معروف شاعر مجیب الرحمن کے اعزاز میں تعزیتی ریفرنس، مرحوم کی ادبی وثقافتی خدمات کو خراج تحسین

معروف شاعر مجیب الرحمن کے اعزاز میں تعزیتی ریفرنس، مرحوم کی ادبی وثقافتی ...

  



بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)سولہ دسمبرکے سانحات قوم کیلئے درد انگیز بھی ہیں اور سبق آموز بھی! سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا المناک باب ہے (بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

قائد اعظم نے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت عطا کی تھی جو ہماری کوتاہیوں اور دشمن کی ساز شوں کے نتیجے میں دولخت ہوگئی پوری اسلامی تاریخ میں ایسی پسپائی کی کوئی مثال نہیں ملتی اسی طرح آرمی پبلک اسکول پشاور میں درجنوں پھول سے بچوں کا قتل عام ایسی سفاکی اور درندگی تھی جس نے پاکستانی قوم ہی کے نہیں پوری دنیائے انسانیت کے دل دہلا کر رکھ دئے اسی دلدوز حادثہ کے نتیجے میں پوری قوم نے متحد ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا یا اور ہماری عسکری قوتوں نے پوری ریاستی طاقت کیساتھ دہشت گردی کی کمر توڑ کر کے رکھ دی۔ معروف پارلیمنٹرین نظریہ پاکستان فورم کے ضلعی سربراہ اور دانشور سید تابش الوری تمغہ امتیاز ایک ثقافتی تقریب سے صدارتی خطاب کر رہے تھے انھوں نے کہا کہ زندہ قومیں ایسے بڑے واقعات سے سبق حاصل کرتی ہیں اور انکے محرکات و نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا کرتی ہیں۔ انھوں نے معروف شاعر مجیب الرحمن کے بارے میں جن کیلئے تعزیتی ریفرینس کیا جارہا تھا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہاولپور میں نعت گوئی کی پہچان تھے حمدو نعت کے فروغ کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائینگی مہمان خصوصی پروفیسر قاسم جلالاور عبدالمالک تھے انھوں نے مجلس ثقافت پاکستان اور سید تابش الوری کو انکی ادبی و ثقافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجیب الرحمن ایک وضعدار انسان اور سلاست بیان شاعر تھے اسلم جاوید قیوم سرکش اشرف خان افتخار علی اور عمران واقف نے کہاکہ مجیب ایک سچے عاشق رسول تھے انکی نعتیں حضور سے انکی والہانہ محبت و عقیدت کی آئینہ دار ہیں وہ ایک بڑے خاندان کا فرد ہونے کے باوجود بیحد ملنسار عاجز اور خلیق انسان تھے ان کی وفات سے تہذیب و اخلاق کا ایک دور ختم ہو گیا ہے تقریب کی نظامت سعید سلطان اور افتخار علی نے کی مشاعرے میں سید تابش الوری ڈاکٹر قاسم جلال عبدالمالک قیوم سرکش اشرف خان عمران واقف ہمایوں ذکی اسلم جاوید ناصر سیال شبیر کلامی نے اپنا کلام پیش کیا۔

خراج تحسین

مزید : ملتان صفحہ آخر