سینئر سیاستدان ظفر علی شاہ کے تہلکہ خیز انکشافات

سینئر سیاستدان ظفر علی شاہ کے تہلکہ خیز انکشافات
سینئر سیاستدان ظفر علی شاہ کے تہلکہ خیز انکشافات

  



سید ظفر علی شاہ ایک سنجیدہ فکر سینئر سیاستدان ہیں، جنہوں نے عملی سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا اور مختلف ادوار میں ان کی وابستگی بعض وجوہات کی بناء پر کئی سیاسی پارٹیوں سے رہی، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک استقلال، پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف شامل ہیں، جس کے باعث ان پارٹیوں کے سربراہوں سے قریبی تعلق کی بناء پروہ کئی اہم واقعات کے امین ہیں،اسی وجہ سے مَیں نے ان سے ملاقات کی،تاکہ ان واقعات کومنظر عام پر لایا جائے۔ آپ اس وقت عمران خان کے دست راست اور قریبی ساتھی زلفی بخاری کے سسر بھی ہیں۔جب مَیں ان سے ملاقات کے لئے ان کے گھر اسلام آباد پہنچا تو انہوں نے بڑی گرم جوشی سے میرا استقبال اور خاطر تواضع کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع کیا انہوں نے بتایا کہ میری پہلی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی تھی اور مجھے پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ضلع راولپنڈی کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا، جبکہ خورشید حسن میر(مرحوم)صدر تھے جن سے میرے کچھ اختلاف ہو گئے، جس پر انہوں نے ذوالفقار بھٹوسے میری شکایت کی تو انہوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل جے اے رحیم کو انکوائری کے لئے کہا، جے اے رحیم اور میر صاحب میں خاصی ذہنی اور نظریاتی ہم آہنگی تھی، انہوں نے مجھے پارٹی سے باہر کر دیا۔مَیں یہ مسئلہ لے کر ذوالفقار علی بھٹو کے پاس گیا جو مجھے عزیز رکھتے تھے۔

انہوں نے میرے مؤقف کی تائید کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل ہیں، جبکہ جے اے رحیم پاکستان کے سیکرٹری جنرل ہیں، جس پر مَیں خاموش ہو گیا اور پیپلز پارٹی چھوڑ کر 1971 ء میں ائیر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں شامل ہو گیا، 1993 ء میں حلقہ پی پی ون سے پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب ہو گیا۔ یہ ٹکٹ مجھے مسلم لیگ (ن) نے دیا تھا جو تحریک استقلال کی اتحادی جماعت تھی۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، لہٰذا ہم حزب اختلاف میں بیٹھے اور میاں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر تھے، بعد میں ائیر مارشل اصغر خان کے میاں نواز شریف سے اختلافات پیدا ہوئے تو انہوں نے ایک خط کے ذریعے مجھے مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کا کہا۔

مَیں نے ان سے کہا کہ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتاکہ مَیں حزب اختلاف چھوڑ کر حکمران پیپلز پارٹی کے بینچوں پر بیٹھوں، تاہم مَیں یہ کر سکتا ہوں کہ آ پ کے ارشاد کی تعمیل میں پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے استعفا دے دوں،جس سے انہوں نے اتفاق نہیں کیا۔ اس مرحلے پر انہوں نے اصغر خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت شریف،دیانتدار اور دلیر آدمی تھے۔جب مَیں نے شاہ صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ اپنے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں اصغر خان نے کہا تھا کہ پاک بھارت جتنی بھی جنگیں ہوئیں، وہ سب کی سب پاکستان نے شروع کی تھیں، جبکہ فوجی اور سیاسی زعماء نے اس سے صریح انکار کیا تھا…… تو وہ گویا ہوئے کہ میری اس سلسلے میں ان سے کبھی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے۔میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ مَیں مسلم لیگ (ن) میں 1996ء میں شامل ہوا، اس وقت مَیں پنجاب اسمبلی کا ممبر تھا۔ میرے اس سوال پر کہ انہوں نے میاں نواز شریف کو کیساپایا تو انہوں نے بتایا کہ مَیں ان کی وزارت عظمٰی کے دور میں قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری تھا،

