آئین کا پھندہ

آئین کا پھندہ
آئین کا پھندہ

  



سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے۔ تین ججوں کے بینچ میں دو ججوں نے سزائے موت دی، جبکہ تیسرے جج نے اختلاف کیا،اس طرح ایک بڑی تاریخ رقم ہو گئی۔ اس سزا پر عملدرآمد کی نوبت تو شاید نہ آئے، کیونکہ ابھی کئی مرحلے باقی ہیں، تاہم کسی آمر کو سزائے موت سنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ پرویز مشرف کئی لحاظ سے ہماری سیاسی تاریخ کا اہم کردار رہے ہیں۔ اب وہ پہلے سابق آرمی چیف بھی بن گئے ہیں، جنہیں آئین شکنی پر سزائے موت کا سزا وار قرار دیا گیا ہے۔ یہ سزا ان کی غیر حاضری میں چلائے جانے والے غداری کے مقدمے میں سنائی گئی ہے۔ وہ بار بار طلبی کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ کرانے عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

کیا یہ ان کا اچھا فیصلہ تھا؟ کیا بیان ریکارڈ کرا کے وہ اس وقت کے حالات بیان کر دیتے جو اس وقت ملک کو درپیش تھے، جب انہوں نے آئین کو معطل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا، تو ان کی سزا یہی رہتی یا کوئی ریلیف مل جاتا؟ کیا انہوں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا یا وہ اس خیال کے زیر اثر تھے کہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے تو یہ مقدمہ یونہی لٹکا رہے گا۔ کیا وہ خوش فہمی میں مارے گئے یا انہیں قانونی مشیروں نے اس حال تک پہنچایا۔ بہر حال وجہ چاہے کچھ بھی رہی ہو، تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ سزائے موت پانے کے حقدار قرار دے دیئے گئے ہیں۔ ان کا وہ نظریہ ٹوٹ گیا ہے کہ مَیں نے پاکستان آرمی کی خدمت کی ہے، فوج میرے ساتھ کھڑی ہے۔ کوئی مجھے سزا کیسے سنا سکتا ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں فوج اپنی حدود کا تعین کر چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں قانون بنانے کا تفصیلی حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ سب کچھ قانون کے نیچے آ رہا ہے تو کوئی خود کو قانون سے بالا کیسے سمجھ سکتا ہے۔ سات دہائیوں بعد ملک میں یہ مثال بھی بن گئی کہ جو آئین توڑے گا، غدار کہلائے گا اور غدار کی سزا آئین میں موت درج ہے۔

اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پرویز مشرف اس شخصی جنگ کا شکار ہوئے ہیں، جو ان کی نوازشریف کے ساتھ رہی ہے، یہ شخصی جنگ اس وقت بھی تھی، جب نوازشریف نے انہیں آرمی چیف کے عہدے سے برطرف کیا تھا اور انہوں نے جواب میں ان کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ شخصی جنگ اس وقت بھی تھی، جب کارگل کی جنگ میں دونوں ایک دوسرے کے متضاد سوچ رہے تھے، پھر یہ شخصی جنگ اس وقت بھی جاری رہی جب نوازشریف نے پاکستان واپس آنے کی کوشش کی اور پرویز مشرف نے انہیں ایئرپورٹ سے واپس بھجوایا۔ البتہ نوازشریف نے پرویز مشرف کے خلاف اپنی شخصی جنگ کو اچھے وقتوں کے لئے اٹھائے رکھا۔ پھر جب پرویز مشرف اقتدار سے رخصت ہو گئے تو انہیں آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مرتکب قرار دے کر اس مقدمے کی بنیاد رکھ دی، جس میں آج پرویز مشرف سزائے موت کے حقدار ٹھہرے ہیں، لیکن کیا یہ واقعی صرف نوازشریف کی وجہ سے ہوا ہے؟ کیا پرویز مشرف،جنہیں گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا تھا، اس بات سے غافل تھے کہ انہوں نے آئین توڑنے کا ارتکاب تو ایک سے زائد بار کیا؟ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایک بار اپنے اقدامات کو سپریم کورٹ سے آئینی کرانے کے بعد ان کی حیثیت وہ نہیں رہی تھی جو نوازشریف کو برطرف کرنے کے وقت تھی۔

کیا انہوں نے اقتدار کے گھمنڈ میں آئین کو واقعی کاغذ کا چیتھڑا نہیں سمجھ لیا تھا۔ وہ یہ بھی بھول گئے تھے کہ گارڈ آف آنرز کے ساتھ رخصتی کا معاملہ اتنا اہم نہیں، جتنا اہم آئین توڑنے کے الزامات کو پارلیمینٹ کے ذریعے سیدھا کرانا ہے۔وہ چاہتے تو پیپلزپارٹی کو اقتدار منتقل کرتے وقت اپنے غیر آئینی اقدامات کی منظوری دینے کا معاملہ بطور شرط رکھ سکتے تھے، مگر وہ یہ سب باتیں بھول گئے۔ بعد میں جب اقتدار سے محروم ہوئے تو وہ ایک ایسے بے آب و گیاہ جنگل میں کھڑے تھے، جہاں اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

