پرویز مشرف کیخلاف فیصلے سے عدلیہ کی بالا دستی شروع ہوگئی، جاوید ہاشمی

پرویز مشرف کیخلاف فیصلے سے عدلیہ کی بالا دستی شروع ہوگئی، جاوید ہاشمی

  



ملتان (نیوز رپورٹر) سینئر سیاستدان و لیگی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ جنرل مشرف غداری کیس میں عدلیہ نے پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک تاریخ ساز فیصلہ دے کر آئین کی بالادستی پر مہر ثبت کردی ہے آج پرویز مشرف کو جو سزائے موت سنائی گئی ہے اس پر عملدرآمد ہوگا کہ نہیں لیکن عدلیہ کی بالادستی کا آغاز ہوگیا ہے ماضی میں عدالتیں نظریہ ضرورت کے تحت آئین توڑنے والوں کو سہولتیں فراہم کرتی آئی ہیں (بقیہ نمبر33صفحہ12پر)

لیکن آج آئین و قانون کی جنگ لڑنے والے جیت چکے ہیں مجھے جنرل پرویز مشرف کے خلاف آنیولے فیصلے پر خوشی نہیں لیکن جو ڈکٹیٹرز آئین کو پھانسی دیتے آئے ہیں آج عدلیہ نے آئین کا مذاق اڑانے والے کو پھانسی کی سزا سنادی ہے اپنی رہائشگاہ پی سی کالونی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ سولہ دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا اور سترہ دسمبر کا دن ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بقاء کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و جمہوریت کے تسلسل کی جنگ قوم 72 سالوں سے لڑرہی ہے چار ڈکٹیٹر آئے ایک ہی تقریر کرتے تھے لیکن عدلیہ کو ہمت نہ ہوئی کہ علامتی طور پر ان کے خلاف کوئی فیصلہ دیا جاتا برطانیہ میں بڈسکٹر کرام بل کو علامتی سزاموت دی گئی پرویز مشرف کو سزا سنائی گئی یہ عدلیہ کی بالادستی کا دن ہے پرویز مشرف نے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کی،ہم نے اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیا مشرف نے غداری کیس میں جیل میں رکھا اور واضح طور پر کہا کہ بگٹی اور ہاشمی کو زندہ نہیں رہنے دوں گا عدلیہ نے مجھے غداری کیس میں بری کردیا مشرف نے کہا کہ آئین بڑا ہے یا پاکستان اور آئین توڑنا میرا حق ہے جرم کیا ہے تو سزا ملنی چاہیے، 72 سال آئین کو توڑا جاتا رہا پرویز مشرف نے ایک شخص کے لیے ملک بیچ دیا انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار کے منع کرنے کے باوجود نوازشریف ڈٹا رہا کیس کی پیروی کرنے والے وکیل اکرم شیخ کو خوفزدہ کیا گیا نواز شریف کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اس نے آئین شکن شخص مشرف کے خلاف غداری کیس چلوایا۔ آئین کی بقا کی جنگ ہم جیت چکے ہیں، آئین،قانون اور سول سوسائٹی کے لوگ جیت گئے جنہوں نے قربانیاں دی عدلیہ کو سلوٹ پیش کرتا ہو،جنہوں نے مشرف کو سزا سنائی نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہو جنہوں نے مشرف کیس پر ڈٹے رہے،چوہدری نثار کی ایک نہ سنی مقدمے کی پیروی کرنے والوں کو گھروں میں جا کر تنگ کیا گیا آنے والا وقت جمہوریت کا ہے لوگ سکون سے سو جائیں اب مارشل نہیں لگے گا اسکاراستہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا اگر آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا قانون پاس کیا گیا تو میں ہمیشہ کے لیے سیاست کو خیر آباد کہہ دوں گا آرمی چیف کو کسی صورت ایکسٹینشن نہیں ملنی چاہیے قومیں اسی طرح زندہ رہتی ہیں کہ جب وہ حالت جنگ میں بھی بڑے بڑے عہدے داروں کو مدت پوری ہونے پر گھر بھیج دیتے ہیں اس وقت پرویز مشرف بیماری کے بستر پر ہے مگر جسٹس صاحبان کو سلام پیش کرتا ہوں۔

جاوید ہاشمی

مزید : ملتان صفحہ آخر