میاں نوازشریف ایک وضع دار آدمی ہیں اور انہیں اپنے جذبات پر کنٹرول میں مکمل عبور حاصل ہے، وہ دل کی بات کبھی ظاہر نہیں کرتے، مگر ان کی خامی یہ ہے کہ وہ کانوں کے بڑے کچے ہیں، اگر ان میں یہ بات نہ ہوتو وہ ایک بڑے سیاستدان ہیں، میرے اس سوال پر کہ آپ 27سال تک میاں نوازشریف کے ساتھ رہے ہیں، اس طویل رفاقت کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ ہوتو بتائیں کچھ دیر سوچنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ واقعات تو کئی ہیں،لیکن مَیں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ جب میاں نوازشریف وزیراعظم اور مَیں پارلیمانی سیکرٹری تھا تو میاں نوازشریف انسداد دہشت گردی عدالتوں کا بل قومی اسمبلی سے پاس کرانا چاہتے تھے، جس کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی،جس میں میرے علاوہ امیر حسین، چودھری عبدالغفور اور دیگر کئی لوگ اس کے ممبر تھے۔ جب اس کا ڈرافٹ تیار کیا گیا تو اس میں شامل کئی دفعات سے مجھے اختلاف تھا۔

کمیٹی میں مجھ سمیت سارے ممبر تقریباً وکلا تھے، مَیں نے ان سے کہا کہ یہ قانون نہیں بننا چاہیے، انہوں نے کہا کہ یہ میاں نوازشریف کا منظور کردہ ہے، لہٰذا انہوں نے اسے ختم کرنے سے معذرت کر لی تو مَیں نے براہ راست میاں نوازشریف سے ملاقات کی اور کہا کہ اسمبلی میں زیر بحث آنے سے پہلے میری تجویز کردہ دفعات اس سے نکال دیں، ان سے عوام پر بُرا اثر پڑے گا، مگر انہوں نے میری بات نہ سُنی، یہاں تک کہ جب بل پر اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی تومَیں اپنی نشست سے اُٹھ کرمیاں نوازشریف کے پاس گیا، ان کے ساتھ راجہ ظفر الحق بیٹھے ہوئے تھے مَیں نے ان سے کہا کہ مَیں تو میاں نوازشریف سے کہہ کہہ کے تھک گیا ہوں کہ اس بل سے چند دفعات نکال دیں، مگر وہ نہیں مانے، آپ ان سے کہیں، تو انہوں نے بھی کچھ نہ کیا۔ مَیں ایک بار پھر میاں نوازشریف کے پاس گیا اور اپنی بات دہرائی مگر انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات بہت خراب ہیں اور یہ بل ان کی اصلاح کا باعث بنے گا،پھر یہ بل پاس ہوگیا۔

بل کے پاس ہونے کے تیسرے روز کراچی کے ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں جاکر نہ صرف میری بتائی ہوئی دفعات، بلکہ اورکئی دفعات کو بھی چیلنج کر دیا اور تقریباً دوہفتوں میں سپریم کورٹ نے وہ دفعات ختم کردیں۔میاں نوازشریف کے بہ حیثیت وزیر اعظم آخری دنوں میں،جبکہ ان کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا تھاتو ایک ٹی وی پروگرام کے دوران اینکر نے مجھ سے کہا کہ اس وقت آپ میاں نوازشریف کو کیا مشورہ دیں گے؟ تو مَیں نے کہا کہ وہ مستعفی ہوجائیں، بصورت دیگر سپریم کورٹ ان کو نااہل قرار دے دے گی اور آخر وہی ہوا۔جب مَیں نے ظفر علی شاہ سے پوچھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتنی طویل رفاقت کے بعد اب آپ تحریک انصاف کا حصہ ہیں تو یہ بتائیں کہ تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ مَیں تحریک انصاف کا ووٹر اور سپورٹر ہوں، مجھے عمران خان کاایک کام بہت پسند ہے، وہ ہے کرپشن کے خلاف ان کے اقدامات اور یہ کام صرف وہی کر سکتے تھے اور کر رہے ہیں،اس پر جب مَیں نے ان سے کہا کہ احتساب تو صرف دو ہی پارٹیوں کا ہورہا ہے تو انہوں نے کہا ظاہر ہے کہ احتساب انہی کا ہو گا جو کرپشن میں ملوث ہوں گے۔ جتنے بوگس اکاؤنٹ ظاہر ہوئے ہیں،قلفی،پکوڑے اور سموسے بیچنے والوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے نکل رہے ہیں۔

میرے پوچھنے پر کہ احتساب کا عمل سست کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مافیاچھایا ہواتھا، ان لوگوں کو جیل میں بھیجنا کوئی آسان کام نہیں، مگر موجودہ حکومت یہ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بڑے وثوق سے کہا کہ نواز شریف کچھ دے چکے ہیں اور کچھ دیں گے۔ اسی طرح آصف علی زرداری بھی دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں، یہ سب کچھ پسِ پردہ ہورہا ہے، جب مَیں نے ان سے یہ پوچھا کہ اگر یہ بات ہے تو عوام کو کیوں نہیں بتایا جارہا، انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ بڑی غیر ملکی شخصیات ضامنوں میں شامل ہیں، جس کے باعث بعض مصلحتوں سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ جب مَیں نے ان سے یہ پوچھا کہ وزراء اور دیگر حکومتی اراکین چور اور ڈاکوپکڑے جانے کا شور اور واویلا کرتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ وزراء وغیرہ کے علاوہ خود عمران خان بھی اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں، کیونکہ ان کا تو ایجنڈاہی کرپشن کاخاتمہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کیا یہ کوئی معمولی بات ہے کہ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری دونوں بڑے خاندانوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ کوئی یہ تصور کرسکتا تھا کہ نوازشریف کرپشن کے میدان میں ننگا ہوگا۔ میرے اس سوال پر کہ میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اثاثوں کو منجمد کرنے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے اور آپ کے اثاثے کیوں منجمد نہیں ہوئے؟ 22کروڑ آبادی میں اور لوگوں کے اثاثے کیوں منجمد نہیں ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ حمزہ کی عمر کے لوگ تو سائیکل نہیں خرید سکتے تو ان کے پاس اتنی دولت کیسے اور کہاں سے آئی؟۔جب مَیں نے ان سے یہ پوچھا کہ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان احسان فراموش ہے تو اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں، میرے استفسار پر کہ سیاست کیا ہے؟ تو انہوں نے برجستہ جواب دیاکہ سیاست خدمت ہے، ان لوگوں نے سیاست کو کاروبار اور پیشہ بنالیا ہے جو سراسر غلط ہے۔ سیاست صرف خدمت سے عبارت ہے، یہ کوئی پیشہ نہیں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی سیاست کرتا ہوں مگر یہ میرا پیشہ نہیں میرا پیشہ وکالت ہے مَیں نے ملاقات کے آخر میں ان سے پوچھا کہ آپ ایم این اے اور ایم پی اے رہے ہیں، اس میں عوام سے مسلسل رابطہ رہتا ہے، جبکہ سینیٹر بننے کے بعد عوام سے رابطہ نہیں رہتا تو انہوں نے کہا آج تو ناتجربہ کار لوگ بھی سینیٹر بنے ہوئے ہیں، جبکہ سینیٹر تو منجھے ہوئے تجربہ کار شخص کو ہونا چاہیے، جہاں تک میرا تعلق ہے تو مَیں جب سینیٹر تھا توبھی میرا عوام سے بھر پور رابطہ تھا اور اب بھی میرا عوام سے رابطہ ہے اور یہ ہر صورت میں قائم رہے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...