سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم ،فیصلے پر فوج میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے: میجر جنرل آصف غفور

      سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم ،فیصلے پر فوج میں شدید ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں  آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف کو سزائے موت سنادی، خصوصی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا گیا،  بینچ کے 2 ججز نے سزائے موت جبکہ ایک نے اس پر اعتراض کیا۔ تفصیلات  کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں موجود خصوصی عدالت میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس وقاراحمد سیٹھ کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔اگرچہ خصوصی عدالت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ کیس کا فیصلہ آج سنادیں گے تاہم حکومتی پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ علی ضیا باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے آج 3 درخواستیں دائر کی ہیں۔حکومت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست دی گئی اور کہا گیا کہ حکومت شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانا چاہتی ہے۔استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ پرویز مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں کیونکہ تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ساڑھے 3 سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آگئیں۔ساتھ ہی جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزر چکا ہے۔ جنہیں ملزم بنانا چاہتے ہیں انکے خلاف کیا شواہد ہیں؟، کیا شریک ملزمان کے خلاف نئی تحقیقات ہوئی ہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ شکایت درج ہونے کے بعد ہی تحیقیقات ہوسکتی ہے، ستمبر 2014 کی درخواست کے مطابق شوکت عزیز نے مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا کہا تھا۔اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ مشرف کی درخواست کا حوالہ دے رہے ہیں جس پر فیصلہ بھی ہو چکا، ساتھ ہی جسٹس شاہد کریم نے یہ ریمارکس دیے کہ مشرف کی شریک ملزمان کی درخواست پر سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی ہے۔دوران سماعت جسٹس نذر اکبر کا کہنا تھا کہ ترمیم شدہ چارج شیٹ دینے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دی گئی تھی، اس پر استغاثہ نے کہا کہ قانون کے مطابق فرد جرم میں ترمیم فیصلے سے پہلے کسی بھی وقت ہو سکتی۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں، کیا حکومت مشرف کا ٹرائل تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے؟، 3 افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کورکمانڈوز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی، لہذا عدالت کی اجازت کے بغیر فرد جرم میں ترمیم نہیں ہوسکتی۔جسٹس نذر علی اکبر نے ریمارکس دیے کہ چارج شیٹ میں ترمیم کے لیے کوئی باضابطہ درخواست ہی نہیں ملی، عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی نئی درخواست نہیں آسکتی، اسی کے ساتھ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جو درخواست باضابطہ دائر ہی نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے۔علاوہ ازیں جسٹس نذر نے یہ کہا کہ استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے، جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ عدالت سے معذرت خواہ ہوں، اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ کا مقصد صرف آج کا دن گزارنا تھا۔دوران سماعت عدالت کے جج جسٹس شاہد کریم نے پوچھا کہ سیکریٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کیسے چارج شیٹ میں ترمیم کرسکتے ہیں؟ وفاقی حکومت اور کابینہ کی منظوری کہاں ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے، حکومت کارروائی میں تاخیر نہیں چاہتی تو شریک ملزمان کے خلاف نئی درخواست دے سکتی ہے۔اس موقع پر وکیل استغاثہ منیر بھٹی کا کہنا تھا کہ سابق پراسیکیوٹرز نے عدالت سے حقائق کو چھپایا، جس پر جسٹس نذر نے پوچھا کہ سابق پراسیکیوٹرز کے خلاف حکومت نے کیا کارروائی کی؟۔