پاکستان میں مقیم ہندو برادری نے بھارت کی پیشکش ٹھکرادی، صاف انکار کردیا

پاکستان میں مقیم ہندو برادری نے بھارت کی پیشکش ٹھکرادی، صاف انکار کردیا
پاکستان میں مقیم ہندو برادری نے بھارت کی پیشکش ٹھکرادی، صاف انکار کردیا

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی ہندوبرادری نے مودی سرکار کی طرف سے بھارتی شہریت دیئے جانے کی پیشکش ٹھکرا دی۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق نریندرمودی سرکاری نے حال ہی میں ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بسنے والے ہندوﺅں، بدھ متوں، پارسیوں اور جین مت کے لوگوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔ اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جس پر پورے بھارت میں احتجاج کیا جا رہا ہے اور اسے مسلم مخالف قانون قرار دیا جا رہا ہے۔

مودی سرکاری نے بظاہر یہ قانون جس پاکستانی ہندو برادری کے لیے بنایا اس نے اس قانون کو یکسر رد کر دیا ہے۔ پاکستان ہندوکونسل کے سربراہ راجا اسر منگلانی کا کہنا ہے کہ ”پاکستان کی ہندوبرادری مودی سرکاری کی طرف سے منظور کیے گئے اس قانون کو اتفاق رائے سے مسترد کرتی ہے اور بھارتی وزیراعظم کو متفقہ طور پر یہ پیغام بھیجتی ہے کہ ان کا منظور کردہ قانون خود بھارت کے آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ کوئی سچا ہندو کبھی بھی اس قانون کی حمایت نہیں کرے گا۔ “

ایوان بالا کے پیپلزپارٹی کے مسیحی رکن انور لال ڈین کا کہنا تھا کہ ”اس قانون کا مقصد بھارت میں مختلف مذہبی طبقات کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کرنا ہے۔ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہم اسے دوٹوک مسترد کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنا، بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کیس میں فیصلہ اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتا تشدد مودی سرکاری کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ قانون بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔“رپورٹ کے مطابق پاکستانی سکھ کمیونٹی نے بھی اس متنازع بھارتی قانون کو مسترد کیا ہے۔ سکھ رہنما گوپال سنگھ کا کہنا تھاکہ ”صرف پاکستانی سکھ برادری ہی نہیں بلکہ دنیا بھر اور خود بھارت کے اندر رہنے والے سکھ بھی اس قانون کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔“گوپال سنگھ نے بھارتی وزیراعظم کو تلقین کی کہ وہ اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ مت لگائیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی