مشرف غداری کیس،1999 سے2019ء تک کب کیا ہوا؟

  مشرف غداری کیس،1999 سے2019ء تک کب کیا ہوا؟

  



اسلام آباد (خصو صی رپورٹ) 1999میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جمہوری حکومت کو ختم کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور خود کو ملک کا چیف ایگزیکٹو قراردیااور جمہوری وزیر اعظم کو جیل میں بند کر دیاجنہیں بعد ازاں خصوصی معاہدہ پرسعودی عرب بھیج دیا گیا۔2001 میں 11 ستمبر کو امریکہ میں Twin Towers پر حملہ نے امریکہ مشرف گٹھ جوڑ کی بنیاد ڈالی اور افغانستان پر بمباری شروع کر دی گئی،جس سے مشرف کے اقتدار کو طول حاصل ہوا،مشرف نے8 سال بعد 2007میں ملک میں ایک مرتبہ پھر ایمرجنسی نافذ کر دی، چیف جسٹس سمیت متعدد ججز کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔1973 کے آئین کو معطل کردیاگیا،28نومبر 2007 کوپرویز مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کو سونپی۔29نومبر2007کو صدر مملکت کے عہدے کا حلف اٹھایا۔15 دسمبر 2007کوپرویز مشرف نے ایمرجنسی ختم کی اور عبوری آئینی حکم نامہ  پی سی او واپس لیا اور ترمیم شدہ آئین کو بحال کیا۔18 اگست2008 کو9سال تک حکمرانی کے بعد پرویز مشرف نے عہدہ چھوڑ دیا،22 جولائی 2009 کوسپریم کورٹ نے 3 نومبر 2007کے اقدامات کا دفاع کرنے کے لیے مشرف کو طلب کیا۔6اگست 2009 کوپرویز مشرف برطانیہ چلے گئے۔22مارچ  2013کو  پرویز مشرف کو ملک واپس آنے پر 10روز کی حفاظتی ضمانت ملی۔24 مارچ  2013 کو مشرف پاکستان واپس آئے۔29مارچ 2013 کوسندھ ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کی ضمانت میں توسیع کی۔29مارچ 2013کوسپریم کورٹ نے  مشرفکو ان کے خلاف سنگین غداری کیس میں طلب کیا۔5 اپریل 2013 کوسپریم کورٹ نے مشرف کے خلاف سنگین غداری ایکٹ 1973 کے دفعہ 2 اور 3 کے تحت کیس کی سماعت منظور کی۔19 اپریل 2013 کوپرویز مشرف نے ججز کو حراست میں لینے کے کیس میں مجسٹریٹ عدالت کے آگے سرنڈر کردیا۔اسلام آباد میں ان کے فارم ہاوس چک شہزاد کو 'سب جیل' قرار دیا گیا۔ 13 نومبر 2013کومسلم لیگ(ن)کی حکومت نے خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے 5 الزامات عائد کیے۔12دسمبر 2013 کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس کا سامنا کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔ 21 فروری 2014خصوصی عدالت نے حکم جاری کیا کہ سابق آرمی چیف کا فوجی عدالت میں ٹرائل نہیں ہوگا۔30 مارچ 2014پرویز مشرف پر سنگین غداری کیس میں فرد جرم عائد کی گئی،21 نومبر2014خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کو غداری کیس میں اپنی درخواست دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی اور چارج شیٹ میں میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے نام شامل کرنے کا کہا۔16 مارچ2016 سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔18 مارچ 2016 پرویز مشرف یہ وعدہ کرتے ہوئے علاج کے لیے دبئی روانہ ہوئے کہ وہ چند ہفتے میں وطن واپس لوٹ آئیں گے۔11 مئی2016 سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو مفرور قرار دیا۔16 نومبر 2016کوپرویز مشرف کے فارم ہاؤس کو سنگین غداری کیس سے منسلک کر دیا گیا۔7اپریل2018چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مشرف غداری کیس کا بینچ دوبارہ تشکیل دیا۔31مارچ 2019سپریم کورٹ نے مشرف کو حکم دیا کہ وہ غداری کیس میں 2 مئی کو خصوصی عدالت کے روبرو پیش ہو ورنہ وہ اپنے دفاع کا حق کھو دیں گے۔یکم اپریل 2019 چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے خصوصی عدالت کے لیے حکم جاری کیا کہ پرویز مشرف اگر مقررہ تاریخ تک اپنا بیان ریکارڈ نہیں کراتے تو وہ غداری کیس کو ان کے بیان کے بغیر کی آگے بڑھائے۔8 اکتوبر2019خصوصی عدالت نے 24 اکتوبر سے غداری کیس کی سماعت روزانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔24 اکتوبر2019 غداری کیس میں پی ٹی آئی نے پراسیکیوشن ٹیم کو برطرف کردیا۔19 نومبر2019سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے اپنی سماعت مکمل کرلی اور کہا کہ فیصلہ 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔4 دسمبر 2019 پرویز مشرف نے دبئی کے ہسپتال سے جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ 'اس کیس میں میری سنوائی نہیں ہورہی، صرف یہی نہیں کہ میری سنوائی نہیں ہورہی بلکہ میرے وکیل سلمان صفدر کو بھی نہیں سن رہے، میری نظر میں بہت زیادتی ہورہی ہے اور انصاف کا تقاضہ پورا نہیں کیا جارہا۔5 دسمبر2019 اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں استغاثہ کو 17 دسمبر تک کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ اس تاریخ کو دلائل سن کر فیصلہ سنا دیں گے۔17 دسمبر 2019 لاہورہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پرویز مشرف کی جانب سے دائر درخواستوں پر فل بینچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوادیا۔اسی روز خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل  (ر)پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا۔

مشرف،تاریخ

مزید : صفحہ اول


loading...