ان کی کوتاہ نظری تو اس وقت بھی سامنے آئی،جب انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنا کر ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ زبردستی ملک میں داخل ہوئے اور یہ ظاہر کرنے لگے، جیسے پاکستان کے نجات دہندہ وہی ہوں، حالانکہ وہ اتنے مقبول ہوتے تو وردی اتارنے کے بعد ایک سویلین صدر کی حیثیت سے ملک میں موجود رہتے، انہیں تو اقتدار چھوڑ کر بیرون ملک جانا پڑا۔ اگر وہ کسی پُر فضا مقام پر خاموشی کے ساتھ اچھے دنوں کو یاد کر کے زندگی گزارنے کا آغاز کر دیتے تو کوئی ان کا پیچھا نہ کرتا، مگر وہ تو پاکستانی سیاست میں اپنا کردار چاہتے تھے۔ بات بے بات سیاسی قیادت پر تنقید کرتے اور واپس آ کر سب کو سیدھا کرنے کی باتیں بھی کرتے تھے۔ اب اسے تو عام زبان میں ”آبیل مجھے مار“ ہی کہا جاتا ہے۔ ان کا راستہ اور منہ بند کرنے کے لئے، غداری کیس کی بنیاد رکھی گئی۔ شروع میں تو پرویز مشرف نے بھی اسے ٹھٹھے مخول میں اڑا دیا، سینے پر مکا مار کر کہا فوج میرے ساتھ ہے،

کسی کی جرأت نہیں میرے خلاف کارروائی کرے، تاہم وقت آگے بڑھا تو سنگینی بھی بڑھتی گئی اور حالات ایسے ہو گئے کہ گرفتاری سے بچنے کے لئے راولپنڈی کے ایئر فورس ہسپتال میں ہنگامی طور پر داخل ہونا پڑا۔ قانون حرکت میں آیا تو پرویز مشرف کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہوا پھر اسی بیماری کے بہانے وہ باہر چلے گئے اور واپس نہ آ سکے۔ ان کا خیال تھا مقدمہ رک جائے گا، معاملات دب جائیں گے، عدلیہ ریلیف دے گی، اچھا وقت آئے گا، مگر حالات تو بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ مجھے اس وقت بہت ترس آیا جب اس مقدمے کو رکوانے کے لئے پرویز مشرف نے بیماری کے عالم میں ویڈیو بیان جاری کئے جس میں التجا کی گئی کہ اس مقدمے کو ختم کر دیا جائے، یہ سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے، مَیں سخت بیمار ہوں، بستر سے اٹھ نہیں سکتا، میرا بیان ریکارڈ کرانا ہے تو ویڈیو لنک کے ذریعے ہسپتال سے ریکارڈ کر لیا جائے، لیکن کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی اور اب تلخ حقیقت یہ ہے کہ پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ اس سزا کے خلاف وہ اپیل کیسے کریں گے؟ کیا گرفتاری دیئے بغیر سزا ہو سکے گی؟ کیا وہ وطن واپس آئیں گے، کیا انہیں واپس لانے کی کوشش کی جائے گی؟ ان گنت سوالات ہیں جن کا جواب فی الوقت ملنا مشکل ہے۔

کیا اس سزا کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں آئندہ کے لئے غیر آئینی تبدیلی کا راستہ بند ہو گیا ہے؟ یہ سوال ابھی قبل از وقت ہے، اصل سوال یہ ہے کیا ہماری سیاسی قیادت اتنی بالغ نظر ہوئی ہے کہ جمہوریت کو سنبھال سکے۔ آج بھی سلیکٹرز کہہ کر کسے مخاطب کیا جاتا ہے، کسے اہمیت دی جاتی ہے، کس سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ منتخب حکومت کو وقت سے پہلے گھر بھیجے اور نئے انتخابات کرائے، ایسا آئینی طور پر کون کر سکتا ہے، اگر کوئی نہیں تو پھر غیر آئینی مطالبہ کس سے کیا جاتا ہے؟ برطانیہ میں پانچ برسوں کے دوران تین مرتبہ عام انتخابات ہوئے۔ کسی سلیکٹر کی وجہ سے نہیں، بلکہ سیاسی قیادت کے فیصلوں سے، یہاں مولانا فضل الرحمن،جو اسمبلی میں نہیں، یہ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ دسمبر میں حکومت جانے والی ہے اور بھیجنے والوں نے انہیں یقین دہانی کرا دی ہے۔ یقین دہانی کرانے والے کون ہیں؟ وہ کیسے کرا سکتے ہیں؟ سو جب تک غیر آئینی تبدیلی کا راستہ دیکھنے والے باز نہیں آئیں گے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غیر آئینی تبدیلی نہیں آئے گی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ پرویز مشرف کو سزا سنانے سے ایک تاریخ ضرور رقم ہو گئی۔ یہ روایت ضرور پڑ گئی ہے کہ غیر آئینی اقدامات اور آئین شکنی پر خود آئین کا پھندہ گلے میں پڑ سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...