سرائیکی صوبے کا قیام لٹک گیا،فیاض الحسن چوہان نے بالکل واضح کر دیا

سرائیکی صوبے کا قیام لٹک گیا،فیاض الحسن چوہان نے بالکل واضح کر دیا

  



ملتان سے شوکت اشفاق

تو قع تھی کہ سیاسی بحران کچھ کم ہوگا لیکن حالات خبر دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید خرابی ہوسکتی ہے حکومتی ذمہ داران کی طرف سے اقتصادی صورت حال کو قابو میں کرنے کا دعویٰ بھی غلط ہوتا نظر آرہا ہے حالانکہ وزیر اعظم عمرا ن خان کی اقتصادی ٹیم بشمول جہانگیر خان ترین یہ خوش خبری سناتے پھررہے ہیں کہ آئندہ سال کے اوائل میں نہ صرف روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا بلکہ اس طرح سے روز مرہ ضروریات کی اشیاء خصوصا مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں تیزی آئے گی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی نوید بھی سنی جارہی ہے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کی جدوجہد اسی کا حصہ ہے،وزیر اعظم کے حالیہ غیرملکی دوروں کو اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے اب پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے اور اب اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے فیصلے نے حکومتی”جدوجہد“کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ یہ پہلے ہی اس مسئلے کو احسن طریقے سے حل کرنے میں ناکام نظر آرہے تھے اب ایک اور بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی سیاسی،اقتصادی اور قانونی ٹیم مل کر بھی حل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آرہی ہے مگر کیا کہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اس کا بالکل ادراک نہیں اور اس کا اندازہ بھی نہیں ہے کہ اس وقت ان کی پارٹی کے بنیادی کارکن انتہائی مایوسی کا شکار ہورہے ہیں عوام تو ہیں ہی لیکن ان کو حوصلے دینے والے بھی ”ہار“رہے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اندازہ لگانا مشکل ہوگا کیونکہ حکومتی جماعت کے اتحادی ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی مطمئن نظر نہیں آتے اور اگر یہ مطمئن نہیں ہیں تو پھر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ پوری ایم کیو ایم کی پالیسی ہوسکتی ہے جو انہوں نے حکومت پر بڑے نپے تلے الفاظ میں تنقید کی ہے اور بدترین معاشی بحران قرار دیتے ہوئے سیاسی بحران کو سونے پر سہاگہ قرار دیا ہے اور وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی انداز اپنائیں اور رویہ نرم رکھیں تو بنیادی خرابی دور ہوسکتی ہے،وسائل کی منصفانہ تقسیم تبدیلی لاسکتی ہے،اس طرح آئینی معاملات اور اصلاحات میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔انہوں نے تحریک انصاف کو یاد کرایا کہ جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبے بنانے کا وعدہ کیا ہوا ہے،اب بھی وقت ہے کہ ایک قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے اس پر ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے تجاویز لے کر ملک کو صیحح خطوط پر چلایا جائے۔انہوں نے نواز شریف اور آصف زرداری کی رہائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نعرہ تویہ تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے مگر اب سب کو چھوڑا جارہا ہے اس سے ہمارا نظام بے نقاب ہوگیا ہے اب اگر سیاسی اکابرین یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک پیچھے جارہا ہے تو پھر اس وقت خصوصی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔اب ایم کیو ایم کے رہنما کی ان باتوں کو کتنا سنجیدہ لیا جاتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔لیکن دوسری طرف ملک میں نئے صوبوں خصوصا جنوبی پنجاب صوبہ کی تشکیل کیلئے تمام اقدامات دم توڑتے نظر آرہے ہیں کہ حکومت پنجاب کے ترجمان اور وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے واضع کردیا ہے کہ سرائیکی صوبے کا قیام ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کیلئے تحریک انصاف کو اسمبلیوں میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے‘ یعنی قصہ ختم اور یہ یقیناًحکومت کا ہی موقف ہے موصوف خود تو پالیسی بیان جاری کرنے سے رہے، اس پر مرحوم سرائیکی قوم پرست رہنما بیرسٹر تاج لنگاہ کی صاحبزادی اور پاکستان سرائیکی پارٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سر براہ سردار اختر جان مینگل کو موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور بلایا کہ صوبے کے قیام کے ایشو کو متنازعہ بنایا جا سکے اور یہی وجہ ہے کہ تونسہ‘ ڈیرہ غازیخان اور راجن پور میں گزشتہ دنوں سے موجود ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ تونسہ‘ ڈیرہ غازیخان اور راجن پور تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے بلوچستان کا حصہ ہیں سرائیکی پارٹی کی چیئر پرسن اس کو الگ سازش قرار دے رہی ہیں ادھر صوبائی وزیر اطلاعات کا بیان بھی اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ بلوچ قوم پرست رہنما نے بہت سے معاملات پر سخت تنقید بھی کی ہے اور الزام عائد کیا کہ ماضی کی حکومتوں نے دانستاًبلوچستان سمیت تونسہ ڈیرہ اور راجن پور کو اقتصادی اور تعلیمی طور پر پس ماندہ رکھا ہے انہوں نے یہ مطالبہ بھی دہرایا کہ ان علاقوں کو بلوچستان میں ضم کیا جائے کیونکہ اس علاقے سے جو معدنیات نکالی جا رہی ہیں ان سے یہ علاقہ مستفید نہیں ہو پا رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ ہم نے حکمرانوں کے سامنے 6نکات رکھے ہیں وزارت نہیں لی البتہ لاپتہ افراد کی بازیابی افغان مہاجرین کی واپسی اور وفاقی ملازمتوں میں 6فیصد کوٹہ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے تاہم دوسری طرف سرائیکی قوم پرست جماعتوں نے بلوچ قوم پرست رہنما کے کچھ مطالبات پر سحت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اسے موجودہ حکومت کی طرف سے سرائیکی صوبے کے قیام میں رخنہ ڈالنے کی سازش قرار دیا ہے۔ ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ موجود حکومت زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں ختم ہو جائے گی ق لیگ اختر مینگل اور دوسری اتحادی جماعتوں کی بدلی ہوئی زبان اس کی نشاندہی ہے انتخابی اصلاحات کے بعد اداروں کی مداخلت کے بغیر نئے انتخابات کرائے جائیں کیونکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے اس اسمبلی سے پاس ہونے والا بل بھی متنازعہ ہی رہے گا انہوں نے میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی سزا کو سی پیک کا تناظر قرار دیا اور واضع کیا کہ دراصل امریکہ سی پیک کی تکمیل نہیں چاہتا جمعیت کے قائد نے وکلاء اور ڈاکٹرز کو محترم طبقہ قرار دیا اور اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کا مشورہ بھی دیا۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1