ساتھ ہی جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے پاس 15 دن کا وقت تھا کہ درخواستیں دائر کرے، وفاقی حکومت سے متعلق سپریم کورٹ مصطفی ایمپیکس کیس میں ہدایات جاری کر چکی ہے، سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد سیکریٹری داخلہ نہیں وفاقی کابینہ فیصلے کر سکتی ہے۔عدالت میں وکیل استغاثہ نے بتایا کہ ایک درخواست چارج شیٹ میں ترمیم کی ہے، ملزم نے 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کیا، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ جو پڑھ رہے ہیں وہ دفاع کی درخواست ہے، اس درخواست پر فیصلہ آچکا ہے۔اسی دوران جسٹس شاہد نے پوچھا کہ آپ اس چارج شیٹ میں کیوں ترمیم کرنا چاہتے ہیں، آپ ان لوگوں جن پر مددگار ہونے کا الزام ہے ان کے خلاف نئی شکایت کیوں نہیں دائر کرتے، آپ کیس میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔جس پر جواب دیتے ہوئے وکیل استغاثہ نے کہا کہ نئی شکایت دائر کرنے سے ٹرائل میں تاخیر ہو سکتی ہے جبکہ چارج شیٹ میں ترمیم سے ٹرائل میں تاخیر نہیں ہوگی، اگر پہلے مرکزی ملزم کا ٹرائل مکمل ہو جاتا ہے تو جو مددگار تھے ان کا کیا ہوگا، اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جرم میں سہولت کاروں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، اس معاملے میں تمام چیزوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔عدالت میں دوران سماعت جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ آپ کو علم ہے کہ شہادت ہوچکی ہے، ان سہولت کاروں کے خلاف کیا ثبوت ہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ کسی وقت بھی شکایت میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ عدالت صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند ہے، جن کو آپ شامل کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف کیا تحقیقات ہوئیں۔اس موقع پر جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ استغاثہ اپنے حتمی دلائل شروع کرے، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف تحقیقاتی ٹیم کے 2 ارکان کے بیان ریکارڈ نہیں ہوئے، عدالت میں ایک درخواست تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کی طلبی کی بھی ہے۔پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ کا کہنا تھا کہ ایسے ٹرائل پر دلائل کیسے دوں جو آگے چل کر ختم ہوجائے، عدالت حکومت کو درخواستیں دائر کرنے کا وقت دے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملزم کا دفعہ 342 کا بیان بھی ریکارڈ نہیں ہو سکا، اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ وہ بات کر رہے ہیں جو ملزم کے دلائل ہونے چاہئیں۔اسی دوران جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ کیا آپ مرکزی کیس پر دلائل دینا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر آپ حتمی دلائل نہیں دے سکتے تو روسٹم سے ہٹ جائیں، جس پر علی ضیا باجوہ نے کہا کہ میں دلائل نہیں دینا چاہتا میری تیاری نہیں، اس پر جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس دیے کہ پھر آپ بیٹھ جائیں اور وکیل صفائی کو بولنے کا موقع دیں۔تاہم علی ضیا باجوہ نے کہا کہ میری اور بھی درخواستیں ہیں وہ تو سنیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق بھی درخواست ہے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے پابند نہیں ہیں، ہمارے سامنے صرف سپریم کورٹ کا حکم ہے اس کے تحت کارروائی چلانی ہے۔اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر اور رضا بشیر پیش ہوئے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ سلمان صدر صرف رضا بشیر کی معاونت کرسکتے ہیں۔اسی دوران سلمان صفدر روسٹرم پر آئے تو جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں آپ کی ضرورت نہیں م جس پر وکیل نے کہا کہ آپ نہ استغاثہ کو سن رہے ہیں اورنہ دفاع کو، پھر کیسے کیس کو چلائیں گے۔وکیل کی بات پر جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ عدالتی مفرور شخص کے وکیل کو عدالت میں بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ساتھ ہی جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ضد نہ کریں۔بعد ازاں رضا بشیر نے عدالت کو بتایا کہ 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کی ہے، 

