پارلیمانی کمیٹی چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین کے نام پر متفق نہ ہوئی، مزید دس روز کی مہلت

پارلیمانی کمیٹی چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین کے نام پر متفق نہ ہوئی، مزید ...

  



سی، کے، حسین

یہ کوئی غیر متوقع نہیں کہ پارلیمانی کمیٹی میں چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین کے ناموں پر اتفاق نہیں ہو سکا اور ایک مرتبہ پھر عدالت عالیہ اسلام آباد سے رجوع کر کے دس روز کی مزید مہلت حاصل کی گئی ہے۔گذشتہ روز عدالت نے پھر سے یہ مہلت دی اور سپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ چیئرمین سینیٹ سے بھی کہا کہ وہ ذمہ داری پوری کریں، اب تک دو بار یہ مہلت لی جا چکی،لیکن فیصلہ نہیں ہوا کہ کمیٹی میں اپوزیشن اور حزبِ اقتدار کے اراکین کی تعداد برابر ہے۔ سپیکر اسد قیصر نے ایک دو بار اپنے چیمبر میں غیر رسمی اجلاس بھی کئے،لیکن اتفاق رائے نہ ہوا، قابل ِ ذکر بات یہ ہے کہ حکومتی اراکین موجودہ سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد یعقوب کے نام پر مصر ہیں کہ ان کو تجربے کی روشنی میں چیئرمین کے لئے نامزد کرنا مفید اور درست فیصلہ ہو گا،جبکہ اپوزیشن اراکین کا اصرار ہے کہ گزشتہ انتخابات انہی کی موجودگی میں ہوئے، ان میں دھاندلی کا الزام ہے،اِس لئے ان کی بجائے دوسرے کسی کو نامزد کیا جائے،سیکرٹری پر اختلاف ہے،باقی پانچ نام بھی زیر بحث آئے، تاہم ان میں سے بھی کسی پر اتفاق نہ ہو سکا، اکثریت سابق بیورو کریٹس پر مشتمل ہے اس سلسلے میں قابل ِ غور امر یہ ہے کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے لئے حزبِ اختلاف کے نام پر تو صاد نہیں کیا جا سکتا۔بہرحال یہ معاملہ جس کے لئے سپیکر اور چیئرمین سینیٹ دونوں باری باری کہہ چکے کہ حل ہو جائے گا،ابھی تک تو طے نہیں ہو سکا، دیکھئے آئندہ دس دِنوں میں کیا ہوتا ہے۔ اگرچہ متنازعہ نام کو چھوڑ کر باقی پانچ میں سے کسی کے نام پر تو اتفاق ہو ہی سکتا ہے،بشرطیکہ فریقین تحمل اور روا داری کا مظاہرہ کر کے اہلیت اور شہرت کو پیش ِ نظر رکھیں۔

وفاقی دارالحکومت بدستور مختلف موضوعات کے حوالے سے رات والی میٹنگوں کی زد میں ہے اور اسلام آباد کے کئی گھر(کوٹھیاں) چاء کی پیالی میں طوفان اٹھانے والی ملاقاتوں کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔معاشی صورتِ حال سے اطمینان نہیں تو تبادلوں پر ہی بات ہوتی ہے اور جس قدر زیادہ افسر تبدیل ہوں اتنی ہی زیادہ باتیں بھی کی جاتی ہیں، وزارت خارجہ کی طرف سے وسیع پیمانے پر تقرریاں بھی زیر بحث ہیں،سنجیدہ فکر حلقے تو مثبت رائے دے رہے ہیں کہ خالی آسامیاں بھی پُر کی گئیں اور کئی اہل لوگ اہم ممالک میں بھیجے گئے ہیں،دیکھنا یہ ہے کہ دفتر خارجہ نے یہ جو بھی انتظامی عمل کیا ہے اس کے نتیجے میں ملک کے لئے کتنی بہتری ہوتی ہے کہ لابنگ کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، خصوصاً تنازعہ کشمیر اور بھارت میں مسلم دشمنی متنازعہ قانون کے بعد ہنگاموں کے حوالے سے بہتر ڈپلومیسی کی توقع کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب اور بحرین کے دورے سے واپسی کے بعد فوری طور پر ملائشیا میں ہونے والی مسلم ممالک کی کانفرنس میں خود شرکت کا فیصلہ منسوخ کر دیا اور اپنی جگہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو وفد کی سربراہی سونپی ہے۔ سفارتی حلقے اسے سعودی عرب کے دباؤ سے منسلک کر رہے ہیں کہ ملائشیا میں ہونے والی کانفرنس میں سعودی عرب مدعو نہیں اور قطر کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم مہاتیر محمد نے یہ کہہ کر کانفرنس بلائی کہ او آئی سی(اسلامی کانفرنس) کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے اور اب تک یہ کوئی بہتر اور مفید کام نہیں کر سکی۔وزیراعظم اور ملائشیا کے مہاتیر محمد(اکثریتی لیڈر) کے درمیان تو بھائی چارہ بھی ہو گیا تھا اور وزیراعظم ملائشیا کی طرف سے کار کا تحفہ دیا گیا جو پاکستان پہنچ بھی چکی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے وزیراعظم نے غیر حاضری کو بہتر جانا ہے۔ شاہ محمود قریشی تو پہلے ہی کہہ چکے کہ پاکستان او آئی سی کا حامی اور حمایتی ہے،وہ اسلامی کانفرنس کو کسی بھی نوعیت کا نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔بہرحال دیکھتے ہیں کہ ملائشیا کی کانفرنس، او آئی سی کی فعالیت کے لئے سرگرمیوں کے حق میں فیصلہ کرتی ہے یا نیا ڈھانچہ کھڑا کیا جاتا ہے۔پاکستان کے لئے مشکل مرحلہ ہے کہ ترکی اور ملائشیا کے ساتھ گہرے مراسم کے ساتھ ساتھ قطر سے بھی خوشگوار تعلقات ہیں اور وزیراعظم تو سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت کرانے کی کوشش کا آغاز کر چکے ہوئے ہیں۔بہرحال مسلم اُمہ کو سوچنا تو ہو گا کہ دُنیا بھر میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔بھارت، میانمار، فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو لیبیا، عراق اور شام کو تاراج کیا گیا۔ مسلمان ممالک کو خصوصی طور پر ان مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے۔

گذشتہ روز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی، فریال تالپور کو جیل سے لا کر پیش کیا گیا،جبکہ آصف علی زرداری کو بیماری کے حوالے سے استثنیٰ دیا گیا، سماعت6جنوری پر ملتوی، ابھی تک فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔آصف علی زرداری ضمانت پر رہا ہیں اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت زیر سماعت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1