پرویز مشرف کیخلاف فیصلے سے آئین جمہوریت اور قانون کی بالا دستی ممکن ہوئی، وکلا

پرویز مشرف کیخلاف فیصلے سے آئین جمہوریت اور قانون کی بالا دستی ممکن ہوئی، ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخوا کے وکلاء نے سپیشل کورٹ کیجانب سے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا کے فیصلے کوتاریخی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آئین،جمہورت اورقانون کی بالادستی ممکن ہوئی ہے، عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محمد ایازخان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس فیصلے سے آزاد عدلیہ کا تاثر ملا ہے جس سے جمہوریت کا بول بالا ہواہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے جرات ومردانگی کا مظاہرہ کیا جو مستقل میں امریت کا راستہ روکے گی اورآئندہ ایسا اقدام اٹھانے سے قبل سو بار سوچا جائے گا۔بارکونسل خیبرپختونخوا کے ممبر نورعالم خان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ پہلی بار ایک جنرل کو سزا سنادی گئی جس نے آئین کو معطل کردیا تھا، اس فیصلے سے دنیا کو مثبت پیغام جائے گا کہ پاکستان میں قانون کی نظرمیں امیرغریب، طاقتورکمزور سب برابرہیں اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ عدلیہ آزاد ہے اورآئین کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا، دانیال اسد چمکنی ایڈوکیٹ نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں تاریخ میں پہلی بار ایک جنرل کیخلاف ٹرائل چلا یاگیااوراس فیصلے سے مستقبل میں جمہوریت کیخلاف کسی بھی اقدام کا راستہ روکا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ جمہوریت کیساتھ ساتھ جوڈیشری کی بھی فتح ہے، عیسیٰ خان خلیل ایڈوکیٹ نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جسٹس منیر نے ایک ایسا فیصلہ سنایا تھا جس نے ملک میں جمہوریت کی بنیادیں ہلاکررکھ دی تھیں تاہم اب سابق امر جنرل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنا کر دوبارہ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جس سے جمہوریت کوفروغ اورعدلیہ کی آزادی کو بھی مزید تقویت ملے گی، انہوں نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ فیصلے کیخلاف اپیل کی صورت میں سپریم کورٹ کو بھی اس فیصلے کو برقراررکھنا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی امر آئین کو معطل کرنے کی جرات نہ کرسکے اورجمہوریت کو نقصان نہ پہنچے سکے۔ سعید بلال جان ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ آئین وقانون کی فتح ہے، پہلی بار ملک میں آرٹیکل 6پر عملدرآمد ہوا ہے اور یہ ثابت کیا گیا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججز نے قانون کے مطابق فیصلہ دیاہے۔فیصلے پر ہائی کورٹ کے بار روم میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...