پرویز مشرف کو منصفانہ ٹرائل کا حق ملنا ضروری ہے، اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ 342 کے بیان کا حق ختم کر چکی ہے، پرویز مشرف 6 مرتبہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ضائع کر چکے ہیں۔اس پر رضا بشیر نے کہا کہ پرویز مشرف کو دفاع کا حق ملنا چاہیے، جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استغاثہ اور آپ دونوں ہی مشرف کا دفاع کررہے ہیں۔ساتھ ہی جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا مشرف کو جب چاہیں پیش کردیں، جس پر رضا بشیر نے کہا کہ پرویز مشرف کی صحت اس قابل نہیں کہ وہ پیش ہوسکیں، لہذا دفعہ 342 کے بیان کے بغیر مشرف کا دفاع کیسے کروں؟۔اس پر جسٹس وقار نے کہا کہ آپ دفاع نہیں کرسکتے اس کا مطلب ہے آپ کے دلائل مکمل ہوگئے، جس پر رضا بشیر نے کہا کہ عدالت 15 سے 20 دن کا وقت دے پرویز مشرف بیان ریکارڈ کرائیں گے۔بعد ازاں جسٹس وقار نے ریمارکس دیے کہ 342 کے بیان کے لیے کمیشن بنانے کی درخواست کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر اپنے چیمبرز میں چلے گئے۔بعدازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جنرل (ر)پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنادیا۔خصوصی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا گیا، جس میں بینچ کے 2 ججز نے سزائے موت جبکہ ایک نے اس پر اعتراض کیا۔عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف سنگین غداری کے مرتکب قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا۔ یاد رہے سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نومبر 2013 میں درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔مقدمے میں اب تک 100 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور اس دوران 4 جج تبدیل ہوئے جب کہ گزشتہ تین ماہ سے اس کی مسلسل سماعت کی گئی۔عدالت نے متعدد مرتبہ پرویز مشرف کو وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔مارچ 2014 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی۔بعدازاں 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل )سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔دریں اثناسابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشرف دبئی کے مہنگے علاقے میں اپنے سپر لگڑری پینٹ ہاؤس میں مقیم ہیں جہاں وہ چند دن قبل اسپتال سے گھر منتقل ہوئے تھے مگر ان کی طبیعت اب بھی ناساز ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پرویز مشرف نے عدالتی فیصلے کی اطلاع ٹی وی چینلز پر سنی جس پر انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ ان کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کااعلان کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اے پی ایم ایل کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر حیرت ہے،پرویز مشرف کے وکیل کو سنے بغیر فیصلہ کیاگیا،غیرآئینی مقدمہ غیر آئینی طریقے سے چلا۔ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے بھی اپنے موکل کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین شکنی کوئی معمولی جرم نہیں ہے، خصوصی عدالت کے فیصلہ میں آئینی تقاضے پورے نہیں کئے گئے، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عجلت میں فیصلہ سنایا گیا،شفاف ٹرائل اورسابق صدر پرویز مشرف کو موقع نہیں ملا، فیصلہ میں 77 سالہ سابق صدر پرویز مشرف جو کہ بیماری کی حالت میں ہیں ان کو سزائے موت سنائی گئی، ٹرائل میں بہت سی خامیاں ہیں، اس حوالے سے بہت سے قانونی پہلوؤں کو دیکھنا ہوتا ہے منگل کے روز خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ماہر قانون سے ان کی رائے لی جائے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ غیر موجودگی میں سزا سنائی جائے، پرویز مشرف کا ایسا کیس ہے جس کا استغاثہ 7 سال کی تاخیر سے دائر کیا گیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ 2007 کا ہے جبکہ اس کا استغاثہ 2013 میں دائر کیا گیا، کیا ہمیں یہ بتایا جا سکتا ہے کہ اس میں سات سال کی تاخیر کیوں کی گئی اور ہماری درخواستوں کو مسترد کر کے اچانک فیصلہ سنا دیا گیا۔