مسلم طلباء پر پولیس تشدد نے بھارتی سیکولرازم کوبے نقاب کردیا، حافظ نعیم الرحمن

  مسلم طلباء پر پولیس تشدد نے بھارتی سیکولرازم کوبے نقاب کردیا، حافظ نعیم ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت میں امتیازی سلوک پر مبنی متنازع شہریت ترمیمی بل اور بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش اور دیگر اقدامات بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی کڑی ہیں۔ بل کے خلاف احتجاج کرنے والے پُر امن اور نہتے بھارتی مسلمانوں،جامعہ ملیہ دہلی،علی گڑھ یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات میں طلبہ برادری بالخصوص طالبات پر بہیمانہ پولیس تشدد نے بھارت کے نام نہاد سیکولر چہرے کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جو ہندو انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کا بنیادی مقصد ہے۔ جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر و تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں تمام حدود کو پار کر گئی ہیں۔ اقوام متحدہ، عالمی برادی اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنے کے لیے صرف زبانی جمع خرچ اور مذمتی بیانات سے بڑھ کر اقدامات کریں اور نریندر مودی کو اپنے ناپاک ارادوں سے باز رکھیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت میں مذہبی بنیادوں اور امتیازی طور پر شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے پیچھے مسلمانوں کو بے دخل اور ان کی زندگی اجیرن کرنے کی ذہنیت کارفرما ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 1990سے بھارت میں راشٹر یہ سیوک سنگھ، وشوہندو پریشد، بجرنگ دل، شیو سینا کے انتہا پسند اور متعصب عناصر پر مشتمل بی جے پی کی حکومت رہی ہیں جو بظاہر سیکولر درحقیقت کٹر ہندو قوم پرست جماعت ہے۔ 1992میں ایودھیا میں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد کو انہی ہندو انتہا پسندوں نے شہید کیا تھا، مودی کی سرپرستی میں گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل اور ختم کرکے اسے بھارت کا حصہ بنایا گیا۔ حالیہ امتیازی شہریت ترمیمی بل سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ فیصلہ دیا۔ یہ تمام اقدامات ثبوت ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی زندگی تنگ کی جارہی ہے اور کچھ عرصے سے اس ایجنڈے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان حالات میں بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھانا ان کے حقوق اور جان و مال کے تحفظ کے لیے اور بھارت کے مکروہ چہرے کو عالمی سطح پر دکھانے کے لیے کوشش اور جدو جہد کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے اور حکومت اور ریاست کو بھی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...