کراچی،چائنا کٹنگ کے بعد چائنا چیک،معاملہ چیف سیکریٹری تک جاپہنچا

    کراچی،چائنا کٹنگ کے بعد چائنا چیک،معاملہ چیف سیکریٹری تک جاپہنچا

  



کراچی(نمائندہ خصوصی) کراچی واٹر اینڈسیوریج بورڈ میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج اعلی افسران کی آشیر باد سے اپنے انجام کی جانب گامزن ہے،پندرہ سال سے ڈائریکٹر اکاونٹس کے عہدے پر براجمان عمران زیدی نے اپنا الگ سسٹم بنارکھا ہے،پینشن ہویا میڈیکل یا پھرمرنے والے ملازم کے واجبات سبھی کو ایک مخصوص سسٹم کے تحت رشوت دینی پڑتی ہے،سب سے زیادہ متاثرین واٹر بورڈ کے وہ کنٹریکٹرز ہیں جو ایمرجنسی میں خطیر رقم ذاتی طور پر لگاکر کام مکمل کرتے ہیں اور پھر اپنی ہی رقم لینے کے لئے انھیں در در بھٹکنا پڑتا ہے،ساڑھے بارہ فیصد سے لیکر چالیس فیصد رقم رشوت کے طور پر اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے افسران کو ایڈوانس دینی پڑتی ہے پھر جاکر انکا اپنا چیک کلیئر ہوتا ہے،بعض کنٹرکٹرز سے ایڈوانس رشوت بٹورنے کے باوجود انھیں عمران زیدی چائنا چیک پکڑا دیتے ہیں جو کبھی کیش نہیں ہوتے،چار چھ ماہ خوب تنگ کرنے کے بعد ٹھیکیداروں کو تھوڑی تھوڑی رقم دیکرخاموش کردیا جاتا ہے،جبکہ ایم ڈی اور چند بااثر افسران کے من پسند ٹھیکیداروں کی کمپنیوں کے چیک گھروں پر پہنچائے جاتے ہیں،جسکی تازہ مثال حاجی شاہد کو دیا جانیوالا سرکاری چیک ہے جوکہ بنک نے باونس کردیا،اکاونٹس ڈیپارٹمنٹ کی چالاکی دیکھیں کہ چیک پر واضح ہے کہ یہ چیک آن لائن ٹرانسفر نہیں ہوگا،اپنے اکاونٹس میں ڈالیں چوبیس گھنٹے بعد جواب آئیگا کہ چیک کلیئر ہوا کہ نہیں،حاجی شاہد کو اسکی اپنی رقم اٹھائیس لاکھ میں سے پانچ لاکھ کا چائنا چیک بناکر دیدیا گیا،اسی طرح ڈیڑھ سو سے زائد ٹھیکیداروں کی واٹر بورڈ میں پڑی رقم کروڑوں روپئے بنتی ہے جس پر ہر ماہ لاکھوں روپئے کا منافع خاموشی کے ساتھ چند لوگوں کی جیبوں میں چلاجاتا ہے،حاجی شاہد کے مطابق عمرے پر جانے سے پہلے عمران زیدی نے ایم ڈی کے حکم پر پچیس فیصد کٹوتی کے ساتھ یعنی ڈھائی لاکھ روپئے کا ایڈوانس چیک لیکر دس لاکھ کا چیک جاری کیا،ڈھائی ماہ بعداب میری ضرورت ہے تو مجھے ایم ڈی کی سفارش پر دس کی جگہ پانچ لاکھ روپئے کا جعلی سرکاری چیک تھمادیا،چیف سیکریٹری کو کی جانیوالی شکایت میں انکشاف کیا گیا کہ واٹر بورڈ کے شعبہ اکاونٹس میں پندرہ سے زائد غیر متعلقہ افراد کام کررہے ہیں جنھیں براہ راست ڈائریکٹر اکاونٹس عمران زیدی چلارہا ہے،بلکہ ایک خطیر رقم بیرون ملک بھی بھجوائی جاتی ہیجبکہ اینٹی کرپشن اور نیب کے افسران کئی بار آئیے اور چلے گئے اب انکے ہر ماہ پرائیویٹ بیٹر عمران زیدی کی خیریت دریافت کرنے آتے ہیں اور اپنا تھیلا لیکر چلے جاتے ہیں،نئی بننے والی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے زمہداران نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمے سے کالی بھیڑوں کا صفایا کریں ورنہ یہ محکمہ اور اس سے جڑے بے ایمان لوگ آپکو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑینگے،

مزید : صفحہ اول