بارانِ رحمت نے سموگ میں کمی کی،سردی بڑھ گئی، ڈینگی مچھر خود مر گیا!

بارانِ رحمت نے سموگ میں کمی کی،سردی بڑھ گئی، ڈینگی مچھر خود مر گیا!

  



موسم نے انگڑائی لی، بارانِ رحمت نے سموگ کی سختی کو کم کیا،پہاڑوں پر ہونے والی برف باری اور بارش نے سردی میں اضافہ کیا،مغرب سے چلنے والی ہواؤں نے جنوب کا رُخ اختیار کیا۔ اسلام آباد،راولپنڈی اور لاہور سے ملتان تک درجہ حرارت میں متعدبہ کمی ہوئی۔ان سرد ہواؤں نے میدانی علاقوں میں بھی اپنا رنگ جمایا اور یہاں سردی بڑھ گئی۔یہ درست کہ بارش اور سرد موسم نے گلے اور چھاتی کے امراض میں کمی کر دی،لیکن بے احتیاطی نے فلو اور بخار کا سلسلہ شروع کرا دیا، چھوٹے بچوں اور بڑوں کو یہ سودا مہنگا پڑا کہ بچوں کو زیادہ گرم کر کے ایک دم کپڑے تبدیل کرتے وقت بے احتیاطی کے مظاہرے ہوئے اور یوں ٹھنڈ لگوا لی گئی۔اسی طرح نوجوان حضرات نے صحت کے حوالے سے بے احتیاطی کی،مناسب کپڑوں اور انتظام کے بغیر موٹر سائیکل چلائی اور گھر سے باہر نکلے۔ماہرین طب نے احتیاط کا مشورہ دیا اور کہا کہ نمونیہ سے بچنا چاہئے۔بہرحال فائدہ یہ ہوا کہ ڈینگی کا ذکر کم تر ہو گیا کہ سخت سردی تو یہ مچھر بھی برداشت نہیں کر پاتا،البتہ کئی سال بعد دھند نے پورے میدانی علاقے کو لپیٹ میں لے لیا، ٹریفک کو مشکلات پیش آئیں تو موٹروے سمیت بعض دوسری سڑکیں متاثر ہوئیں،حد نگاہ کم رہ گیا اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے، جس کے لئے احتیاط لازم ہے۔

اسی دوران لاہور میں محترم وکلاء کرام نے شہری موسم کو گرم کر دیا، تین چار سو وکلاء کچہری سے چلے اور پی آئی سی تک پہنچ گئے۔ یہاں ان کا ٹاکرا ڈاکٹر حضرات سے ہوا تو ان مشتعل کالے کوٹ والوں نے پی آئی سی کے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کو بھی مناسب جانا اور یوں اس اہم ترین ہسپتال کو بند کرا دیا،عملے کے لوگ زخمی ہوئے تو مریض بھی جاں بحق ہو گئے۔یوں ہا ہا کار مچی اور اس عمل کی بھرپور مذمت کی گئی۔ پولیس دیر بعد حرکت میں آئی تو گیس اور لاٹھی چارج سے ہجوم کو منتشر کیا گیا، مریض پہلے ہی ہنگامہ آرائی سے متاثر تھے، مزید بے آرامی اور خدشات کے پیش نظر ہسپتال ہی بند کر دیا گیا،مقدمات درج ہوئے اور وکلاء گرفتار بھی ہوئے، اب معاملہ عدالتوں تک چلا گیا، اور ہسپتال کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ایک ہفتے بعد علاج شروع ہو ہی گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ملازم خوف کے مارے ڈیوٹی پر نہیں آ رہے تھے۔

اب اس مسئلے کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ پولیس نے عمل میں بہت تاخیر کی،اگرچہ ابتدا میں مذاکرات سے بات نہ بنتی تو کارروائی ہو سکتی تھی؟ بہرحال اب بھی ضرورت رویوں کو بہتر کرنے اور غور کر کے اظہارِ ندامت کی بھی ہے کہ آئندہ ایسے سانحات رونما نہ ہوں۔

گزشتہ صبح اچانک پنجاب یونیورسٹی اور سائنس کالج وحدت روڈ کے طلباء نے بھیکے وال چوک،کریم بلاک چوک، سمن آباد موڑ، ملتان روڈ کی ٹریفک بند کر دی، سپیڈو بسیں چوراہوں میں کھڑی کرکے راستے بلاک کر دیئے۔ یوں وحدت روڈ، ملتان روڈ، کینال روڈ اور علامہ اقبال ٹاؤن کے رہائشی مشکلات سے دوچار ہوئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے یہ نوجوان اسلام آباد اسلامی یونیورسٹی میں طالب علم کے قتل پر احتجاج کر رہے تھے۔

لاہور میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، لوگ سست ہو گئے، سرکاری کارندے پہلے ہی ہیں۔ یوں صفائی، تجاوزات اور دیگر سرکاری فرائض میں کوتاہی کا سلسلہ جاری ہے اور اسی وجہ سے اشیاء خوردنی اور ضروری کی قیمتیں کنٹرول نہیں ہو پا رہیں، عوام معاشی طور پر پریشان ہیں اور اب تو احتجاج بھی نہیں کرتے کہ گلے سے آواز نہیں نکلتی، سبزیاں ہنوز زیادہ مہنگی ہیں، پھل کی خریداری کم ہو گئی،نرخ نہیں کم ہوئے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں سبسڈی کا ذکر کیا جاتا جو 300یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو دی جاتی ہے اور یوں ان کے نرخ یقینا کم ہوتے ہیں، تاہم 301یونٹ بھی استعمال ہو جائے تو بل کہیں سے کہیں چلا جاتا ہے، ویسے بھی نرخ جو بڑھا لئے گئے اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ نومبر کے مہینے میں 262 یونٹ کے استعمال پر جو بل آیا وہ قریباً چار ہزار روپے ہے،جو سبسڈی کی وجہ سے ہے۔ گزشتہ برس290 یونٹ والا اسی ماہ کا بل ایک ہزار سات سو روپے کے قریب تھا۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ بجلی کے بلوں سے کیا پریشانی ہے اور اب تو جو امر سمجھ سے باہر ہے وہ یہ کہ ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر ایک روپے 68پیسے سے لے کر ایک روپے90پیسے فی یونٹ تک اضافہ کیا اور کہا جاتا ہے یہ صرف ایک ماہ کے لئے ہے، جبکہ ہر ماہ ایسا ہی ہوتا ہے، پٹرولیم کے نرخ گذشتہ تین ماہ سے نہیں بڑھے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...