پاکستان ایکسیلینس کلب کانسیم الغنی کے اعزاز میں شام کا انعقاد

پاکستان ایکسیلینس کلب کانسیم الغنی کے اعزاز میں شام کا انعقاد

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ایکسیلینس کلب کی جانب سے سندھ حکومت کے سیکریٹری انڈسٹریز اور کامرس نسیم الغنی سہتو کے ساتھ گیسٹ اسپیکر پروگرام میں ایک شام منعقد کی گئی۔ اس موقع پر نسیم الغنی سہتو کو ان کی بہترین سرکاری کار انجام دینے پر پاکستان ٓافیسرز ایکسیلینس ایوارڈ دیا گیا اور پاکستان ایکسیلینس کلب کی لائف ٹائم ممبرشپ بھی تفویض کی گئی۔ اس موقع پر سیکریٹری انڈسٹریز اور کامرس سندھ نسیم الغنی سہتو نے اپنے خیالات کااظہار اور شرکاء کے مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت صنعت کے شعبہ کو فروغ دینے کیلئے بڑی رقم بھی رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ باالخصوص صنعت کے شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اب امن و امان کی بہتر صورتحال کے باعث صنعت و تجارت کا شعبہ ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کوچاہئے کہ سرکاری نوکری اچھاکیریئر سے متعلق سوچ کے بجائے کاروباری سوچ، محنت، لگن کے ساتھ مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کریں اور اپنی زندگی کا آغاز نجی کاروبار سے کریں، تو ان کی زندگیوں کو چار چاند لگ سکتے ہیں، کیونکہ نوکری سے بہتر اپنا کاروبار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے موٹے کاروبار کے علاوہ صنعتیں لگانا ایک بھتر عمل ہے، تجربہ، معلومات اور کثیر سرمایہ نہ ہونے کے باعث افراد صنعتکاری کے شعبہ میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوششوں کی بدولت پولٹری کے شعبہ میں انقلاب آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ضروت ہے کہ آبادی پر توجہ دی جائے، مستقبل میں آبادی میں اضافے سے کئی شدید مشکلات کا سا منہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں صنعتی شبہ ترقی کی جانب گامز ہے،حیدرآباد، کوٹری، سکھر، ٹھٹہ، لاڑکانہ، کورنگی، اورنگی، فیڈرل بی ایریا اورلانڈھی کو بہت بڑی رقم دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں صنعتی شعبہ کمزور نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ، حیدرآباد، ہالا، نوری آباد سمیت دیگر شہروں میں انڈسٹریل زون کی مثبت سرگرمیان نظر آرہی ہیں، البتہ بدین، نوابشاہ اور کئی شہروں میں قائم کردہ صنعتی زون سے فیڈ بیک نہیں مل سکا، جس کی کئی وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح ہماری ملک کی ترقی کیلئے ایکسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے ہمارا ملک اکانومی طور پر مستحکم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کی دیگر سائٹس کو ری اسٹور کرنے کیلئے حکومت کوشش کررہی ہے، اور سندھودریا کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خوشحال سندھ کا تصور بہتر تعلیم سے ہی وابستہ ہے، اب کاپی کلچر کی سوچ اپنی منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے، خود کاپی کرنے والے لوگ اپنے بچوں کو کاپی سے منح کرنے سمیت معیاری تعلیم دینے پر عمل پیرا ہیں،اس لئے سندھ کی تعلیم کا بہتر مستقبل نظر آرہا ہے، ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ودیگر ممالک میں ہمارا لیبر غیر تربیت یافتہ ہونے کے باعث کم پیسہ کما رہا ہے جبکہ دیگر ممالک کا لیبر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے پر کشش زرمبادلہ کما رہا ہے، اس لئے ہمیں نوجوانوں کو تربیت یافتہ بنانے پر خاص توجہ دینی چاہئے تاکہ یہاں بیرگاری پر قابو پایا جائے اور ملک کو بھی زرِ مبادلہ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی کے اندر فیکٹری جل جانے سے بہت بڑا نقصان ہوا،اسی وجہ سے سرمایہ کار ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان ایکسیلینس کلب کے چیئرمین حمید بھٹو نے کہا کہ نسیم غنی سہتو نے مختصر عرصے میں سندھ کی صنعت کی ترقی کیلئے قابل تحسین اقدامات کئے ہیں۔ ملک باالخصوص سندھ کی ترقی کیلئے جو ایکسیلینس لوگ بہتر انداز میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی پذیرائی کیلئے اس طرح کے پروگراموں کا انعقادا کرنا ایکسیلینس کلب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسیلینس کلب مسلسل پاکستان کی ترقی کیلئے کام کر نے والے آفیسرز کے ساتھ شام منعقد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری افسران کی محنت کی بدولت ہی ملک اور صوبہ سندھ ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نیا کہا کہ سول سوسائٹی کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ افسران مزید محنت او لگن سے کام کرکے ملک کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی غلام سرور جمالی، سابق سیکریٹری شمس جعفرانی، سابق ایم پی اے سید وقارشاہ، پاکستان ایکسیلینس کا چیف پیٹرن انور علی سانگی، سابق جیل سپرنٹنڈنٹ سید شاکر شاہ، بزنس مین محمد شاہد صابر، کیپٹن شاہ عالم، عبدالنبی میمن، محمد اختر آرائین، منور الدین میمن، یو ایس ای پاک بزنس ڈولپمینٹ کاؤنسل کے چیئرمین سید تراب شاہ، جنرل سیکریٹری سید امین الحسینی، پروفیسر ابراہیم خشک، محمد اسلم شیخ، اعجاز کھوکھر، مبشرمیر، عزیز مہیسر، نیو فروٹ منڈی کے چیئرمین زاہد اعوان، فرحان وزیر، مہوش چوہان، رانی چوہان، ہمنا خان، سیدہ تبسم، جاوید اختر ناز، سید فاروق شاہ، محمد عرس شیخ، حاکم ناریجو، بابر عباس، علیزہ شاہ، فدا حسین جیسر، خاں افسر خان، منظور حسین لاڑک، نسیم بھٹو،حنیف ساگر،وقاص چوھدری، عدنان بشیر،ڈاکٹر لبنیٰ صدیقی، کرن اقبال، محمد حسن، محمد حسان، ملک عظمت، اویس شجا ودیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومت کی کارکردگی میں نسیم غنی سہتو کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر