نامعلوم خاتون پی اے سی کی سب  کمیٹی کے اجلاس میں اچانک نمودار

   نامعلوم خاتون پی اے سی کی سب  کمیٹی کے اجلاس میں اچانک نمودار

  



  اسلام آباد(آن لائن)پارلیمنٹ کی ناقص سیکورٹی کے باعث ایک نامعلوم خاتون اچانک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے جاری اجلاس میں داخل ہوگئی،جس کے بعد اجلاس  میں شریک اعلی افسران، سینیٹرز اور رکن قومی اسمبلی شدید اضطراب میں مبتلا ہو گئے۔ بھاری بھرکم خاتون پشتون معلوم ہوتی تھی جس نے پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم میں جاری پی اے سی سب کمیٹی کے اجلاس میں اچانک داخل ہوکر سینیٹر مشاہد حسین سید کا بازو جھٹک کر پوچھا کہ یہ کس کا اجلاس ہے،جس پر کنونیئر کمیٹی شیری رحمان نے مضطرب حالت میں پوچھا یہ خاتون کون ہے اور سیکورٹی والے لوگ کہاں ہیں۔تاہم خاتون کو جب بتایا گیا کہ یہ سب کمیٹی پی اے سی کا اجلاس ہورہا ہے تو متذکرہ نامعلوم خاتون فوراً کمرہ سے باہر چلی گئی،جس پر سینیٹر مشاہد حسین سید،شیری رحمان اور شیراز ایم این اے ششدر ہوکر آپس میں محو گفتگو ہوگئے۔کنونیئر کمیٹی شیری رحمان نے کمرہ کے گیٹ پر مامور سیکورٹی افسر کو طلب کیا تو وہ بروقت حاضر نہ ہوا کیونکہ متعلقہ سیکورٹی اہلکار دروازہ پر ڈیوٹی دینے کی بجائے کہیں اور گیا ہوا تھا۔پارلیمنٹ میں سیکورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے اور ہر آنے والے شخص،خاتون کی شناخت دیکھ کر پارلیمنٹ میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے،ماضی میں بھی پارلیمنٹ کی ناقص سیکورٹی کے باعث ایک خاتون قومی اسمبلی اجلاس میں جاکر بیٹھ گئی تھی،جس پر ہنگامہ کھڑا ہوا تھا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ خاتون کیسے داخل ہوگئی ہے جب انہوں نے سیکورٹی اہلکار کی طرف دیکھا تو وہ ڈیوٹی سے غائب تھا۔قومی اسمبلی ذرائع نے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ میں سیکورٹی کا معیار موجودہ حکومت کے ساتھ ہی گر چکا ہے جب سے اسد قیصر سپیکر منتخب ہوئے ہیں ان کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ بہتر منتظم  نہیں ہیں اور ان کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں پشتون لوگوں کی اجارہ داری ہے تاہم پی اے سی سب کمیٹی اجلاس میں ناقص سیکورٹی کا معاملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کانسٹیٹیوشن کمرہ کے ساتھ دوسرا روم وزیراعظم عمران خان کا ہے اس حوالے سے اس واقعہ کو اہمیت نہ دینا ناانصافی ہوگی۔اس حوالے سے شیری رحمان نے میڈیا کو بتایا کہ متذکرہ خاتون غلطی سے اجلاس میں آگئی تھی اور معذرت کے بعد چلی گئی۔جب ان سے پوچھا کہ واقعہ کی رپورٹ متعلقہ حکام کو دی ہے تو اس حوالے سے شیری رحمان نے وضاحت نہیں کی۔یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں،تاہم سیکورٹی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

پارلیمنٹ سکیورٹی/ بھانڈا

مزید : صفحہ آخر


loading...