سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والے جسٹس سیٹھ وقار کون ہیں ؟ وہ معلومات جو آپ جاننا چاہتے ہیں

سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والے جسٹس سیٹھ وقار کون ہیں ...
سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والے جسٹس سیٹھ وقار کون ہیں ؟ وہ معلومات جو آپ جاننا چاہتے ہیں

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیلئے سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کا حصہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سمیت تین ججوں میں کون کیا ہے؟ روزنامہ جنگ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ان کی پروفائل کے مطابق چیف جسٹس پشار ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ، جنہوں نے خصوصی ٹریبونل کی سربراہی کی، 16 مارچ 1961 کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک معزز کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم 1977 میں کنٹونمنٹ پبلک اسکول پشاور اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی سند 1977 میں فیڈرل گورنمنٹ انٹر کالج فار بوائز سے حاصل کی۔ جسٹس سیٹھ نے 1981 میں پشاور کے اسلامیہ کالج سے بیچلر آف سائنس اور جامعہ پشاور سے 1982 میں بیچلر آف آرٹس (اضافی) ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے خیبر لاءکالج پشاور سے 1985 میں ایل ایل بی اور جامعہ پشاور سے 1986 میں ایم اے (پولیٹیکل سائنس) کیا۔ ماتحت عدالتوں کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے 18 دسمبر 1985، ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے 22 مارچ 1990 اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے 24 مئی 2008 کو ان کا اندراج ہوا۔

انہیں بنچ میں بطور ایڈیشنل جج 2 اگست 2011 کو ترقی دی گئی، وہ پشاور ہائی کورٹ کے بینکنگ جج اور کمپنی جج رہے۔ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے 28 جون 2018 کو حلف اٹھایا اور 62 سال کی عمر کو پہنچ کر 18 مارچ 2023 میں ریٹائر ہوجائیں گے۔ تاہم اگر انہیں سپریم کورٹ ترقی دی گئی تو وہ 16 مارچ 2026 کو ریٹائر ہوں گے۔

20 اگست 1964 کو پیدا ہونے والے جسٹس شاہد کریم کا تقرر بطور جج لاہور ہائی کورٹ 7 نومبر 2014 کو ہوا اور وہ 19 اگست 2026 کو ریٹائر ہوں گے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے 45 جسٹسز کی سینیارٹی لسٹ میں 24 نمبر پر ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر 7 اگست 1959 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 18 جنوری 1986 کو بطور ایڈوکیٹ اندراج کرایا، 23 جولائی 1989 کو سندھ ہائی کورٹ کے وکیل بنے اور 26 فروری 2005 کو سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ بنے۔

انہوں نے جامعہ کراچی سے 1979 میں انگریزی ادب میں صحافت اور نفسیات بطور ضمنی مضامین بی اے ا?نرز کیا، 1980 میں جامعہ کراچی سے نگریزی ادب میں ایم اے کیا، 1983 میں ایس ایم لائ کالج سے ایل ایل بی اور ایس ایم لائ کالج سے 1987 میں ایل ایل ایم کیا۔

جسٹس نذر اکبر 1977-78 میں کراچی یونیورسٹی کے انگریزی ڈپارٹمنٹ کی انگلش لٹریسی سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری، 1978-79 میں کراچی یونیورسٹی کے انگریزی ڈپارٹمنٹ کی انگلش لٹریسی سوسائٹی کے نائب صدر اور 1978-79 کے انگریزی ڈپارٹمنٹ کے سالانہ میگزین ’ہارویسٹ‘ کے میگزین سیکریٹری منتخب ہوئے۔ انہوں نے کراچی میں 18 جنوری 1986 سے 14 مئی 1987 تک بطور ایڈوکیٹ پریکٹس کی۔

انہوں نے 15 مئی 1989 تا 10 نومبر 1988 سول جج اور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے 23 جولائی 1989 کو ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے اندراج کرایا۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جرنل میں پاکستان میں عدلیہ اور بار کا کردار، کراچی کے پندرہ روزہ ’دی لاء‘جرنل میں ’دی فرسٹ تھنگ وی ڈو، لیٹس کل آل دی لایرز اینڈ اے تارا ماشی‘ شائع ہوئے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد