شاندار کارکردگی دکھانے والے: ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو اگلے ماہ نیاسنٹر ل کنٹریکٹ ملے گا

شاندار کارکردگی دکھانے والے: ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو اگلے ماہ نیاسنٹر ل کنٹریکٹ ...

  



لاہور (سپورٹس رپورٹر)پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سیّد سلطان شاہ نے کہا ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر شاندار کارکردگی دکھانے والے قومی کھلاڑیوں کو آئندہ ماہ جنوری 2020ء میں ہونے والے نئے سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل کیا جائے گا، جب تک بھارتی بلائنڈ کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ نہیں کرے گی تب تک قومی ٹیم بھی بھارت نہیں جائے گی، خواتین بلائنڈ کرکٹ کی تنظیم نو کی جا رہی ہے، پی بی سی سی کا پورے ملک میں ایک بڑا نیٹ ورک ہے اور ملک بھر میں ہمارے 17 کلبز موجود ہیں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کیلئے 6 ماہ کیلئے نئے سنٹرل کنٹریکٹ کا اعلان آئندہ ماہ کریں گے جس میں ڈومیسٹک سطح پر شاندار کارکردگی دکھانے والے نئے کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ قومی بلائنڈ کرکٹ کے کھلاڑیوں کا سنٹرل کنٹریکٹ ایک بڑا مسئلہ تھا، انہیں بہت کم معاوضہ مل رہا تھا، حال ہی میں ہم نے ان کے معاوضہ میں 3 ہزار روپے کا اضافہ کیا ہے، اب بی ون کے کھلاڑیوں کو 15 ہزار، بی ٹو کے کھلاڑیوں کو 12 اور بی تھری کے کھلاڑیوں کو 10 ہزار روپے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ پاکستان نے بلائنڈ کرکٹ کا بال متعارف کرایا ہے جو 10 ممالک میں استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کا پورے ملک میں ایک بڑا نیٹ ورک ہے اور پاکستان میں بلائنڈ کرکٹ کے 17 کلبز موجود ہیں، جو بھی بلائنڈ کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونا چاہے اسے حکومت کی طرف سے معذوری کا سرٹیفکیٹ دینا لازمی ہو گا۔ ہم انہیں مفت ممبر شپ دیتے ہیں۔ سید سلطان شاہ نے کہا کہ ملک میں خواتین بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کو بااختیار بنانے کیلئے ہم نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تین ریجنز بنائے ہیں۔ پاکستان میں خواتین کرکٹ شروع ہونے کے بعد اب انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز میں بھی بلائنڈ ویمن کرکٹ کے مقابلوں شروع ہو چکے ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کے ورلڈ کپ کا بھی سوچ رہے ہیں لیکن پہلے قومی بلائنڈ خواتین کرکٹ ٹیم کو تیار کرنا ہے اور یہ اعزاز بھی پاکستان کا ہو گا۔

 انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ملک میں خواتین کرکٹ شروع کی تو ہمارے لئے بڑے مسائل تھے لیکن اس کے باوجود ملک بھر سے 130 کے قریب خواتین کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی جن میں سے 35 باصلاحیت کھلاڑیوں کو تین مراحل میں تربیت فراہم کی، آئندہ اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے خواتین کرکٹ کیلئے ہمیں فنڈز نہیں ملے یہ 80 لاکھ کا منصوبہ تھا جو سپانسر کے ذریعے پورا کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہمارا 3 کروڑ کا سالانہ بجٹ ہے جو ہمیں پی سی بی کی جانب سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں۔ سید سلطان شاہ نے کہا کہ اب تک 5 ایک روزہ اور 2 ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلے جا چکے ہیں، دونوں فارمیٹس میں پاکستان نے فائنلز تک رسائی حاصل کی جبکہ 2 مرتبہ ایک روزہ ورلڈکپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ پی بی سی سی نے بھارت کے خلاف حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ توقع رکھتے ہیں کہ آنے والے ورلڈ کپ میں پاکستان انہیں شکست سے دو چار کریں گے۔ ہر ورلڈ کپ میں پاکستان لیگ میچز میں انہیں شکست دیتے ہیں لیکن فائنل میں ہمارے کھلاڑی دباو کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں کرکٹ بھی سیاسی ہو گیا ہے۔ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے اس کے باوجود 2011ء اور 2014ء میں بھارت نے پاکستان کا دورہ کیا اور دونوں سیریز میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح پاکستانی ٹیم بھی 2017ء کے بعد بھارت نہیں گئی۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک بھارت دورے میں پہل نہیں کرے گا تو ہم بھی بھارت نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلائنڈ کرکٹ کے فروغ اور بہتری کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز بہت ضروری ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کیلئے ہم نے تقریبا نئی ٹیم تیار کر لی ہے جس میں 90 فیصد نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا حتمی فیصلہ ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ کوشش کررہے ہیں کہ نومبر اور دسمبر میں انہی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کی سیریز میں کھلوائیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...