وکلاء کے پی آئی سی پر حملہ نے سوسائٹی کے پڑھے لکھے طبقات کو ہلا کر رکھ دیا 

    وکلاء کے پی آئی سی پر حملہ نے سوسائٹی کے پڑھے لکھے طبقات کو ہلا کر رکھ دیا 

  



لاہور(نامہ نگار)نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مامون رشید شیخ نے کہاہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ ہمارے معاشرے میں موجود عدم برداشت اور عدم اتحاد کی عکاسی کرتا ہے، بلاشبہ یہ اس واقعہ کی ذمہ داری کسی ایک طبقہ پر نہیں ڈالی جا سکتی لیکن اس واقعہ نے سوسائٹی کے دیگر پڑھے لکھے طبقات کو ہلا کر رکھ دیا ہے،ان خیالات کا اظہار نامزد چیف جسٹس نے حمایت اسلام لاء کالج کی 50 سالہ تقریبات میں شرکت کے دوران اپنے خطاب میں کیا۔نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے مزید کہا کہ اسلام ہمیں اخوت و بھائی چارے کا درس دیتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عدم برداشت کی وجہ سے بھائی چارہ ختم ہورہا ہے۔ آرمی پبلک سکول کے شہداء نے اس بکھری ہوئی قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا، اسی طرح ہم بطور قوم آج بھی کشمیر ایشو پر متحد ہیں، کشمیر میں جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور انڈین حکومت کی جانب سے جو اقدامات سامنے آرہے ہیں اس پر ہماری سوسائٹی کا ہر طبقہ یک زبان ہوکر مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمایت اسلام لاء کالج کا شمار پاکستان کے بہترین لاء کالجز میں ہوتا ہے، لاء کی تعلیم حاصل کرنے والے افراد کو یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اپنے حقوق کیلئے یہ تعلیم حاصل نہیں کررہے بلکہ وہ دوسرے افراد کے حقوق کیلئے یہ علم حاصل کررہے ہیں، اگر ہر وکیل یہ سوچنا شروع کردے کہ اسکی تعلیم کا محور دوسرے لوگ ہیں تو وکالت کا پیشہ ایک درویشی کی شکل اختیار کرلے گا۔تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید، سینئرسول جج لاہور وقار منصور اور دیگر جوڈیشل افسران کے علاوہ سابق و زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی، حمایت اسلام لاء کالج پہنچنے پر نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

جسٹس مامون

مزید : صفحہ آخر