1982 ء کے ریاستی قانون کا خاتمہ  پاکستان سے کشمیر ی مہاجرین کی  بھارت واپسی کے دروازے بند 

1982 ء کے ریاستی قانون کا خاتمہ  پاکستان سے کشمیر ی مہاجرین کی  بھارت واپسی کے ...

  



سرینگر(این این آئی)بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے نام نہاد جموں وکشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019ء کو استعمال کرتے ہوئے 37سال پرانے قانون کو ختم کردیا جسکے تحت 1947ء سے1954تک پاکستان ہجرت کرنیوالے جموں وکشمیر کے باشندوں کو واپس آنے کی اجازت تھی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں دوبارہ آباد ہونے یامستقل واپسی کے بارے میں 1982 ء کا ریاستی قانون ان 153ریاستی قوانین میں شامل تھا جس کو جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کے ذریعے ختم کیا گیا۔ یہ قانون یکم مارچ 1947ء سے 14مئی 1954ء تک پاکستان ہجرت کرنے والے جموں وکشمیر کے باشندوں اور ان کی اولاد کے واپس آنے کو قانونی تحفظ فراہم کرتا تھا۔ جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کو بھارتی پارلیمنٹ نے 5اگست کو آئین کی دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد منظورکیاتھا۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور ریاست کے سابق وزیر قانون عبدالرحیم راتھر نے کہاکہ جموں وکشمیر میں دوبارہ آباد ہونے یامستقل واپسی کے بارے میں 1982 ء کے ریاستی قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان سے کشمیر ی باشندوں کی واپسی کے دروازے بند ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ باب بند ہوچکا ہے۔

کشمیری مہاجر 

مزید : صفحہ آخر