سردی کی شدید لہر، جیلوں میں قیدی نمونیا،خارش میں مبتلا 

سردی کی شدید لہر، جیلوں میں قیدی نمونیا،خارش میں مبتلا 

  



لا ہور (رپو ر ٹ، محمد یو نس با ٹھ) پنجاب کی بیشتر جیلوں میں سردی کی شدت کے باعث قیدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا،گندے کمبل اور رضائیوں سے حوالاتی وبائی اور متعدی امراض میں مبتلا ہونے لگے،جیلوں میں مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا ہے۔ جیل ذرا ئع سے معلوم ہوا کہ قیدی مریض خا رش، نمو نیا، ڈا کٹرو ں کے فقدا ن اور معیار ی ادویات نہ ہو نے کے با عث بڑھ رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق قیدیوں اور حوالاتیوں نے الزام لگایا ہے کہ جیلوں میں سردی کی روک تھام کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے جیلوں میں لگائے جانے والے آہنی جنگلے ٹھنڈی ہوا کے باعث اور خا رشی کمبل قیدیوں اورحوالاتیوں کی بیماریوں میں ا ضا فے کا سبب بن رہے ہیں جیل انتظامیہ پر یہ لازم ہے کہ آہنی جنگلوں پر پلاسٹک لگائے جائیں مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ جو شاپر لگائے گئے تھے وہ پھٹ چکے ہیں قیدیوں اور حوالاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان جنگلوں پر شاپر لگانے کی کوشش کی ہے۔جو کہ مکمل طور پر ان جنگلوں کو ڈھانپ نہیں سکے۔جیل ذرائع کے مطابق 50 فیصد سے زائد قیدی اور حوالاتی  بخار کھانسی،نزلہ اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہیں۔علاوہ ازیں دیگر جیلوں سے ہیپا ٹائٹس کے مریض بھی سینٹرل جیل کوٹ لکھپت بھجوا دیے جاتے ہیں ذرائع کے مطابق پنجاب کی بیشتر جیلوں میں تین ہزار سے زائد قیدی ہیپا ٹائٹس کے مرض میں مبتلاہیں اور ان کے علاج کے لیے جیل انتظامیہ کے پاس مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ جیل انتظامیہ کا موقف ہے کہ قیدیوں اور حوالاتیوں کے جیلوں میں باقاعدگی سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

جیل صورتحال

مزید : صفحہ آخر


loading...