سوشل میڈیا پتلون سلامت نہیں رہنے دے گا

سوشل میڈیا پتلون سلامت نہیں رہنے دے گا
 سوشل میڈیا پتلون سلامت نہیں رہنے دے گا

  



ملک میں حکومت نظر آرہی ہے نہ اپوزیشن، اگر کچھ نظر آرہا ہے تو انارکی نظر آرہی ہے، کہیں ینگ ڈاکٹر ہڑتال کرتے ہیں تو کہیں ینگ لائرز ہسپتال پر حملہ آور ہوتے نظر آتے ہیں، کہیں طلباء یونین کے حامی ایشیا سرخ ہے کے نعرے لگارہے ہیں تو کہیں پولیس گردی انتہاؤں کو پہنچی نظر آتی ہے۔

اس ملک کو قیادت کے بحران میں مبتلا کردیا گیا ہے، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے معاملے پر قانونی نقاط اٹھا کر ایک نئی بحث شروع کردی ہے اور اب چھتیس پرائیویٹ ٹی وی چینل مل کر بھی ریاست کا بیانیہ نہیں دے پا رہے ہیں اور ایک اکیلا پی ٹی وی اس معاملے پر حکومتی بیانیہ دینے سے گریزاں ہے۔

حکومت کی سنیں تو لگتا ہے کہ نون لیگ ابھی بھی اقتدار میں ہے اور نون لیگ کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ساری کی ساری نون لیگ سمٹ کر میاں جاوید لطیف کی شخصیت میں سموچکی ہے، ٹی وی چینلوں پر صحافی تجزیہ کار یوں چھائے ہوئے ہیں جیسے اصل اقتدار ان کے پاس ہے اور سیاستدان یوں گم ہیں جیسے اگر کسی سکرین پر نظر آئے تو ان کی نوکری جاتی رہے گی۔ عوام صحافی تجزیہ کاروں کو سیریس نہیں لیتے اور صحافی تجزیہ کار سیاستدانوں کو!.... ہم بحیثیت قوم کس جانب بڑھ رہے ہیں؟

فوج کی اپنی بے بسی دیدنی ہے کہ اس سے کے سب سے بڑے عہدے کے حوالے سے اسقام کھل کر سامنے آگئے ہیں، جو بہرحال سابق آرمی چیف جنرل مشرف پر غداری کے مقدمے سے بڑھ کر سنجیدگی کے متقاضی ہیں مگر اس حوالے سے بھی پی ٹی آئی حکومت نے اپنے سارے انڈے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کی ٹوکری میں ڈال دیئے ہیں جو اپنے آپ کو شریف الدین پیرزادہ سے زیادہ بڑا قانونی جادوگر ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سے حکومت اور ریاست کے اصل قانونی جادوگر ڈاکٹر فروغ نسیم غائب ہیں، یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی تادم تحریر کوئی ٹوئیٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

اب سب کچھ عدلیہ اور میڈیا کے سہارے چل رہا ہے، یعنی ریاست کا دوسرا اور چوتھا ستون ہی ریاست چلا رہے ہیں، جہاں تک پہلے اور تیسرے ستون کا معاملہ ہے تو دونوں ہی ریاست کو چلانے میں نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک ایسی خاموشی ہے جو طوفان کے آنے سے پہلے ہوتی ہے، پاکستان میں ایسا کیا ہونے والا ہے کہ کیا لیڈر آف دی ہاؤس اور کیا لیڈر آف دی اپوزیشن، کوئی بھی ملک میں نہیں ٹھہر رہا ہے، ایسے میں اگر بلاول بھٹو اس کم سنی میں وزیر اعظم کے عہدے پر متمکن ہوجاتے ہیں تو سوائے تقریروں کے ان کے پلے کیاہوگا جس طرح وزیر اعظم عمران خان کے پلے بھی سوائے کھوکھلے دعوؤں اور نعروں کے کچھ نظر نہیں آتا، کیا ملک محض تقریروں، دعووں اور نعروں کے بل پر چل سکتے ہیں؟

ایسا لگتا ہے کہ ریاست پاکستان نے بیانئے کی جنگ اس قدر شدومد سے لڑی ہے کہ اب اس ملک کا بیانیہ گم ہوگیا ہے، ہمیں ڈنڈے کی حکومت چاہئے یا ووٹ کو عزت والی حکومت، کرپشن سے پاک مگر عقل و خرد سے خالی حکمران چاہئے یا موروثی سیاست کے امینوں کو گلے سے لگانا ہوگا، کچھ بھی قابل اعتبار نہیں رہا ہے، ہر کسی کے خلاف عوام نے شکایات کا دفتر کھولا ہوا ہے، ایسے میں ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے تجزیہ کاروں کے تجزیئے بھی ٹھس ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا حال ان کرکٹ کے مبصرین کا ہے جو کمنٹری باکس میں بیتھ کر چائے کی چسکیاں بھرتے باتوں کے چوکے چھکے لگاتے ہیں، مگر گراؤنڈ میں اتاردیا جائے تو بغیر عینک لگائے گیند نہ دیکھ پائیں!

جب تک یہ روش ترک نہیں ہوتی کہ پہلے سیاسی قیادت کو گملوں میں اگایا جائے اور جب وہ پھل پھول تناور درخت بن جائیں تو انہیں بے دردی سے کاٹ پھینکا جائے، تب تک اس ملک کی حالت نہیں سنورے گی، یہاں پر سیاست کسی کی اور حکومت کسی کی روائت ختم ہونی چاہئے، عوام کے نمائندوں کو عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے حق حکمرانی ملنا چاہئے، حکمرانوں کا احتساب اداروں کو نہیں، عوام کو کرنا چاہئے وگرنہ سوشل میڈیا کسی کی پتلون سلامت نہیں رہنے دے گا!

مزید : رائے /کالم