پارلیمان کی دوتہائی اکثریت؟

پارلیمان کی دوتہائی اکثریت؟
پارلیمان کی دوتہائی اکثریت؟

  



اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف پانچ روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وہ لینڈمارک تحریری عدالتی فیصلہ جاری کر دیا جس کا سب کو انتظار تھا۔ یہ فیصلہ 43صفحات پر مشتمل ہے جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے اور اس میں چیف جسٹس کا دو صفحات کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔ اس طرح کے اضافے نوٹ تب لکھے جاتے ہیں جب فیصلے کے متن میں کسی ادھورے پن کا شائبہ محسوس ہو یا کوئی جسٹس اپنی بات کو کسی نکتے پر زیادہ وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہو۔

یہ فیصلہ اب آ چکا ہے اور اس پر تادمِ تحریر تبصرے ہو رہے ہیں۔ تجزیہ نگار اپنی اپنی تشریحات سامنے لا رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس فیصلے میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں۔ اب حکومتی ٹیم اس فیصلے کا جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی کہ ریویو میں جانا ہے یا نہیں۔ اگر جانا ہے تو اس میں کامیابی کے کتنے امکانات ہیں اور اگر نہیں جانا تو کیا کرنا ہے اور مزید براں دوسری آپشنز کیا ہیں وغیرہ وغیرہ…… 16دسمبر بروز سوموار یہ فیصلہ آیا اور ملک کے چوٹی کے وکلاء اور ریٹائرڈ جسٹس صاحبان ٹیلی ویژن سکرینوں پر آ آکر اس پر بحث و مباحثہ کرتے رہے۔ لیکن ایک پہلوجو سوموار کی شب تک میرے ذہن میں کھٹکتا رہا وہ یہ تھا کہ کسی ریٹائرڈ سینئر سروس آفیسر نے اس فیصلے پر اپنا تجزیہ نہیں دیا…… میں نے خود کئی ریٹائرڈ سینئر آفیسرز سے بات کی اور یہ سوال پوچھا کہ آیا اس فیصلے کا کوئی اثر فوج کے اجتماعی مورال پر بھی پڑے گا یا نہیں؟ اکثریت نے زور دے کر کہا کہ علاقائی عسکری تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی مناسب وقت نہ تھا کہ آرمی چیف کی توسیع کے سوال کو متنازعہ بنایا جاتا۔ آئین اور قانون میں بے شک کوئی خامی رہ گئی ہو گی لیکن اگر گزشتہ 72برسوں سے کسی روائت کا تتبع کیا جاتا رہا ہے تو اب کیا ضروری ہو گیا تھا کہ روائت شکنی سے کام لیا جاتا اور اصرار کیاجاتا کہ قانون میں یہ نہیں لکھا اور آئین میں وہ تحریر نہیں۔ یہ این و آن اگر گزشتہ پون صدی میں قابلِ قبول تھا تووقت کے اس نازک مرحلے پر کیوں نہیں۔ موجودہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کی بڑی وجہ ہی وہ نازک،پیچیدہ اور پُرخطر علاقائی صورتِ حال تھی جس میں پاکستان گھرا ہوا ہے۔ اس گھمبیر سچوایشن میں قانونی باریکیوں کو سامنے لا کر ایک ایسا سوال اٹھانا جس سے ملکی استحکام اور امن و امان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو محلِ نظر ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نے تو یہ تک کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت (برطانیہ) کا کوئی تحریری آئین موجود نہیں اور سب کچھ روایات پر چل رہا ہے تو پاکستان میں آرمی چیف کی توسیع کی جو روائت ماضی سے چلی آ رہی ہے اور ایک سے زیادہ بار دہرائی جاتی رہی ہے اس کو احاطہ ء تحریر میں تبدیل کرنا، یا قانون کا حصہ بنانا یا ایسی پارلیمان سے وہ قانون سازی کروانے کی توقع رکھنا جس میں بڑے بڑے سیاسی اختلافی ”شگاف“ موجود ہوں، ایک محلِ نظر موضوع ہے۔

اسی ملاقات میں ایک اور سینئر آفیسر نے میری توجہ انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت کے اس بیان کی طرف مبذول کروائی جو انہوں نے ایک روز قبل 15دسمبر (اتوار)کو ممبئی میں دیا۔ جنرل راوت ممبئی میں منوہر پریکارمیموریل لیکچر کی افتتاحی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ اس بیان کے چیدہ چیدہ نکات قابلِ توجہ ہیں۔ جنرل راوت کا کہنا تھا:

1۔ انڈیا کو ایک ”چھوٹی اور باصلاحیت“ (Leaner and Meaner) فورس کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور چونکہ بڑی عسکری پیچیدگیوں کا دور ہے۔اس لئے اگر اس میں کوئی کامیابی (فتح) حاصل کرنی ہے تو زیادہ کثیر تعداد (Robust) فورس کی ضرورت نہیں۔

]اس آفیسر نے کہا کہ اجازت دیجئے کہ میں دوستوں کو مرحلہ وار جنرل راوت کی ایک ایک شق کا پس منظر بھی ساتھ ساتھ بیان کرتا جاؤں …… سوال یہ ہے کہ اگر جنرل راوت نے ”چھوٹی اور باصلاحیت“ فورس کی بات کی ہے تو وہ شائد 26اور 27فروری 2019ء کے واقعات / سانحات کو نہیں بھولے۔ 26 فروری کو انڈیا نے پاکستان کے خلاف ایک ”سرجیکل سٹرائک“ لانچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس کو منہ کی کھانا پڑی۔ 27فروری کو انڈیا کے دو طیاروں کا مار گرایا جانا اور ایک انڈین پائلٹ کا گرفتار ہونا عہدِ حاضر کی ایک ایسی بڑی عسکری ذلت ہے جس کو کوئی انڈین سولجر بھول نہیں سکتا۔ جنرل راوت نے گویا یہ اعتراف کیا ہے کہ پاکستان آرمی انڈین آرمی کے مقابلے میں اگرچہ Leaner بھی ہے اور Meaner بھی ہے، لیکن اس کے باوجود اس آرمی نے انڈیا کی کثیر التعداد (Robust) فورس (آرمی اور ائر فورس) کو شکست دی اور بین الاقوامی عسکری برادری میں انڈیا کی ناک کٹوا دی۔ جنرل بپن راوت نے اگرچہ نام نہیں لیا تاہم ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ہمیں پاکستان کی طرح کی ایک چھوٹی (Leaner) فورس درکار ہے جو باصلاحیت (Meaner) ہو اور کارگر وار بھی کر سکے[

2۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انڈیا کے لئے خطرات (Threats) بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس لئے یہ بات بہت اہم ہے کہ قومی سلامتی کے لئے محض فوج کو ذمہ داری سونپ کر خاموش ہو کر نہ بیٹھا جائے بلکہ ملک کے ایک ایک شہری کو ملکی دفاع میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قومی سلامتی اب دفاعی فورسز کی خصوصی عملداری (Exclusive Domain) سے باہر نکل کر آگے چکی ہے۔

]اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈین آرمی چیف یہ گلہ کر رہے تھے کہ بالا کوٹ پر حملے کی کامیابی یا ناکامی پر پوری ہندوستانی قوم نے اس طرح کا ردعمل ظاہر نہیں کیا، جیسا کہ اس سے توقع تھی…… چاہیے تو یہ تھا کہ بھارت کا ہر شہری باہر نکل آتا اور پاکستان کے خلاف ایسے مظاہروں میں حصہ لیتا کہ انڈین آرمی اور ائر فورس کو یہ ڈھارس بندھ جاتی کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے…… ایسا نہیں ہوا…… بلکہ بعض ریٹائرڈ جرنیلوں نے تو انڈین آرمی کے ایکشن کو موردِ تنقید بھی بنانا شروع کر دیا اورکئی لکھاریوں اور دانشوروں نے انڈین ایکشن کو سپورٹ نہ کیا جس کی وجہ سے انڈین فوج کا مورال ڈاؤن ہوا۔[

3۔آج کے اسلحہ جات زیادہ مہلک ہو چکے ہیں۔ اس لئے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ عوام کو دشمن کے کسی حملے میں کم سے کم نقصان اٹھانا پڑے تو آپ کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔

]جنرل راوت کا اشارہ اس طرف تھا کہ پاکستان نے بالاکوٹ پر حملے کے بعد صرف 12گھنٹوں کے اندر اندر اپنی ”شکست“ (یعنی حملہ آور انڈین ائر فورس کو بروقت انٹرسیپٹ نہ کرنے کی غلطی)کا بدلہ لے لیا اور اس طرح ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ جنرل راوت کھل کر تو یہ بات نہیں کہہ سکتے تھے کہ پاکستان نے کم سے کم وقت میں کم سے کم نقصان اٹھا کر انڈیا کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا۔[

4۔ ہم اپنے سیاسی مقاصد اسی وقت ہی حاصل کر سکتے ہیں کہ جب بین الاقوامی برادری درمیان میں ”کود“ کر دونوں فریقوں میں جنگ بندی نہ کروا دے…… ہم اب ”ری ایکشن“ کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ ”ایکشن“ پر فوکس کریں گے۔

