پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم، فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم اور اضطراب ہے: ترجمان پاک فوج

پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم، فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم اور اضطراب ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی، خصوصی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا گیا، بینچ کے 2 ججز نے سزائے موت جبکہ ایک نے اس پر اعتراض کیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں موجود خصوصی عدالت میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس وقاراحمد سیٹھ کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔اگرچہ خصوصی عدالت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ کیس کا فیصلہ آج سنادیں گے تاہم حکومتی پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ علی ضیا باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے آج 3 درخواستیں دائر کی ہیں۔حکومت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست دی گئی اور کہا گیا کہ حکومت شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانا چاہتی ہے۔استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ پرویز مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں کیونکہ تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ساڑھے 3 سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آگئیں۔ساتھ ہی جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزر چکا ہے۔ جنہیں ملزم بنانا چاہتے ہیں انکے خلاف کیا شواہد ہیں؟، کیا شریک ملزمان کے خلاف نئی تحقیقات ہوئی ہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ شکایت درج ہونے کے بعد ہی تحیقیقات ہوسکتی ہے، ستمبر 2014 کی درخواست کے مطابق شوکت عزیز نے مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا کہا تھا۔اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ مشرف کی درخواست کا حوالہ دے رہے ہیں جس پر فیصلہ بھی ہو چکا، ساتھ ہی جسٹس شاہد کریم نے یہ ریمارکس دیے کہ مشرف کی شریک ملزمان کی درخواست پر سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی ہے۔دوران سماعت جسٹس نذر اکبر کا کہنا تھا کہ ترمیم شدہ چارج شیٹ دینے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دی گئی تھی، اس پر استغاثہ نے کہا کہ قانون کے مطابق فرد جرم میں ترمیم فیصلے سے پہلے کسی بھی وقت ہو سکتی۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں، کیا حکومت مشرف کا ٹرائل تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے؟، 3 افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کورکمانڈوز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی، لہذا عدالت کی اجازت کے بغیر فرد جرم میں ترمیم نہیں ہوسکتی۔جسٹس نذر علی اکبر نے ریمارکس دیے کہ چارج شیٹ میں ترمیم کے لیے کوئی باضابطہ درخواست ہی نہیں ملی، عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی نئی درخواست نہیں آسکتی، اسی کے ساتھ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جو درخواست باضابطہ دائر ہی نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے۔علاوہ ازیں جسٹس نذر نے یہ کہا کہ استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ عدالت سے معذرت خواہ ہوں، اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ کا مقصد صرف آج کا دن گزارنا تھا۔دوران سماعت عدالت کے جج جسٹس شاہد کریم نے پوچھا کہ سیکریٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کیسے چارج شیٹ میں ترمیم کرسکتے ہیں؟ وفاقی حکومت اور کابینہ کی منظوری کہاں ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے، حکومت کارروائی میں تاخیر نہیں چاہتی تو شریک ملزمان کے خلاف نئی درخواست دے سکتی ہے۔اس موقع پر وکیل استغاثہ منیر بھٹی کا کہنا تھا کہ سابق پراسیکیوٹرز نے عدالت سے حقائق کو چھپایا، جس پر جسٹس نذر نے پوچھا کہ سابق پراسیکیوٹرز کے خلاف حکومت نے کیا کارروائی کی؟۔ساتھ ہی جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے پاس 15 دن کا وقت تھا کہ درخواستیں دائر کرے، وفاقی حکومت سے متعلق سپریم کورٹ مصطفی ایمپیکس کیس میں ہدایات جاری کر چکی ہے، سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد سیکریٹری داخلہ نہیں وفاقی کابینہ فیصلے کر سکتی ہے۔عدالت میں وکیل استغاثہ نے بتایا کہ ایک درخواست چارج شیٹ میں ترمیم کی ہے، ملزم نے 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کیا، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ جو پڑھ رہے ہیں وہ دفاع کی درخواست ہے، اس درخواست پر فیصلہ آچکا ہے۔اسی دوران جسٹس شاہد نے پوچھا کہ آپ اس چارج شیٹ میں کیوں ترمیم کرنا چاہتے ہیں، آپ ان لوگوں جن پر مددگار ہونے کا الزام ہے ان کے خلاف نئی شکایت کیوں نہیں دائر کرتے، آپ کیس میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔جس پر جواب دیتے ہوئے وکیل استغاثہ نے کہا کہ نئی شکایت دائر کرنے سے ٹرائل میں تاخیر ہو سکتی ہے جبکہ چارج شیٹ میں ترمیم سے ٹرائل میں تاخیر نہیں ہوگی، اگر پہلے مرکزی ملزم کا ٹرائل مکمل ہو جاتا ہے تو جو مددگار تھے ان کا کیا ہوگا، اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جرم میں سہولت کاروں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، اس معاملے میں تمام چیزوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔عدالت میں دوران سماعت جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ آپ کو علم ہے کہ شہادت ہوچکی ہے، ان سہولت کاروں کے خلاف کیا ثبوت ہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ کسی وقت بھی شکایت میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ عدالت صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند ہے، جن کو آپ شامل کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف کیا تحقیقات ہوئیں۔اس موقع پر جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ استغاثہ اپنے حتمی دلائل شروع کرے، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف تحقیقاتی ٹیم کے 2 ارکان کے بیان ریکارڈ نہیں ہوئے، عدالت میں ایک درخواست تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کی طلبی کی بھی ہے۔پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ کا کہنا تھا کہ ایسے ٹرائل پر دلائل کیسے دوں جو آگے چل کر ختم ہوجائے، عدالت حکومت کو درخواستیں دائر کرنے کا وقت دے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملزم کا دفعہ 342 کا بیان بھی ریکارڈ نہیں ہو سکا، اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ وہ بات کر رہے ہیں جو ملزم کے دلائل ہونے چاہئیں۔اسی دوران جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ کیا آپ مرکزی کیس پر دلائل دینا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر آپ حتمی دلائل نہیں دے سکتے تو روسٹم سے ہٹ جائیں، جس پر علی ضیا باجوہ نے کہا کہ میں دلائل نہیں دینا چاہتا میری تیاری نہیں، اس پر جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ پھر آپ بیٹھ جائیں اور وکیل صفائی کو بولنے کا موقع دیں۔تاہم علی ضیا باجوہ نے کہا کہ میری اور بھی درخواستیں ہیں وہ تو سنیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق بھی درخواست ہے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے پابند نہیں ہیں،

ہمارے سامنے صرف سپریم کورٹ کا حکم ہے اس کے تحت کارروائی چلانی ہے۔اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر اور رضا بشیر پیش ہوئے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ سلمان صدر صرف رضا بشیر کی معاونت کرسکتے ہیں۔اسی دوران سلمان صفدر روسٹرم پر آئے تو جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں آپ کی ضرورت نہیں م جس پر وکیل نے کہا کہ آپ نہ استغاثہ کو سن رہے ہیں اورنہ دفاع کو، پھر کیسے کیس کو چلائیں گے۔وکیل کی بات پر جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ عدالتی مفرور شخص کے وکیل کو عدالت میں بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ساتھ ہی جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ضد نہ کریں۔بعد ازاں رضا بشیر نے عدالت کو بتایا کہ 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کی ہے، پرویز مشرف کو منصفانہ ٹرائل کا حق ملنا ضروری ہے، اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ 342 کے بیان کا حق ختم کر چکی ہے، پرویز مشرف 6 مرتبہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ضائع کر چکے ہیں۔اس پر رضا بشیر نے کہا کہ پرویز مشرف کو دفاع کا حق ملنا چاہیے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استغاثہ اور آپ دونوں ہی مشرف کا دفاع کررہے ہیں۔ساتھ ہی جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا مشرف کو جب چاہیں پیش کردیں، جس پر رضا بشیر نے کہا کہ پرویز مشرف کی صحت اس قابل نہیں کہ وہ پیش ہوسکیں، لہذا دفعہ 342 کے بیان کے بغیر مشرف کا دفاع کیسے کروں؟۔اس پر جسٹس وقار نے کہا کہ آپ دفاع نہیں کرسکتے اس کا مطلب ہے آپ کے دلائل مکمل ہوگئے، جس پر رضا بشیر نے کہا کہ عدالت 15 سے 20 دن کا وقت دے پرویز مشرف بیان ریکارڈ کرائیں گے۔بعد ازاں جسٹس وقار نے ریمارکس دیے کہ 342 کے بیان کے لیے کمیشن بنانے کی درخواست کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر اپنے چیمبرز میں چلے گئے۔بعدازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جنرل (ر)پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنادیا۔خصوصی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا گیا، جس میں بینچ کے 2 ججز نے سزائے موت جبکہ ایک نے اس پر اعتراض کیا۔عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف سنگین غداری کے مرتکب قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا۔ یاد رہے سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نومبر 2013 میں درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔مقدمے میں اب تک 100 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور اس دوران 4 جج تبدیل ہوئے جب کہ گزشتہ تین ماہ سے اس کی مسلسل سماعت کی گئی۔عدالت نے متعدد مرتبہ پرویز مشرف کو وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔مارچ 2014 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی۔بعدازاں 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل )سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔دریں اثناسابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشرف دبئی کے مہنگے علاقے میں اپنے سپر لگڑری پینٹ ہاؤس میں مقیم ہیں جہاں وہ چند دن قبل اسپتال سے گھر منتقل ہوئے تھے مگر ان کی طبیعت اب بھی ناساز ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پرویز مشرف نے عدالتی فیصلے کی اطلاع ٹی وی چینلز پر سنی جس پر انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ ان کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کااعلان کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اے پی ایم ایل کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر حیرت ہے،پرویز مشرف کے وکیل کو سنے بغیر فیصلہ کیاگیا،غیرآئینی مقدمہ غیر آئینی طریقے سے چلا۔ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے بھی اپنے موکل کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین شکنی کوئی معمولی جرم نہیں ہے، خصوصی عدالت کے فیصلہ میں آئینی تقاضے پورے نہیں کئے گئے، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عجلت میں فیصلہ سنایا گیا،شفاف ٹرائل اورسابق صدر پرویز مشرف کو موقع نہیں ملا، فیصلہ میں 77 سالہ سابق صدر پرویز مشرف جو کہ بیماری کی حالت میں ہیں ان کو سزائے موت سنائی گئی، ٹرائل میں بہت سی خامیاں ہیں، اس حوالے سے بہت سے قانونی پہلوؤں کو دیکھنا ہوتا ہے منگل کے روز خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ماہر قانون سے ان کی رائے لی جائے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ غیر موجودگی میں سزا سنائی جائے، پرویز مشرف کا ایسا کیس ہے جس کا استغاثہ 7 سال کی تاخیر سے دائر کیا گیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ 2007 کا ہے جبکہ اس کا استغاثہ 2013 میں دائر کیا گیا، کیا ہمیں یہ بتایا جا سکتا ہے کہ اس میں سات سال کی تاخیر کیوں کی گئی اور ہماری درخواستوں کو مسترد کر کے اچانک فیصلہ سنا دیا گیا۔ا نہو ں نے کہا کہ فیصلہ میں آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہماری درخواستیں قانون کے مطابق اور اہم تھیں جنہیں مسترد کیاگیا، ہماری ایک درخواست یہ تھی

مشرف سزا

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی خصوصی عدالت سے سزا پر ردعمل میں کہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔اسلام آباد میں خصوصی عدالت کی طرف سے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو غدار قراردیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنانے پراس صورتحال پر جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پرافواجِ پاکستان میں شدید غم وغصہ اور اضطراب ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل (ر) پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدرِ پاکستان رہے ہیں، پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں، وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا بنیادی حق بھی نہیں دیا گیا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی، کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے لہٰذا افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔

میجر جنرل آصف غفور

مزید : صفحہ اول