موٹروے کے ٹول ٹیکس میں اضافہ کس فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حیران کن انکشاف ہو گیا

موٹروے کے ٹول ٹیکس میں اضافہ کس فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے؟ سینیٹ کی قائمہ ...
موٹروے کے ٹول ٹیکس میں اضافہ کس فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حیران کن انکشاف ہو گیا

  



اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی نے موٹروے پر ٹول ٹیکس میں اضافے کے فارمولے پر بریفنگ طلب کر لی، جبکہ این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ ساڑھے بارہ ہزار کلومیٹر کا روڈ نیٹ ورک ہے،ہمیں سڑکوں کو بہتر کنڈیشن پر رکھنے کے لیئے سالانہ 92ارب روپے درکار ہوتے ہیں جبکہ ہم سالانہ 42ارب روپے جنریٹ کر رہے ہیں، مینٹیننس کے لیئے سالانہ 40سے 50ارب روپے کا شارٹ فال رہتا ہے، پشاور موڑ سے نیوا سلام آباد ایئرپورٹ تک میٹرو بس کا منصوبہ مارچ2020 تک مکمل تک کریں گے۔

منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے دوران موٹر وے پر سالانہ ٹول ٹیکس کے ریٹس کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، کمیٹی نے 2014-15 میں موٹروے پر ٹول ٹیکس میں دیگر سالوں کی نسبت زیادہ اضافے پر حیرانی کا اظہار کیا، رکن کمیٹی سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ فارمولا کوئی نہیں ہے اپنی مرضی کے ریٹس لگائے جا رہے ہیں، این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ساڑھے بارہ ہزار کلومیٹر کا روڈ نیٹ ورک ہے،ہمیں سڑکوں کو بہتر کنڈیشن پر رکھنے کے لیئے سالانہ 92ارب روپے درکار ہوتے ہیں جبکہ ہم سالانہ 42ارب روپے جنریٹ کر رہے ہیں۔

مینٹیننس کے لیئے سالانہ 40سے 50ارب روپے کا شارٹ فال رہتا ہے، ہم نے مینٹیننس کی تمام ضروریات خود پوری کرنی ہوتی ہیں،این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پشاور موڑ سے نیوا سلام آباد ایئرپورٹ تک میٹرو بس منصوبے کے دو پورشن مکمل ہو گئے ہیں،کوشش ہے کہ مارچ تک منصوبے کو مکمل تک کریں گے۔ اجلاس کے دوران گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان پربریفنگ دی جانی تھی تاہم بریفنگ موخر کر دیا گیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد