عراقی حکومت مظاہرین کی ہلاکتوں کی اصل تعداد سامنے لائے، ہیومن رائٹس واچ 

  عراقی حکومت مظاہرین کی ہلاکتوں کی اصل تعداد سامنے لائے، ہیومن رائٹس واچ 

  



نیویارک  (اے پی پی) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ  نے عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کی اصل تعداد سامنے لائے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے کہا ہے کہ عراق کی ایک مسلح فورس جسے بظاہر عراق کی مقامی نیشنل سکیورٹی فورسز کا تعاون حاصل تھا نے 6 دسمبر کو بغداد میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ صرف 6 دسمبر کے احتجاج کے موقع پر ہلاکتوں کی تعداد 29 سے 80 کے درمیان بتائی جاتی ہے جب کہ طاقت کے استعمال سے 137 مظاہرین زخمی ہو گئے تھے۔ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤں اور طاقت کے استعمال کے وقت علاقے میں بجلی بھی بند کر دی گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس موقعے پر کتنے افراد ہلاک یا بحفاظت فرار ہوئے تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز اس وقت غائب ہوگئی جب ایک نامعلوم ملیشیا نے مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کی، اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری عراقی حکومت پرعائد ہوتی ہے جو مظاہرین کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...