محکمہ ریلوے: سگنل سٹاف اضافی ڈیوٹیاں کرنے پر مجبور، احتجاج کی تیاریاں

محکمہ ریلوے: سگنل سٹاف اضافی ڈیوٹیاں کرنے پر مجبور، احتجاج کی تیاریاں

  



ملتان(نمائندہ خصوصی) نئے پاکستان میں جہاں ہر جانب قانون کے اطلاق کے نعرے گونجتے نظر آتے ہیں وہیں ریلوے کلاس تھری کا سگنل سٹاف عملہ کی کمی کے باعث چوبیس چوبیس گھنٹے ڈیوٹیاں کرنے پر مجبور ہیں،جبکہ دوسری جانب ریلوے کے انہی ملازمین کے 22 ماہ سے رکے ہوئے ٹریولنگ الاؤنس کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہی،جبکہ ریلوے ورکرز یونین اور سگنل سٹاف ایسوسی ایشن کے رہنما سلیم چشتی نے اس حوالے سے بتایا کہ سگنل کلاس تھری سٹاف کے 22 ماہ سے روکے ہوئے ٹی اے فوری ادا کئے(بقیہ نمبر39صفحہ12پر)

جائیں سگنل سٹاف کی ڈیوٹی عالمی قانون کے مطابق آٹھ گھنٹے کی جائیں،دیگر رہنماؤں رانا ابرار عالم،تحسین ارشد کھوکھر نے کہا کہ سگنل سٹاف پاکستان ریلوے میں وہ واحد شعبہ ہے جس کے ملازمین کے ساتھ ریلوے انتظامیہ نے ناروا سلوک رکھا ہوا ہے ملک بھر میں صرف سگنل سٹاف کے ٹی اے کے لئے بجٹ نہیں دیا جاتا جبکہ دیگر شعبہ جات کے ملازمین کو مقررہ تاریخ کو ٹی اے ادا کیا جاتا ہے مزید یہ کہ عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریلوے سگنل سٹاف سے 24 گھنٹے ڈیوٹی لی جارہی ہے جو کہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اس موقع پر مرکزی صدر سگنل سٹاف ایسوسی ایشن رانا ابرار عالم نے کہا کہ ریلوے سگنل سٹاف کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہونا پڑیگا تاکہ تمام سگنل سٹاف کے حقوق کے لئے آواز بلند کی جاسکے،عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کے مطابق سگنل سٹاف سے آٹھ گھنٹے ڈیوٹی لی جائے اور تقریبا 22 ماہ سے روکے ہوئے سگنل سٹاف کلاس تھری کے ٹی اے فوری طور پر ادا کئے جائیں۔

تیاریاں

مزید : ملتان صفحہ آخر