عوام کو جبر، خوف، تشدد، لالچ اور فساد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی، لیکن کشمیری عوام نے ہر جبر اور ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے آزادی کا مطالبہ قائم رکھا۔ اقوامِ متحدہ میں بھارتی ایماء پر قراردادیں طے پائیں کہ جموں وکشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دیاجائے گا، لیکن مسلسل جدوجہد اورقربانیوں کے باوجود بھارت حق خودارادیت دینے سے انکاری رہا اور لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کیا گیا، تاکہ کشمیریوں کو جبر کے ذریعے اُن کے جائز بنیادی انسانی حق سے محروم رکھاجائے۔

1947ء میں بدنیتی سے انگریز، ڈوگرہ راج اور ہندوبرہمن نے ساز باز اور گہری سازش کے ساتھ تنازعات کا راستہ اختیار کیا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ خطے میں عوام کے جائز حق کو دبانے کے لئے جبر، ظلم،انسان کشی،تشدد، انتہاپسندی کے در کھول دیئے گئے۔ مختلف اقدام کرتے ہوئے مذاہب کے درمیان فساد،عدم برداشت کی لہر اورزمین گرم کردی گئی۔ بھارتی سیاسی قیادت نے ہوش مندی، انصاف پسندی،انسان دوستی کے بجائے اقتدار کے حصول کے لئے ہندوتوا، ہندوراج،ہندوبالادستی قائم رکھنے کے لئے اقلیتوں کے خلاف عوامی جذبات کو مسلسل مشتعل کئے رکھا، جس سے ہندوتعصب سر چڑھ کر بولتا رہا اور اندرونی تعصبات، سرحدی تنازعات کو بڑھاچڑھا کر سیاسی بساط بچھائی جاتی رہی۔خاص طور پر مسلمان،جو بھارت میں اقلیتوں میں سے سب سے بڑی آبادی ہے، اُسے مسلسل تعصباتی شدت کا نشانہ بنایاگیا، جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات میں متشدد ہندو گروہوں کی ریاستی سرپرستی نے نفرتوں کا زہر گھول دیا۔تمام اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، سکھ، دلت، عیسائی سب ہی کسی نہ کسی شکل میں بھارتی پالیسی سازوں کی سازشی سختیوں کے شکار ہیں۔ سیاسی انتہاپسندی اورتعصبات کی وجہ سے آر ایس ایس کا سیاسی وِنگ بی جے پی 72سال کے خود ساختہ تنازعات کو بے اصولی اور جبر کی بنیاد پرسمیٹنا چاہتا ہے، اِسی لئے جموں و کشمیر کے تنازع اور بابری مسجد پر قبضے کے خاتمے کے لئے بھارتی انتہاپسند ہندو قیادت، ریاستی ادارے، عدلیہ اور متعصب دانش ور ایک پیج پر آگئے ہیں۔ نریندرمودی نے دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے حصول کے لئے ایسے تنازعات حل کرنے کو ترجیح قراردیا اور دوسرے دورِ اقتدار کی ابتداء میں ہی ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے ظالمانہ، جابرانہ اقدام کرنے شروع کردیئے ہیں۔ جموں و کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لئے بھارتی آئین میں دفعات35-A 370حذف کرنے کے علاوہ بابری مسجد کے تنازع کو ختم کرنے کے لئے بھارتی سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرلیاہے۔اِن اقدامات سے صورت حال میں کیا تبدیلی آئی ہے اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات ہوں گے، بابری مسجد، تاریخ، سانحہ انہدام کا پس منظر اور ہندوستان میں عدالتی فیصلے کے بعد انجام اور اثرات کیا ہوئے ہیں یا ہوں گے؟ اِس کی ترتیب کچھ یوں ہے۔

lبابری مسجد میں جو کتبہ نصب تھا، اُس کے مطابق بابری مسجد کی تعمیر 1528-29ء بمطابق935ہجری کو مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر جنرل میر باقی تاشفند کے ہاتھوں ایودھیا کی ”رام کوٹ“نامی چوٹی پر ہوئی، اِس سے پہلے اِس مقام پر تاریخی اعتبار سے کوئی عمارت یا تعمیر ثابت نہیں ہے۔

l……6دسمبر1992ء میں ہندو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں نے بابری مسجد پر حملہ کیا، شہید کیا،تاریخی اور قدیم مسجد کو ملیامیٹ کر دیا گیا، تب سے مسلمانوں کا مسلسل احتجاج جاری رہا، 2000ء میں کم و بیش دوہزار مسلمان شہید، ہزاروں افراد اس احتجا ج کے جرم کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنے۔

