’ابھی اس پیشے سے استعفیٰ دے دو‘ وکیل کی ایسی حرکت کہ جج نے کمرہ عدالت میں ہی اس کا کیریئر ختم کردیا

’ابھی اس پیشے سے استعفیٰ دے دو‘ وکیل کی ایسی حرکت کہ جج نے کمرہ عدالت میں ہی ...
’ابھی اس پیشے سے استعفیٰ دے دو‘ وکیل کی ایسی حرکت کہ جج نے کمرہ عدالت میں ہی اس کا کیریئر ختم کردیا

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں وکلاءڈاکٹروں اور شہریوں کے گلے پڑ رہے ہیں اور امریکہ میں ایک وکیل وکیلوں ہی کے لتے لینے لگا اور ان کے متعلق ایسی گندی زبان استعمال کی کہ مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے اس سے وکالت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا۔ میل آن لائن کے مطابق امریکی شہر لاس اینجلس میں ایک میاں بیوی نے انشورنس کمپنی ’آل سٹیٹ‘ کے خلاف ساڑھے 3لاکھ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ ان کے 36لاکھ مالیت کے گھر کو پانی سے نقصان پہنچا تھا لیکن انشورنس کمپنی نے انشورنس کی رقم دینے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق کرسٹوفر ہک نامی وکیل ان میاں بیوی کی وکالت کر رہا تھا۔ اس نے آل سٹیٹ کی وکالت کرنے والی لاءفرم کے وکلاءکو کئی ای میلز کیں اور انہیں ننگی گالیاں دیں۔ وہ صرف اس فرم کے وکلاءتک محدود نہ رہا بلکہ دنیا بھر کے وکیلوں کو ہم جنس پرست لونڈے کہہ ڈالا۔ اس نے ای میل میں لکھا کہ ’30کروڑ 60لاکھ وکیل ہم جنس پرست لڑکے ہیں۔یہ سب پاخانہ کھائیں۔“

اس کے علاوہ بھی کرسٹوفر نے وکلاءکمیونٹی کو ماﺅں بہنوں کی ننگی گالیاں دیں اور ایسے الفاظ کہے جو یہاں ضبط تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔ جب اس کی اس کرتوت کا علم عدالت کے جج اوٹس رائٹ دوئم کو ہوا تو انہوں نے دوران سماعت کرسٹوفر سے مطالبہ کر دیا کہ ”تم فوری طور پر مستعفی ہو کر وکالت کا پیشہ چھوڑ دو۔ اس پیشے کو تمہارے جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔“ جج کے اس مطالبے پر کرسٹوفر نے بھی اکڑن دکھائی اور کہا کہ ”میں استعفیٰ کبھی نہیں دوں گا۔“ اس پر جج صاحب مزید غصے میں آ گئے اور اسے شٹ اپ کہتے ہوئے کہا کہ ”تمہیں وکالت کے پیشے سے نکالنے کے لیے میں جو کچھ کر سکا کروں گا۔ اب میں تمہیں اس پیشے سے منسلک نہیں رہنے دوں گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس