سی پیک کی راہ میں منفی پروپیگنڈا رکاوٹ نہیں بننے دینگے،معاون خصوصی اطلاعات

      سی پیک کی راہ میں منفی پروپیگنڈا رکاوٹ نہیں بننے دینگے،معاون خصوصی ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سی پیک کی راہ میں منفی پروپیگنڈے کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹر فار گلوبل اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ ”بیلٹ اور روڈ پارٹنرز کے مابین کراس- ریجنل میڈیا فیوژن“ پر ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سی پیک سے خطے کی قسمت بدل سکتی ہے،سی پیک پاکستان کی تجارتی، ثقافتی و صنعتی ترقی کا ضامن ہے،سی پیک کے خلاف مخالفین کے پراپیگنڈے کو ناکام بنانے پر پاکستانی میڈیا کا کردار قابل تعریف ہے،چین 20ہزار پاکستانی طلبا کو سکالر شپ دے رہا ہے،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ سی پیک کے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں خوشحالی کا نیا باب کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے حال ہی میں گوادر کے دورے میں اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا،گوادر میں حال ہی میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کا افتتاح ہو چکا ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ حکومت پاکستان سی پیک منصوبوں کے جلد تکمیل کیلئے مکمل پرعزم ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ سی پیک چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں کا ایک حصہ ہے،وزیراعظم نے 65ارب روپے کی لاگت سے ڑوب کچلاک روڈ کا سنگ بنیاد رکھا۔معاون خصوصی نے کہاکہ وزیراعظم نے 70ارب روپے کی لاگت سے مکران کوسٹل ٹرانسمیشن لائن کا بھی سنگ بنیاد رکھا،وزیراعظم عمران خان نے 23ارب روپے کی لاگت سے نئے گوادر ائرپورٹ کا بھی افتتاح کیا۔معاون خصوصی نے کہاکہ پاکستان چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہدسے زیادہ میٹھی ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا ہے کہ بی آر آئی اور سی پیک جیو اکنامک لینڈ سکیپ میں بہتری لارہے ہیں اور نہ صرف پاکستان کی خوشحالی بلکہ تمام ریجن کیلئے مشترکہ ترقی کا باعث بن رہے ہیں۔ سی پیک نے پاکستانی طلباء کیلئے 20 ہزار وظائف کی داغ بیل ڈالی ہے جبکہ اس پراجیکٹ کے تحت ایک ہزار سکولوں کو ڈویلپ کیا جائیگا، سی پیک کے سکوپ میں پاکستان کے لوگوں کے فائدہ کیلئے وسعت دی گئی ہے۔کانفرنس کے مہمان مقررین میں آذر بائیجان، بیلارس، چین، ایران، جمہوریہ کرغز، سری لنکا، تاجکستان اور ازبکستان سے میڈیا پس منظر رکھنے والے نمایاں بین الاقوامی مقررین شامل تھے۔سیشن کا آغاز میجر جنرل سید خالد امیر جعفری ہلالِ امتیاز (ملٹری) (ریٹائرڈ)، صدر سی جی ایس ایس کے ابتدائی کلمات سے ہوا جنہوں نے بتایا بی آر آئی علاقائی روابط کے فروغ کیلئے ایک جامع منصوبہ ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بی آر آئی ریاستوں کے میڈیا ادغام کی اہمیت کی مزید وضاحت اور تشریح کی۔ اُنہوں نے کہا کہ بی آر آئی کا صدرشی چن پنگ کا تصور روابط کے نئے دور کا پیش خیمہ ہے جو شمال و جنوب کے مابین خلیج کا کام کریگا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی بیخ کنی میں پاکستانی میڈیا کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسوں اور بحث و مباحثہ فورمز کا انعقاد غلط فہمیوں کے خاتمہ کا بھرپور راستہ ہے۔مادام پنگ چُن زیو، ڈپٹی چیف آف مشن چین اسلام آباد نے کہا کہ چین اقتصادی ترقی کا انجن ہے جس نے تمام پارٹنرز کی مشترکہ ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے۔ چین ایک نئے ماڈل کی تعمیر کررہاہے۔ جس کے خواص میں عدم تنازع کا رجحان، سرد جنگ، طاقت کی سیاست کا خاتمہ اور سب کیلئے یکساں صورتحال کا پیدا کرنا ہے۔ چین نے پُر امن سفارت کاری اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جسکا مقصد مشترکہ خوشحالی کی حامل بین الاقوامی صورتحال قائم کرنا ہے۔ مختصراً،امن اور استحکام وقت کی ضرور ت ہے اور بی آر آئی اس ہدف کے حصول کیلئے اہم ہے۔ بی آر آئی تجارت پربین الاقوامی لاگت کو کم کریگا۔ازبکستان سے اسماعیلو مظفر، چیف ایڈیٹر از رپورٹ، تاشقند نے ازبکستان کی ترقی سے متعلق نئی حکمت عملی بذریعہ میڈیا انضمام پر اپنے خیالات پیش کئے۔ اُنہوں نے کہا کہ ازبکستان میڈیا کی ترقی کیلئے جانفشانی سے کام کررہاہے اور کئی سرکاری اور نجی چینلز بی آر آئی منصوبہ کے اصل حقائق سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے مقصد سے شروع کئے ہیں۔آذربائیجان کی نمائندگی کرتے ہوئے شاہنجافروو، سینئر کارسپانڈنٹ، آذربائیجان سٹیٹ نیوز ایجنسی، باکو نے کہا بی آر آئی صرف مالی منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ثقافتی منصوبہ بھی ہے جو مختلف برادریوں میں رابطہ کیلئے مدد کرتا ہے اور علاقائی تعلق اور باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بی آر آئی سے ہمیں انفراسٹرکچرل کا میابیاں حاصل ہوئیں اور چھ نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے قائم کئے گئے۔اسد انعام، سی ای او، X2O (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے کہا کہ ماضی میں ایشیاء دیگر بر اعظموں سے کوئی موازنہ نہیں رکھتا تھا تاہم چین کی بی آر آئی کی کوشش سے ایشیاء اب دنیامیں سب سے بڑی اقتصادیات میں گردانا جاتا ہے۔ اس تمام تر ترقی کو میڈیا سے فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ بی آر آئی کیلئے ایک انتہائی اہم کردار اداکرسکتی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ باہمی روابط کا سرکاری سطح پر ترقی پانا لازم ہے اور علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے بین الاقوامی مارکیٹوں کا قیام لازمی ہے۔ الادز سلاؤ سچیوچ، صحافی، پبلشنگ ہاؤس، ”بیلارس ٹوڈے“ منسلک از بیلارس نے اپنی تقریر میں بیلارس کی سٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بی آر آئی کیلئے بیلارس کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے بلکہ بی آر آئی علاقائی تبدیلی کی کنجی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بیلارس 24 دنیا کے 100 ممالک میں نشریات دے رہاہے اور بی آر آئی ایران سے معلوماتی دائرہ میں مثبت خبروں کو نشر کرتا ہے۔ سفیر اکبر گسیمی وزارت فارن افیئرز نے بیجنگ کے ساتھ اپنی سٹریٹجیک شراکت داری پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا ہم انتہائی مشکل حالات میں بین الاقوامی علاقائی ترقی کیلئے کوشاں ہیں۔ پاکستان سیکورٹی اور ڈویلپمنٹ کیلئے ایک ریجنل ایکٹر کی حیثیت سے اہم کردار کا حامل ہے۔ میڈیا مغرب اور ایشیائی علاقہ میں بیمثال باہمی تعاون کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار کا حامل ہے۔ مدثر ٹیپو، ڈائریکٹر جنرل چائنہ، وزارت فارن افیئرز، اسلام آباد نے میڈیا کے پلیٹ فارم سے علاقائی باہمی تعاون پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پیک ایک ترجیحی منصوبہ ہے۔ پاکستانی میڈیا انتہائی متحرک ہے لیکن ہمارے لئے یہ یقین کرلینا ضروری ہے کہ جو خبر رپورٹ کی جارہی ہے حقیقی ہے اور درست ہے نہ کہ غلط۔ ہمارا یقین ہے کہ سی پیک ایک گارنٹی شدہ پراگریس کرسکتی ہے اور پاکستان کے امیج کیلئے ایک بہت بہتری کا موجب ہوگا۔ڈاکٹر معید یوسف، چیئرپرسن سٹریٹیجک پالیسی پلاننگ سیل نے کہا بی آر آئی کو لازمی طور پر انفراسٹرکچرل بنیاد پر نہ پرکھا جائے بلکہ اس کا تجربہ تعلق داری کے زمرے میں کرنا لازمی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے تصور کی بنیاد اقتصادی حکمت عملی بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ روابط کار کے ذریعے ہے۔ جنوبی ایشیاء دنیا میں کم ترین رابطہ کاعلاقہ گردانا جاتا ہے۔ بی آر آئی لوگوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کا اہم ستون ہے۔ اختلاف کا ماننا اور منانا عصرحاضر کی ضرورت ہے جبکہ معلومات شیئر کرنے کے پلیٹ فارمز لازمی طور پر بی آر آئی منصوبہ کے صلہ میں فروغ پائیں۔ چائنہ سے ڈاکٹر ہوناگ چو۔زن، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل و جنرل سیکرٹری، نیو میڈیا ریسرچ سنٹر، چائنیزاکیڈمی آف سوشل سائنسیز (سی اے ایس ایس)، بیجنگ نے مختلف علاقوں کے میڈیا ہی میں کیونکرگہری ہم آہنگی کی سفارشات پیش کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ اہداف والی خبروں کے ارتکاز اور تقسیم اور ویڈیو پروگراموں کی پروڈکشن میں مختلف باہمی تعاون کے پلیٹ فارمز کا بہتر استعمال کرنا چاہیے۔نورالامین ایزادین، ڈپٹی ایڈیٹر، دی سنڈے ٹائمز، کولمبو نے سری لنکا کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈیا انڈسٹری کے درمیان باہمی تعلقات پرروشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا بی آر آئی دو طرفہ اور کثیر طرفہ تعلقات کے فروغ اور اضافہ، انصاف، مشترکہ اقدار اور باہمی تعاون کے فروغ میں انتہائی مثبت کردار ادا کررہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ بی آر آئی شراکت داروں کے درمیان بی آر این این سے متعلق مزید آگاہی لازماً پیدا کی جائے جیسا کہ بہت کم لوگ اس کے بارے میں علم رکھتے ہیں۔ چین، سری لنکا کا سب سے بڑا تجارتی شریک کار ہے نیز سب سے بڑا ڈونر بھی ہے جس میں بی آر آئی کے ذریعے مزید اضافہ ہوگا۔جمہوریہ کرغز سے ایڈیلٹ ایڈینی سوو، ماہراز پریذیڈنٹ پریس سروس، بشکیک نے میڈیا کے تبادلہ کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ کاوش اور مواقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا بی آر آئی کا مقصد 60 سے زائد ممالک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ بی آر آئی دنیا کی تقریباً 75 فیصد آبادی کا احاطہ کرتا ہے اور بی آر آئی نے اب ایک وسیع علاقہ کو شامل کیا ہے۔تاجکستان سے قانوا تولو سیفو لود، ”کھواڑ“نیوز ایجنسی دشانبے نے کہا کہ بی آر آئی کا مقصد باہمی مشترکہ ترقی ہے۔ نئی شاہراہ ریشم نے تاجکستان اور چین کے تعلقات میں نئے فیز کی داغ بیل ڈالی ہے۔ تاجکستان کیلئے اہم معاملات میں ٹرانزٹ کی بہتری، شاہراہوں،سرنگوں کی تعمیر اور کثیر الجہت باہمی تعاون ہے۔سعید جاوید، ڈائریکٹر جنرل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ، وزارت اطلاعات و نشریات اسلام آباد نے کہابی آر آئی تقریباً 4.6 بلین لوگوں کی گروتھ پوٹینشل میں اضافہ کررہاہے جو دنیا کی آبادی کا 61 فیصد ہیں۔ بی آر آئی تجارت اور کاروباری تعلقات کے فروغ اور بے پناہ وسائل کو جذب کرنے کیلئے لازمی ہے۔ بی آر آئی علاقائی باہمی تعاون اور مواصلات کے نظام میں بہتری لارہاہے۔ پاکستان میڈیا تقریباً 100 ٹی وی چینلز اور ہزاروں ٹریڈ پبلیکیشنز پر مشتمل ہے اس لئے بی آر آئی کی کاوش سے متعلق حقیقی معلومات پہنچانے کیلئے الیکٹرانک میڈیا بہت ضروری ہے۔ تقریباً 300 افراد بشمول ڈپلومیٹس، پالیسی ماہرین اور میڈیا کی شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی۔قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ امتیازی شہریت کے متنازعہ بھارتی قانون نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کو روند ڈالا ہے، طلبا پر تشدد نے مودی کے بھارت کو تقسیم کرنے کے حوالے سے عالمی جریدوں کی پیش گوئی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مودی کی انتہا پسندی کی آگ نے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسی سوچ پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا امتیازی اور متعصبانہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا پر بہیمانہ اور وحشیانہ تشدد انسانیت کی تذلیل اور بھارتی نام نہاد جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

فردوس عاشق/کانفرنس

    

مزید : صفحہ اول