آزادکشمیر کے موجودہ سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے تقسیم کشمیر کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا:فاروق حیدر خان

آزادکشمیر کے موجودہ سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے تقسیم کشمیر کی ہر سازش کو ...
آزادکشمیر کے موجودہ سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے تقسیم کشمیر کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا:فاروق حیدر خان

  



راولپنڈی(صباح نیوز) آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ قانون ساز اسمبلی نے ان کیمرہ سیشن میں متفقہ طور پر واضح کر دیا ہے کہ آزادکشمیر کے موجودہ سٹیٹس کو برقراررکھتے ہوئے تقسیم کشمیر کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا،وزیراعظم پاکستان تمام کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیں اور ان سے بات کریں،کشمیر پر پالیسی پارلیمینٹ سے فلو کرنی چاہیے،پاکستان کے سارے ادارے قابل احترام ہیں ہمیں ان کے معاملات میں مداخلت کی ضرورت نہیں، ہمارا رشتہ پاکستانی عوام کے ساتھ ہےکسی حکومت کے ساتھ نہیں،افواج پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ دفاع پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے پوری کشمیری قوم اپنی پاک فوج کی پشت پر ہے،بطور کشمیری میراووٹ پاکستان کےلیےہے،قائدکشمیر  چوہدری غلام عباس عظیم شخصیت اور چلتا پھرتا پاکستان تھے،اس ملک سے محبت ان کے خون میں تھی تھے،پاکستان کی سیاست کا تذکرہ اپنے اجتماعات میں نہ کیا جائے،اس سے تلخیاں ہی بڑھیں گی اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

 چوہدری غلام عباس خان کی 52 ویں برسی کے موقع پر ان کے مزار کے احاطے فیض آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےراجہ فاروق حیدر خان نے کہا قائد ملت کو قریب سے دیکھا ہے وہ انتہائی درویش صفت انسان تھے، کشمیری قیادت کی قدرو منزلت نہیں کی گئی، 1958 کے بعد انہیں ایبڈو بھی کیا گیا، اس کے باوجود قائد ملت نے کبھی پاکستان کے حکمرانوں کا گلہ نہیں کیا،ہمارا رشتہ پاکستان کے عوام کیساتھ ہے،ہمارے اکابرین نے پاکستان کیساتھ رہنے کا فیصلہ بغیر کسی حیل و حجت کے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکر آگے بڑھنا ہے آپس میں جس قدر اتحاد ہو گا ہماری آواز اتنی ہی موثر ہو گی،مسئلہ کشمیر کو بہادر کشمیری عوام نے زندہ رکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد ملت جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں،وہ کارکنوں کا بہت خیال رکھتے تھے،مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان بھی بڑی شخصیت تھے،ان کی شخصیت میں دبدبہ،وقار اور متانت تھی، ایسے لوگ اب نہیں آئیں گے مگر ان کے افکار زندہ رہیں گے،شیخ عبداللہ کی چالوں کو چوہدری غلام عباس نے ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ان کے بارے میں پتہ ہے انہیں ان کی شخصیت کے بارے میں لکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا وزارت امور کشمیر نے کشمیری قیادت کو لڑایا، وزارت امور کشمیر وزارت خارجہ کے برابر کی ہے، کشمیر ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے،بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کو کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے بتا دیا ہے کہ تقسیم کشمیر کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آزادکشمیر کے سٹیٹس کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے کشمیری فیس چاہیے، شملہ معاہدہ سے پاکستان دستبرداری کا اعلان کرے،وہ ایک مجبوری میں کیا گیا کیونکہ بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا ہے اس لئے ہمیں بھی اس معاہدے کی پاسداری کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جلاوطن کشمیر حکومت قائم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں جس کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ رائے شماری ہمارا حق ہے ہمیں اس پر اکٹھا ہونا ہو گا،کشمیر کے اندر مسلح جدوجہد جاری رہنی چاہیے،بھارت کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے،ہندو بنیے کی سائیکی ہے چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔انہوں نے کہا مجھے جب بھی رائے شماری کا حق ملے گا میرا ووٹ پاکستان کے حق میں ہو گا اس میں مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے، تقسیم کشمیر ہماری زندگی میں نہیں ہو سکتا یہی مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے بھی کہی تھی،مودی نے تقسیم کشمیر پر عمل کر دیا اسنے اپنا کام کر دیا۔انہوں نے کہا ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اختیار حاصل ہے کہ ہم اپنی آزادی کی جنگ لڑیں، لاک ڈاون کو 135 دن ہو چکے ہیں، کشمیر کی آزادی کی بنیادی ذمہ داری آزادکشمیر کی حکومت اور عوام پر بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ پاک کے دربار میں حاضری دینی ہے وہاں ہم سے کشمیر کے متعلق سوال ہو گا ہمیں یہ اپنے ذہین میں رکھنا ہے، حکومت پاکستان سے ہمیں بڑی توقعات ہیں کشمیر کے حوالے میں کسی بھی فیصلے سے پہلے ہمیں اعتماد میں لیں، وزیراعظم پاکستان تمام کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیں ہم سے بات کریں،پالیسی کو پارلیمینٹ سے فلو کرنا چاہیے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی


loading...