قبائلی عوام کا کسی قسم کا استحصال نہیں ہوگا، امن کی بقا کیلئے ہرقربانی کو تیار ہیں: محمود خان

قبائلی عوام کا کسی قسم کا استحصال نہیں ہوگا، امن کی بقا کیلئے ہرقربانی کو ...

  



پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع مہمند میں پاک افغان سرحد کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور سلالہ پوسٹ پر تعینات پاک فوج کے جوانوں سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے بارڈر پر سکیورٹی فورٹ کا افتتاح بھی کیا۔آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم احمد خان بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔دریں اثناء وزیراعلیٰ نے مامد گاٹ کیڈٹ کالج کا دورہ بھی کیا اور کہا ہے کہ وہ ضلع مہمند کے اگلے دورہ کے دوران مامد گاٹ کیڈٹ کالج کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔77 ایکٹر اراضی پر محیط 760 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے مامد گاٹ کیڈٹ کالج میں مجموعی طور پر900 طلباء کی استعداد موجود ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ انضمام مخالف عناصر کی سازشوں کے باوجود سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام مکمل ہو چکا ہے۔ اب موجودہ حکومت کی توجہ قبائلی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور اداروں کو بحال و فعال کرنے پر مرکوز ہے، اُنہوں نے یقین دلایا کہ قبائلی عوام کا کسی قسم کا استحصال نہیں ہو گا، قانونی، مالی، سماجی اور معاشی تمام تر حقوق کی فراہمی ممکن بنائیں گے۔ صوبائی حکومت کے صحت انصاف کارڈ، انصاف روزگار سکیم اور دیگر فوری اثرات کے حامل منصوبے قبائلی عوام کیلئے سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ہم امن کی بقاء کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ضلع مہمند کے دورہ کے دوران مامد گاٹ کیڈٹ کالج میں بریفینگ اور باجوڑ اور مہمند کے قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے مامد گاٹ کیڈٹ کالج کا دورہ کیا اور کالج میں تعمیر کی گئی مختلف سہولیات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ کالج 760 ملین روپے کی لاگت سے 14 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔کالج میں مجموعی طور پر 900 طلباء کیلئے گنجائش موجود ہے جبکہ دو ہاسٹلز میں مجموعی طور پر 400 بورڈنگ کیڈٹس کی سہولت بھی دستیاب ہو گی۔ کالج میں بیچلرٹیچرز کیلئے رہائش بنائی گئی ہے جس میں 16 اساتذہ کی رہائش کا انتظام موجود ہے۔ علاوہ ازیں شادی شدہ اساتذہ کیلئے بھی 6 گھر تعمیر کئے گئے ہیں۔ کیڈٹس کیلئے پارک، مسجدا ور میڈیکل فرسٹ ایڈ کی سہولت سمیت ایک وسیع لائبریری بھی قائم کی گئی ہے جو مشرقی و مغربی کلچر اور مختلف مضامین پر مبنی 11,000 کتابوں پر مشتمل ہے۔ تین سکیورٹی چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں جبکہ مستقبل کے پلان میں ایک اضافی سکیورٹی چیک پوسٹ کا قیام، اضافی سٹاف کیلئے رہائش کا انتظام اور کالج کی سولرائزیشن بھی شامل ہے۔کیڈٹس کے سپیشل کوٹہ کے تحت کالج میں ضلع مہمند اور ضلع باجوڑ کیلئے فی کلاس 20,20 سیٹیں جبکہ ضلع خیبر کیلئے فی کلاس 10 سیٹیں مختص کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج کی تیز رفتار تکمیل کو سراہا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے آئندہ دورے کے دوران کالج کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔بعدازاں قبائلی عمائدین کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان نے کہاکہ قبائلی عوام سے وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ کی طرف سے کئے گئے تمام اعلانات اور وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جارہا ہے۔ قبائلی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت وزیراعظم اور آرمی چیف قبائلی اضلاع پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں کیلئے 83 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ پہلے صرف24 ارب روپے ہوا کرتے تھے۔ صوبائی حکومت نے اپنی اے ڈی پی سے 11 ارب روپے قبائلی اضلاع کیلئے فراہم کرکے ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ دوسرے صوبوں سے بھی کہیں گے کہ وہ قبائلی اضلاع کی ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ محمود خان نے کہاکہ موجودہ حکومت کو قبائلی عوام کے مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور قبائلی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے قبائلی علاقوں کیلئے علیحدہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کیا ہے جس کے تحت قبائلی عوام کا خاص خیال رکھا جائے گا تاکہ اُنہیں اُن کا حق مل سکے۔ اُنہوں نے کہاکہ اگراس قانون میں بھی قبائلی عوام کو تحفظات ہوئے تو حکومت قبائلی عمائدین اور حکومتی اراکین پر مشتمل کمیٹی بنادے گی جو تحفظات دور کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ تمام تر مخالفت کے باوجود انضمام ہو چکا ہے اب قبائلی علاقے خیبرپختونخوا کا باقاعدہ اور باضابطہ حصہ ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ کسی بھی علاقے کی ترقی کیلئے امن بنیادی ضرورت ہے، گزشتہ سالوں میں بد ترین بد امنی اور شدت پسندی نے ان علاقوں کو تباہ کرکے رکھ دیا تھا۔ بڑی قربانیوں کے بعد امن کی بحالی ممکن ہو ئی ہے، جس کی بقاء کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ موجودہ حکومت پہلے سے موجود اداروں اور انفراسٹرکچر کو فعال بنانے کیلئے کوشاں ہے، تعلیم،صحت اور دیگر اداروں میں زیادہ تر سٹاف فراہم کیا جا چکا ہے اور کچھ پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بجلی کے مسئلے کو وہ اعلیٰ وفاقی فورم پر اُٹھائیں گے تاکہ یہ مسئلہ جلد حل ہو سکے۔ خاصہ دار اور لیویز کا پولیس میں انضمام مکمل کرنے کیلئے فنڈز پہلے سے مختص کئے جاچکے ہیں۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...