پاکستان میں حقیقی جمہوریت اب تک بحال نہیں ہوئی ہے، میاں افتخار حسین

    پاکستان میں حقیقی جمہوریت اب تک بحال نہیں ہوئی ہے، میاں افتخار حسین

  



پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کیلئے انکی جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی کیونکہ آئین پاکستان کے تحت ہر ادارے کے اختیارات متعین کردیے گئے ہیں اگر کوئی اس دستاویز کے خلاف جائیگا توانکے لئے بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں جس پر عملدرآمد ہی اس ملک کی مضبوطی کا سبب بنے گا۔نوشہرہ میں ایک نجی سکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی اصلی شکل میں بحالی کیلئے تمام اپوزیشن ملکر جدوجہد کررہے ہیں اور امید ہے کہ یہ جنگ اصل جمہوریت پر ہی منتج ہوگی۔ آئین توڑنے والوں کے خلاف کل بھی کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور کل بھی کھڑے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف نے دو بار آئین کو معطل کرکے سنگین غداری کا ارتکاب کیا تھاجسکے لئے آئین میں آرٹیکل چھ موجود ہے جو سنگین غداری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے چلائی گئی تحریک ہی کو دبانے کیلئے مشرف نے نہ صرف ججز کو نظر بند کیا بلکہ پورے ملک میں انارکی کی صورتحال پیدا کی گئی۔بھارت میں شہریت سے متعلق متنازعہ قانون ہندوستان کی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر شہریت کا قانون امتیازی سلوک ہے جو انکے اپنے آئین کی منافی ہے۔ ہم سجھتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ہر ایک کو برابری کی بنیاد پر دیکھنا چاہیے۔ بھارت میں ترمیمی بل اکثریت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور احتجاج بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔ سکولز و کالجز میں طلباء پر تشدد کرنا زیادتی اور غیرجمہوری روایات ہیں۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ کشمیر میں کرفیو لگانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ہندوستانی حکومت کے رویے کی وجہ سے عوام مشکلات اور ظلم کے شکار ہیں۔کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے جس کیلئے اقوام متحدہ کی قرارداد اور شملہ معاہدہ موجود ہے۔باچاخان نے پاکستان بننے کے بعد ہی کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن حکمرانوں نے کریڈٹ لینے کی چکر میں کشمیریوں کے حق خودرادیت سمیت اس مسئلے کو 70سال تک حل نہیں کیا اور آج کشمیر بھی ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔مادری زبانوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ سندھ میں مادری زبان میں نصاب موجود ہے،پاکستان میں ہرکسی کو مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق موجود ہے لیکن بدقسمتی سے یہ حق چھینا جارہا ہے۔ہم مادری زبان میں تعلیم دینے کے حق میں ہیں اور انکے لئے ایک سنجیدہ کوشش بھی کرچکے ہیں، افسوسناک امر یہ ہے کہ پشتو کی بات کرنیوالوں کو غدار قراردیا جاتا ہے۔ مادری زبان ہی دراصل ترقی کی علامت ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...