سانحہ آرمی پبلک سکول، پانچ سال بیت گئے، شہدا کی یاد منائی گئی، فاتحہ خوانی ہوئی،موم بتیاں روشن کی گئیں

سانحہ آرمی پبلک سکول، پانچ سال بیت گئے، شہدا کی یاد منائی گئی، فاتحہ خوانی ...

  



تاریخ پاکستان کے سیاہ ترین اور دلخراش سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو گزرے پانچ سال بیت گئے مگر اس میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے غم آج بھی تازہ اور آنکھیں اپنے پیاروں کے غم میں اشکبار ہیں۔سانحہ آرمی پبلک سکول کی پانچویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی، اس موقع پر شہر میں سیکورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں سوگ کا سما ں رہا، پانچ سال قبل یعنی 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول ورسک روڈ پشاور پر سفاک دہشت گردوں کے حملے میں بڑ ی تعداد میں بچے اور سکول کے عملے کے افراد شہید ہوگئے تھے۔ اس موقع پر سکولوں میں شہداء بچوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے تقریبات کا خصوصی اہتمام کیا گیا جس میں قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی بھی شامل تھی۔ اس سانحہ پرہر سال پشاورشہر میں غمزدہ خاندانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ عجائب گھر پشاور میں شہدابچوں کی یاد گار پر شمعیں روشن کرنے کے ساتھ ساتھ گل پاشی بھی کی جاتی ہے، اس بار شہدائے اے پی ایس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے زیادہ جوش و خروش دکھائی دیا، شہداء کے اہل خانہ سمیت شہریوں کی بڑی تعداد متاثرہ سکول کے باہر اکھٹی ہوئی اور جام شہادت نوش کرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں اور ان کی لا زوال قربانی کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر پاک آرمی کے چاق و چوبند دستوں نے گارڈ آف آنر کے ذریعے شہداء کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کیا۔ اس حوالے سے کئی تقاریب کا انعقاد کیا گیا جن میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ، وزیر اعلیٰ محمود خان اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے بھی خطاب کیا۔ ایک تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شہداء کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کی شہادت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی،پاکستان میں قیام امن کی تاریخ میں معصوم بچوں کی قربانی جلی حروف سے لکھی جائے گی۔

موسم میں یکسر تبدیلی کے باعث جہاں کئی وبائی امراض نے سر اٹھایا ہے وہاں ذرائع رسل و رسائل اور آمد و رفت میں بھی خاصی دشواریوں کا سامنا ہے، پہاڑی علاقوں میں تو برف باری نے نے نظام زندگی معطل کر کے رکھ دیا ہے، سیاحوں نے ان مقامات کا رخ تو ضرور کیا ہے لیکن جو مشکلات درپیش ہیں ان سے نپٹنے کا کوئی فوری بندوبست موجود نہیں، دو تین روز سے موٹروے سمیت کئی شاہراہیں بری طرح متاثر ہیں۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں دھند کا راج ہے۔

ویسے تو حکومتی اقدامات کے باعث امور صحت میں کچھ عرصے سے بہتری آنا شروع ہوئی ہے لیکن حالیہ موسمی تبدیلیوں نے فلو، کھانسی، نزلہ، زکام، بخار جیسے وبائی امراض میں اضافہ کر دیا ہے جس سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں رش بڑھتا جا رہا ہے، پولیو کے کئی نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں، قومی سطح پر انسداد پولیو مہم بھی گزشتہ روز شروع ہو گئی، خیبرسمیت ملک بھر میں بچوں کو پولیو سے بچانے کے لئے خصوصی قطرے پلائے جا رہے ہیں، مہم کے دوران وٹامن اے کے کیپسول بھی دئیے جائیں گے۔ اس دوران خیبر میں بالخصوص پولیو ٹیموں کی حفاظت کا مرحلہ خاصہ دشوار گزار ہوتا ہے جس کے بارے میں آئی جی پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعیم خان کا کہنا ہے کہ ہماری پولیس پولیوورکرز کو سکیورٹی فراہم کرنے کے فرائض سر انجام دے گی۔

ایک خوش آئند اطلاع یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات کے رہائشیوں کو شہری سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبہ جات کی تکمیل کے لئے عملی اقدامات شروع کر دیئے ہیں، وفاقی حکومت بھی اس حوالے سے خاصی سر گرم دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے خود بھی قبائلیوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لئے گزشتہ دنوں کئی احکامات جاری کئے جبکہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے گزشتہ دنوں ایک خصوصی تقریب کے دوران قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے تاجروں کی بحالی کے اقدام کے تحت میر علی بازار کے 25 تاجروں میں مجموعی طور پر 50 کروڑ کی مالیت کے امدادی چیک تقسیم کئے،بد ترین دہشت گردی کے دوران ان تاجروں کا کاروبار بند اور دْکانیں تباہ ہو چکی تھیں۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ انتظامی مشینری بھی قبائلی اضلاع کی ترقی پر خاصہ زور دے رہی ہے، چیف سیکرٹری خیبرڈاکٹر کاظم نیاز نے بھی اس حوالے سے کئی اقدامات اٹھائے ہیں گزشتہ روز انہوں نے تمام صوبائی سیکرٹریز کی ایک اہم میٹنگ کی جس میں کہا گیا کہ انضمام شدہ اضلاع کی ترقی وفاقی اور صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح ہے، انہوں نے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے کئے گئے اقدامات پر سو فیصد عملدرآمد کیا جائے اور تمام ترقیاتی سکیمیں مقررہ مدت تک مکمل کی جائیں تا کہ ان منصوبوں کے ثمرات فوری طور پر اہل قبائل تک پہنچ سکیں، چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ہونے والی اس میٹنگ میں ایک اور اچھا کام یہ ہوا کہ طویل عرصے سے بے گھر چلے آنے والے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کو الگ چھت ملنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محکمہ اطلاعات پر بھاری ذمہ داری ہے اس لئے انہیں مناسب سہولیات اور اچھا ماحول فراہم کرنا ہماری پہلی ترجیح ہونا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن آفسز کو ماہ رواں میں ہی نئی بلڈنگ میں شفٹ کر دیا جائے۔

مزید : ایڈیشن 1