غداری کیس کا فیصلہ جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کیلئے نیک شگون ہے، اسفذ یارولی خان

غداری کیس کا فیصلہ جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کیلئے نیک شگون ہے، اسفذ ...

  



پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ آنا جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کیلئے نیک شگون ہے،آمر پرویز مشرف نے آئین توڑ کر سنگین غداری کی تھی، بدقسمتی ہے کہ آج مسند اقتدار پر بیٹھی تحریک انصاف حکومت بھی ان کی ہمنوابن چکی ہے،قانون سب کیلئے ایک کا نعرہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کیلئے لگایا گیا۔آئین کی بالادستی پاکستان کی بقاء کی ضمانت ہے۔پرویز مشرف کے دور میں 12مئی2007جیسا واقعہ بھی رونما ہوا تھا،اُس واقعے کے شہدا اور متاثرین کو انصاف کون دلائے گا۔ولی باغ چارسدہ سے جاری اپنے بیان میں اسفندیار ولی خان نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی اور مضبوطی کیلئے نیک شگون ہے،پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی کے نفاذ سے آئین کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا تھا،جس سے وہ آئین پاکستان کے رو سے سنگین غداری کے مرتکب ہوئے تھے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ تبدیلی سرکار بھی پرویز مشرف کی ہمنوا بن چکی ہے،عدالتی فیصلے کو روکنے کیلئے جو حربے استعمال کیے گئے دراصل وہ جمہوریت اور آئین کے ساتھ مذاق تھا،اب بھی ایسی باز گشت کی جارہی ہے کہ وفاقی حکومت اس فیصلے کو چیلنج کریگی۔اگر وفاقی حکومت ایسا ہی ارادہ ہے تو پھر عمران خان پرویز مشرف کے حوالے سے اپنے پرانے بیانات کی بھی وضاحت کریں کہ کیا وہ ماضی میں جو کہتا تھا غلط کہہ رہا تھا۔اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ ثابت ہورہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے قانون سب کیلئے ایک کا نعرہ محض دھوکہ اور فریب تھا کیونکہ آج پوری حکومتی مشینری آئین کا مذاق اڑانے والے کو بچانے میں مصروف عمل ہے۔ آئین کی بالادستی پاکستان کی بقاء کی ضمانت ہے،اگر روز اول سے آئین کا مذاق نہ اڑایا جاتا تو آج پاکستان کو نہ ہی دہشتگردی کے عفریت کا سامنا ہوتا اور نہ ہی آج پاکستان دو ٹکڑے ہوتا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں 12مئی2007جیسا واقعہ بھی رونما ہوا تھا،اُس واقعے کے شہدا اور متاثرین کو انصاف کون دلائے گا کیونکہ اُن شہدا کے لواحقین اور 12مئی کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، وہ شہدا اور متاثرین عدلیہ اور آئین کے بحالی کیلئے احتجاج کررہے تھے۔

مزید : صفحہ اول