lہندوانتہاپسندوں، فسادیوں نے ہندوتعصب کو ابھارنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول گہرا کرنے کے لئے یہ جھوٹا فلسفہ گھڑا کہ جِس جگہ بابری مسجد تعمیر ہوئی، یہ ہندودیوتا ”راما“کی جائے پیدائش ہے۔ ہندو تاریخ اور لٹریچر سے اِس کی کوئی کڑی نہیں ملتی۔

l……2003ء میں پہلی مرتبہ میں آر کیالوجیکل سروے آف انڈیا(یہ ادارہ غیر جانبدار یا آزاد نہیں، بھارتی حکومت کا ادارہ ہے) نے خدشہ ظاہر کیا کہ بابری مسجد کی جگہ کسی پرانے سٹرکچر کی موجودگی ہوسکتی ہے، لیکن بابری مسجد کی جگہ مندر کی موجودگی کا تاحال کوئی تاریخی ثبوت نہیں مِلا۔

l……ستمبر2010ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے دائر دعوے کو مستردکردیا کہ بابری مسجد کی جگہ ”راما“کی جائے پیدائش ہے۔ اِس کے ساتھ ہی عدلیہ نے بابری مسجد کے قریب رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی اور بابری مسجد کے ایک تہائی حصے پر مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دی۔

l……الٰہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف تمام فریقین نے بھارتی سپریم کورٹ میں اپنے اپنے مؤقف کی مطابق اپیلیں دائر کردیں، جس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سماعت جاری رکھی، اگست تااکتوبر2019ء تک مسلسل سماعت جاری رکھنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاگیا اور 9نومبر2019ء کو بھارتی سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سُنا دیا، اس طرح فیصلے کے مطابق:

(i)۔بابری مسجد کی 2.77ایکٹر زمین ٹرسٹ کے حوالے کی جائے، بابری مسجد کی جگہ ہندو مندر تعمیر کیاجائے،جبکہ سُنی وقف بورڈ کو 5ایکٹر متبادل زمین دی جائے، جہاں بابری مسجد تعمیر ہو۔

(ii)۔بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں ہی تسلیم کیا ہے کہ رام مندر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں مِلا اور نہ ہی رام مندر گرائے جانے کا کوئی ثبوت ہے۔ سپریم کورٹ نے 1949ء میں رام ”راما“ کی مورتیاں بابری مسجد میں رکھنے اور 1992ء میں بابری مسجد گرانے کی ہندوانتہاپسندوں کے حملوں اور کارروائی کو بھی غلط قراردیا ہے۔

(iii)۔ثبوت اور ہیں، واقعات کچھ اور بتا رہے ہیں، لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے انتہائی غیر منطقی اور تعصب پر مبنی جانبدارانہ فیصلہ دیا ہے جس سے بھارتی اقلیتیں اور زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ اصل میں بھارتی سپریم کورٹ میں اکثریت آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے کے حامل لوگوں پر مشتمل ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے اِس فیصلے نے پھر سے یہ تاریخی حقائق زندہ کردیئے ہیں کہ:

lبھارتی قیادت اور ادارے ہندو ایجنڈے کی توسیع کے لئے جبر کاہر راستہ اختیار کررہے ہیں، اِس فیصلے سے بھارتی سیکولراِزم کی نام نہاد عمارت زمین بوس ہوگئی ہے۔

lسپریم کورٹ کے بابری مسجد پر متنازعہ فیصلے سے یہ امر بالکل واضح ہوگیا ہے کہ بھارت میں قیادت، دانش وروں، ریاستی اداروں اور عدلیہ کی سطح پر اقلیتوں سے متعلق امورپر انصاف کا حصول ناممکن بنادیاگیاہے اور نہ ان میں تنازعات حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

lمسئلہ کشمیر کے حل کے لئے عالمی برادری بھارت سے توقعات ختم کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ یہی انصاف اور انسانوں کے ساتھ انسانی قدروں کا تقاضا ہے۔ بھارت، ظلم، جبر،انسانیت کش راستے پر دوڑ رہا ہے جو اس خطے اور عالمی امن کے لئے نہایت خطرناک رویّہ ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد کے بارے میں فیصلے نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کے لئے علامہ اقبالؒ کی فِکر اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد درست تھی۔ اِسی تناظر میں پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی استحکام پیدا کرکے قومی ترجیحات کے تعین کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کیاجائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...