]یہ کھلا اشارہ بھی 26فروری کے واقعہ کی طرف تھا۔ جنرل راوت سامعین کو یاد دلا رہے تھے کہ پلواما کے پاکستانی ایکشن کے بعد ہم نے بالاکوٹ کا ری ایکشن کیا جو تاخیر سے تھا۔ لیکن اب ہم ایکشن میں پہل کریں گے…… قارئین نے دیکھاہو گا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے جو آئے روز بلا اشتعال فائرنگ ہو رہی ہے(یا ماضی ء قریب میں) ہوتی رہی ہے تو اس میں انڈین آرمی چیف کا یہی ”فلسفہ“ جھلکتا ہے کہ انڈین آرمی اب حملے میں پہلے کر رہی ہے اور ری ایکشن کا انتظار نہیں کرتی[

اس چہارگانہ محفل میں ایک صاحب نے لقمہ بھی دیا اور وضاحت کی کہ اگر جنرل بپن راوت بغیر نام لئے اپنی فوج کا عسکری ڈاکٹرین پیش کر رہا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ وہ 31دسمبر کو ریٹائر ہو رہا ہے اور اس کی جگہ سکھ لائٹ انفنٹری کا جنرل منوج نروان نیا آرمی چیف بن رہا ہے۔ وہ اس وقت وائس چیف ہے اور راوت ریٹائرمنٹ کے بعدانڈین ملٹری کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف (CDS) مقرر کیا جا رہا ہے۔ منوج، وائس چیف بننے سے پہلے ایسٹرن کمانڈ کا آرمی کمانڈر تھا جو انڈو۔ چائنا بارڈر پر لگی ایک اہم کمانڈ ہے اور منوج کی ذمہ داری کا علاقہ 4000کلومیٹر طویل بارڈر تھا۔ چونکہ جنرل راوت نے پاکستان کا نام نہیں لیا اس لئے میرا خیال ہے کہ اس کا اشارہ اس لیکچر میں پاکستان اور چین دونوں کی طرف تھا۔ یہی بات جنرل راوت پہلے بھی کئی بار فرما چکے ہیں کہ انڈین آرمی اپنے دونوں ”مہربانوں“ سے بیک وقت نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ ان کا خیال ہے کہ 27فروری کو پاکستان نے جو ری ایکشن کیا تھا تو اسے چین کی اشیرباد بھی حاصل تھی……

انڈیا کا بڑا مسئلہ پاکستان نہیں، چین ہے اور جہاں تک جنرل باجوہ کا تعلق ہے تو وہ اگر 6ماہ بعد ریٹائر بھی ہو جاتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ افراد آتے جاتے رہتے ہیں، ادارے دائمی ہونے چاہئیں۔ پاکستان آرمی اور اس کی دوسری دونوں سروسز افراد کی محتاج نہیں۔ اس لئے ”باجوہ یا نو باجوہ“ پاک فوج ایک ادارے کی حیثیت سے دشمن کی ہر تھریٹ کا منہ توڑ جواب دے گی اور جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پاک آرمی کے مورال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

قارئین کو معلوم ہوگا کہ اس طرح کے ”نجی ٹاک شوز“ آج کل تقریباً آئے روز پاکستان میں جگہ جگہ منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ایک طرح کا ”خاموش ٹاک شو“ بن چکا ہے۔ اس کا دائرۂ تاثیر روائتی ٹی وی ٹاک شوز سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ اسی محفل میں ایک اور صاحب نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع پر ایک اور طرح کا تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ: ”میں شرط لگاتا ہوں کہ آنے والے چند ہفتوں میں پاکستان کی پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے جنرل باوجوہ کو تین سال کی توسیع دینے پر صاد کر دے گی…… آپ دیکھتے جائیں کیا ہوتا ہے…… نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے ’بخوشی‘ وہی کچھ کرنا ہے جو کچھ عرصہ پہلے سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے وقت کیا تھا۔ اگر آج آئین میں کسی سروس چیف کی توسیع کا ذکر نہیں تو آنے والے کل میں ہو جائے گا۔ اور یہ ترمیم کوئی ایسی انہونی بات بھی نہیں۔ کیا آئین میں پہلے ترامیم نہیں ہوتی رہیں؟آصف زرداری کو رہاکرنے اور حمزہ شہباز اور سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی Moves بھی اسی پلان کا حصہ ہیں“۔

انہوں نے ایک اور ”انکشاف“ کرکے محفل کو چونکا دیا۔ کہنے لگے: ”اسی آئینی ترمیم میں عدلیہ کے جج صاحبان کی مدتِ ملازمت کا بھی از سرِ نو تعین کر دیا جائے گا۔ یہ خبریں تو میڈیا پر آ رہی ہیں کہ حکومت سپریم کورٹ کے 16دسمبر کے فیصلے پر ریویو پٹیشن دائر کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت سے اگر کسی سروس چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا تعین کر دیا جاتا ہے تو یہی اکثریت اور بھی بہت کچھ کر سکتی ہے!……

مزید : رائے /کالم


loading...