ا نہو ں نے کہا کہ فیصلہ میں آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہماری درخواستیں قانون کے مطابق اور اہم تھیں جنہیں مسترد کیاگیا، ہماری ایک درخواست یہ تھی کہ ایک میڈیکل کمیشن قائم کیا جائے جو جاکر خود جائزہ لے، قانونی ماہرین سے ان کی رائے لی جائے کیاغیر موجودگی میں سزا دی جاسکتی ہے، استغاثہ کو چاہیئے تھا کہ وہ اڑھائی سے 3 سال میں اپنا کیس مکمل کرلیتے مگر انہوں نے کیوں اس کو مکمل نہیں کیا،عدالت کی جانب سے کبھی کہا جاتا رہا کہ سلمان صفدر مشرف کے وکیل نہیں ہیں تو کبھی ہیں، حالانکہ سلمان صفدر کو اے پی ایم ایل نے نہیں بلکہ پرویز مشرف نے از خود اپنا وکیل مقرر کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد بازی میں تمام درخواستوں کو مسترد کیا، جب ایک مریض کی مسلسل کیموتھراپی چل رہی ہے تو آپ کس طرح عدالت میں پیش ہوسکتے، انسانی بنیادوں پر خود وزارت داخلہ نے علاج کے لئے جانے کی اجازت دی ہمارے لئے یہ فیصلہ حیران کن اور اچانک تھا، اس فیصلے میں بنیادی غلطیاں تھیں جنہیں درست نہیں کرنے دیا گیا،پرویز مشرف کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور خصوصی عدالت سزائے موت سنائی گئی، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عجلت میں فیصلہ سنایا گیا،اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز اور عبدالحمید ڈوگر کو کیوں ملزم نہیں بنایا گیا؟ یہ درخواست بھی مسترد کردی،تمام شفاف قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے پیرانہ سالی میں پھانسی کی سزا سنائی گئی، ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، جیسے ہی آئے گا تو اس کو چیلنج کیا جائے گا۔دریں اثنااٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے خصوصی عدالت کے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے کو غلط قرار دیدیا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا کہ پرویزمشرف کو سزائے موت دینے کا فیصلہ غلط ہے، میں واضح طور پر کہتا ہوں اس سے زیادہ ظلم کسی کے اوپر نہیں ہوسکتا، یہ ایسی بات ہے جیسے کسی کے بنیادی حق کو مکمل نظر انداز کردیا جائے۔انہوں نے کہ ایک شخص کو بیان ریکارڈ کیے بغیر پھانسی کی سزاسنانے پر معافی کی گنجائش نہیں، ایک شخص بیمار ہے اسے کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں پر آکر بیان دیں اور ایک شخص جو بیمار نہیں ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ آپ باہر چلے جائیں۔اٹارنی جنرل انورمنصور خان نے کہا کہ فیصلہ جو غلط ہے اس کو غلط کہیں گے اور کہنا چاہیے، جو درخواست دی گئی تھی وہ آج سے ڈیڑھ سال پہلے دی گئی تھی، درخواست تھی کہ سب کو بلایا جائے جس میں جسٹس ڈوگر اور دیگر بھی شامل تھے لیکن اس درخواست کو انھوں نے رد کیا تھا یا ڈس مس کیا تھا اور کورٹ کا یہ کہنا کہ یہ اتنے عرصے کے بعد آئے ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے پاس اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردو عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کچھ سیاستدان ادارے کی تضحیک کرنے میں مصروف ہیں، دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اٹارنی جنرل انور منصور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔ ملکی اداروں کے درمیان ہم ا?ہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ افواج پاکستان نے ملکی سلامتی کے لازوال قربانیاں دیں اور پاک فوج کے جوانوں نے اپنے لہو سے امن کے دیے روشن کیے۔ افواج پاکستان نے جمہوریت کی آبیاری اور جمہوریت کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عسکری قیادت نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت عالمی ادارے بھی پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مخالفین بغلیں بجا رہے ہیں۔ افواج پاکستان کا مورال بلند رکھنا قومی فریضہ ہے لیکن کچھ سیاستدان ادارے کی تضحیک کرنے میں مصروف ہیں اور دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پرویز مشرف سے حلف لینے والے فیصلے پر جشن منا رہے ہیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف بیمار اور اس وقت آئی سی یو میں ہیں، فیئر ٹرائل پر شہری کا حق ہے لیکن انھیں اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔ ان کی غیر حاضری میں ان کو سزائے موت سنائی گئی۔ سابق صدر نے کچھ درخواستیں عدالت میں دی تھیں جس میں انہوں نے دیگر لوگوں کو بھی فریق بنانے کی درخواست کی تھی۔

مشرف سزا

مزید : صفحہ اول