لاہور میں گرفتار یاں، وکلاء کی احتجاجی ریلی، کل اہم فیصلوں کا امکان

    لاہور میں گرفتار یاں، وکلاء کی احتجاجی ریلی، کل اہم فیصلوں کا امکان

  



ملتان (خبر نگار خصوصی) لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان تنازعہ کے معاملے پر وکلاء کی گرفتاریوں پر صوبہ بھر کی طرح ملتان میں بھی ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس پر ہائیکورٹ و ڈسٹرکٹ بار ملتان کی جانب سے بھی مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا گیا اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے(بقیہ نمبر29صفحہ7پر)

جس کے باعث مقدمات کی سماعت ملتوی کردی گئی اور دور دراز سے آئے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا رہا ہے۔جبکہ گرفتار ملزمان کو تھانوں اور جیلوں سے بھی مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس ضمن میں ہائیکورٹ و ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وکلاء کی گرفتاریوں اور ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر وکلاء ہڑتال پر ہیں۔جس پر ہائیکورٹ و ڈسٹرکٹ بار ملتان نے مکمل ہڑتال کی ہے۔تاہم وکلاء ہڑتال کے باعث مقدمات کی سماعت ملتوی کردی گئی اور دور دراز سے آئے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لاہور کارڈیالوجی ہسپتال کے واقعہ پر ملتان بار نے احتجاجی اجلاس منعقد کیا جس میں سینئر وکلاء سمیت کثیر تعداد میں وکلاء نے شرکت کی وکلاء گرفتاریوں کے پیش نظر لائحہ عمل بھی تیار کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے چوک کچہری تک ریلی نکالی جس کے باعث ٹریفک بلاک رہی ہے۔تقریب سے صدر بار ناظم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں وکلاء کو بگتر بند گاڑیوں میں وکلاء کو لے جایا جاتا تھا،وکلاء کسی مریض کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے، تشدد بھی وکلاء پر ہوا مقدمہ بھی وکلاء پر ہوا ہے جس کی وہ شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وکلاء پر درج مقدمات کو فوری طور پر خارج کیا جائے۔19 دسمبر کو لاہور کنونشن میں مزید فیصلے کیے جائیں گے۔نائب صدر بابر سوئیکارنو نے کہا کہ ان کے بزرگوں نے مشکلات برداشت کیں لیکن حق سے نہیں ہٹے، وکلاء کی رگوں میں انقلابی خون ہے، کسی ڈکٹیٹر کے ظلموں سے بھی نہیں ڈرے۔جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار افضل بشیر انصاری نے کہا کہ وکلاء سے ٹکرانے والے سابق جنرل مشرف کو سزائے موت ہوگئی ہے۔14 سال سے وکالت کررہا ہوں کبھی عدالت میں اکیلے فریق کا مقدمہ نہیں دیکھا، حق کو دبایا نہیں جاسکتا، وکلاء نے پرامن مظاہرے ہی کیے ہیں۔ ڈاکٹرز نے اشتعال دلوایا تو ایسا واقعہ رونما ہوا ہے، چند روز میں سچ سامنے آجائیگا،سابق صدر ہائیکورٹ بار شیر زمان قریشی نے کہا کہ میڈیا نے بغیر تحقیق کے خبریں نہ دیں، مریضوں کے ماسک اتارنے کی کوئی ویڈیو ہے تو سامنے لائی جائے،میڈیا کو قانون کے بارے میں کوئی علم نہیں،تنازعہ کی وجہ بننے والے ڈاکٹر عرفان پر قتل اور زیادتی کا مقدمہ درج ہے لیکن پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ یہ تنازع بھی ایک سازش کے تحت ہوا ہے۔ ہسپتال میں آنسو گیس کا استعمال بھی جائز نہیں ہے۔اس موقع پر سینئر قانون دان اعتزاز احسن کے خلاف شیم شیم کے نعرہ بھی بلند کیے گئے جبکہ سابق صدر شیر زمان قریشی کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار میں قائم اعتزاز احسن بلاک کا نام بدلنے کی تجویز بھی پیش کی گئی جس پر وکلاء نے ہاتھ بلند کرنے کی تجویز کو منظور کرنے کا کہا ہے۔

ریلی

مزید : ملتان صفحہ آخر