کراچی،بے گناہ شخص بابا لاڈلا قرار دے کر برسوں جیل میں قید

کراچی،بے گناہ شخص بابا لاڈلا قرار دے کر برسوں جیل میں قید

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) رینجرز مقابلے میں مارے گئے لیاری گینگ وار کے سرغنہ بابا لاڈلا کے نام پر 4 سال قید کاٹنے والا شہری سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق پولیس کی نااہلی نے بابا نور محمد کو بابا لاڈلا بنا دیا، بابا نور کے 4 سال بابا لاڈلا کے نام پر جیل کی نذر ہوگئے، شہری اپنی شکایت لے کر سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا، متاثرہ شہری نے پولیس اور کے الیکٹرک کے خلاف 50 لاکھ روپے ہرجانے کا دعوی کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ 1998 میں مجھے حراست میں لیا گیا اور میرے خلاف 6 مقدمات بنائے گئے اور ان سب میں مجھے عدالت نے بری کردیا۔نور محمد کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک والے نوکری پر بحال نہیں کررہے، پولیس نے مجھے بابا لاڈلا سمجھ کر گرفتار کیا، مجھے اب معاوضہ ملنا چاہیے، میرے 4 سال ضائع ہوگئے میرے 9 بچے ہیں۔نور محمد کے وکیل شعاع النبی کا کہنا ہے کہ یہ پولیس سمیت دیگر اداروں کی نااہلی ہے کہ بابا لاڈلا کے نام پر کسی اور شہری کو گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ فروری 2017 میں رینجرز کی لیاری میں کارروائی کے دوران لیاری گینگ وار کے انتہائی مطلوب کمانڈر نور محمد عرف بابا لاڈلا 2 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا تھا۔لیاری میں خوف کی علامت سمجھا جانے والا نور محمد عرف بابا لاڈلا گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ سے اختلافات اور لیاری آپریشن کے باعث عمان چلا گیا تھا۔ بابا لاڈلا 100 سے زائد قتل کی وارداتوں میں مطلوب اور پولیس کی ریڈ بک میں شامل تھا۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد سربراہ کی کرسی عزیر بلوچ نے سنبھالی اور بابا لاڈلا کو کرمنلز کا ہیڈ مقرر کیا لیکن 2013 میں رینجرز نے لیاری میں آپریشن شروع کیا تو عزیربلوچ ملک سے فرار ہو گیا۔آپریشن کی شدت بڑھنے پر بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ سے مطالبہ کیا تھا کہ لیاری میں جاری آپریشن سیاسی مداخلت سے ختم کروایا جائے لیکن عزیر بلوچ ایسا نہیں کرواسکا جس پر بابا لاڈلا نے پیپلز امن کمیٹی کے ترجمان اور عزیر بلوچ کے دست راز ظفر بلوچ کو لیاری میں قتل کر دیا۔ظفر بلوچ کے قتل کے بعد بابا لاڈلا اور عزیر بلوچ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے اور لیاری آپریشن کے دوران ہی بابا لاڈلا پاکستان چھوڑ کر عمان چلا گیا تھا، رینجرز سے مقابلے میں مارا جانے والا بابا لاڈلا ابتدائی زندگی میں بس کلیئنر کا کام کرتا تھا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...