حکومت اور اے ڈی بی میں 800ارب کا گردشی قرضہ سرکاری قرضے میں تبدیل کرنے پر اتفاق

  حکومت اور اے ڈی بی میں 800ارب کا گردشی قرضہ سرکاری قرضے میں تبدیل کرنے پر ...

  



اسلام آباد(آن لائن)ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بینک) اور حکومت نے رواں مالی سال میں 469 ارب روپے ریونیو کنزیومر ٹیرف کے ذریعے وصول کرنے اور 3 برس میں 800 ارب روپے کے گردشی قرضے کو سرکاری قرضے میں منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلہ مالی سال 2016 سے لے کر اب تک شعبہ توانائی کا خسارہ 4 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگانے کے بعدکیا گیا۔مذکورہ فیصلہ توانائی کے شعبے اور مالی استحکام کے پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک نے گزشتہ ہفتے پاکستان کو25 برس کے لیے 3 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں 2 فیصد شرح سود پر 5 سال کا رعایتی عرصہ بھی شامل ہے۔وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کو لکھا کہ ’منصوبے میں کچھ پیداواری اثاثوں کی آمدن کا استعمال، توانائی کے ذیلی شعبے کی ٹرانسمیشن اور سرکاری کمپنیوں کی تقسیم، ٹیرف سبسڈیز کو ترجیحی طور پرغریب گھرانوں کیلئے سماجی تعاون کے پروگرام مں شامل کرنا اور پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کیقرضے کے اسٹاک کے حصوں کو سرکاری قرض میں تبدیل کرنا شامل ہوگا۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا کہ ’پیشگی اقدام کے طور پر، حکومت مالی سال 2019 کی چاروں سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ سے آگاہ کرچکی ہے جس میں 469 ارب کے ریونیو کو ٹیرف کے ذریعے ایڈجسٹ کیا جائے‘۔اس میں مزید کہا کہ گردشی قرضہ جمع ہونے پر قابو پانے کیلئے سالانہ ٹیرف کے عمل کی درستگی کیلئے حکومت کو جولائی 2020 سے قبل مالی سال 2021 کے ٹیرف سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے قرض دہندگان کیساتھ مشاورت کے بعد گردشی قرضے میں کمی کے منصوبے میں جمع شدہ ادائیگیوں اور پی ایچ پی ایل پر قرضوں میں کمی کو بھی شامل کیا ہے۔مالی سال 2020 کیلئے نئے گردشی قرضے کو 124 ارب روپے سے کم رکھا جانا ہے اور پی ایچ پی ایل کے قرضے میں کمی جائے گی اور سرکاری قرض تصور کیا جائے گا۔بعدازاں اس جمع شدہ قرض کو مالی سال 2021 میں 74 ارب روپے تک کم کیا جائے گا۔حکومت نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ نیپرا ترمیمی ایکٹ جس میں خودکار سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور سرچارجز کو منظوری کیلیے پارلیمنٹ میں جمع کروانے کو یقینی بنایا جائے گا۔دونوں فریقین نے مذکورہ منصوبے پر کامیاب عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت 50 گردشی قرضے کو مالی سال 2019 کے 450 ارب روپے کے مقابلے میں 2024 تک 50 ارب روپے تک لایا جائے گا اور توانائی کی پیداواری لاگت کو 15 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 11 روپے تک لایا جائے گا۔ساتھ ہی حکومت نے تقسیم، پیداوار اور ٹرانسمیشن کمپنیوں اور 2 ایل این جی پاور پلانٹس کی نجکاری میں کم از کم ایک خاتون کو بطور بورڈ رکن کو شامل کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔

 اتفاق

مزید : صفحہ آخر


loading...