پاکستان اور پشاور بارز کی جانب سے عدالتوں کا بائیکا ٹ اور ہڑتال چیلنج

پاکستان اور پشاور بارز کی جانب سے عدالتوں کا بائیکا ٹ اور ہڑتال چیلنج

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پاکستان بارکونسل، خیبرپختونخوا بارکونسل اور اورپشاوربارایسوسی ایشن کیجانب سے عدالتوں سے بائیکاٹ کرنے اورہڑتال کی کال دینے کے اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے، علی عظیم آفریدی ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن میں اس اقدام کو غیرقانونی اوراختیارات سے تجاوز قراردینے کی استدعا کی گئی ہے،رٹ میں وزارت قانون وانصاف، پاکستان بار کونسل، خیبرپختونخوا بارکونسل، پشاورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اوررجسٹرارپشاورہائی کورٹ وغیرہ کو فریق بنایا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 199کے تحت دائر رٹ پٹیشن میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان لیگل پریکٹشنرزاینڈ بارکونسل رولز کی شق 175(ای)کے تحت بارکونسل وغیرہ کیجانب سے ہڑتال کی کال دی جاتی ہے حالانکہ آئین کے تحت شہریوں کو انسانی حقوق اور انصاف تک رسائی کا حق حاصل ہے اورعدالتوں کے پاس اختیار حاصل ہے کہ بنیادی حقوق کیخلاف کسی بھی اقدام کو غیرقانونی قرار دے سکتی ہے جبکہ لیگل پریکٹشنر اینڈبارکونسل ایکٹ 1973کے تحت بارکونسل کو اجازت دی گئی ہے کہ قومی سطح پر احتجاج کی کال دے جو کہ آئین و قانون کے خلاف ہے رٹ کے مطابق انصاف تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور عدالتوں کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر کسی رکاوٹ، اثرورسوخ اوردباؤ کے لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ تاہم بائیکاٹ اور ہڑتال کے اعلان سے وکلاء کواپنے فرائض ادا کرنے اور عدالتوں میں پیش ہونے سے روکا جاتا ہے جونہ صرف آئین کیخلاف ہے بلکہ اس سے لوگوں کے بنیادی حقوق سلب ہورہے ہیں،لہذاآرٹیکل175بی اورپاکستان لیگل پریکٹشنرز اینڈ بارکونسل رولز کے رول 175(ای)کے تحت ہڑتال کی کال کے اقدام کو غیرقانونی اور اختیارات سے تجاوز قراردیاجائے جبکہ فریقین کو اس اقدام سے روکا جائے کہ وہ عدالتی کارروائی اور عدالتوں کے سامنے درخواست گزاروں، موکلوں اوروکلاء کے پیش ہونے میں خلل نہ ڈالیں،رٹ میں کہا گیا ہے کہ کیس پرسماعت کے دوران ضرورت پڑنے پر مزید دلائل اوراحتجاج کے کال کو غیرقانونی قراردینے کی وجوہات پیش کی جائیں گی، پشاورہا ئیکورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چند روز میں رٹ کی سماعت کرے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر